شمالی کوریا کے سپریم لیڈر صدر ٹرمپ پر ہنستے ہوں گے: سابق مشیر بولٹن

وہ خطوط جو صدر ٹرمپ نے میڈیا کو دکھائے وہ شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی کے پروپیگنڈا آفس نے لکھے ہیں، اس کے باوجود صدر نے انہیں اپنی گہری دوستی کے ثبوت کے طور پر دیکھا: جان بولٹن۔

دوستی کا مطلب بین الاقوامی سفارت کاری نہیں ہوتا: جان بولٹن (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر برائے سلامتی جان بولٹن نے اتوار کو کہا کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اَن امریکی ہم منصب کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے اُن کے خیالات پر بڑا سا قہقہہ لگاتے ہوں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بولٹن نے اپنی کتاب کے اجرا سے پہلے امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی نیوز کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ اس کتاب میں میں ٹرمپ پر کئی رسوا کن الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ کتاب منگل کو (کل) منظرعام پرآئے گی۔

جب صحافی مارتھا ریڈٹز نے اُن سے سوال کیا کہ آیا ٹرمپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ کِم جونگ اَن اُن سے محبت کرتے ہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ انہیں کوئی دوسری وضاحت نظر نہیں آتی۔

'میرا خیال ہے کہ کم جونگ ان اس بات پر زور دار قہقہہ لگاتے ہوں گے۔ وہ خطوط جو صدر نے میڈیا کو دکھائے ہیں وہ شمالی کوریا کی ورکرز پارٹی کے پروپیگنڈا آفس کے کسی عہدے دار نے لکھے۔ اس کے باوجود صدر نے انہیں اپنی گہری دوستی کے ثبوت کے طور پر دیکھا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ دوستی کا مطلب بین الاقوامی سفارت کاری نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹرمپ کو صدارت کے قابل نہیں سمجھتے اور انہیں امید ہے کہ وہ ایک ہی بار صدر کے عہدے کی ٹرم پوری کریں گے۔

بولٹن نے امید ظاہر کی کہ تاریخ انہیں ایک بار کے صدر کے طور پر یاد رکھے گی جنہوں نے ملک کو اس طرح زوال کا شکار نہیں بنایا جس کا ازالہ نہ ہوسکے۔ 'ہم ایسی تاریخ کو یاد نہیں کر سکتے۔ ہم ان کی ایک ہی مدت صدارت برداشت کر سکتے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ وہ نومبرکے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ یا ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن میں سے کسی کو ووٹ نہیں دیں گے، اس کی بجائے وہ بیلٹ پیپر پر کنزرویٹو ری پبلکن امیدوار کو تلاش کرکے ان کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے بولٹن کی کتاب کی اشاعت رکوانے کی کوشش کی تھی لیکن عدالت نے ہفتے کو اسے منظرعام پر آنے سے روکنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ کتاب کو مارکیٹ میں آنے سے روکنے کے معاملےمیں بہت دیر ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بولٹن کی کتاب کو افسانہ  قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ