آزادانہ نقل و حرکت کی درخواست: ’حکومت ڈاکٹر قدیر سے بات کرے‘

پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر کی جانب سے جمع کردہ آزادانہ نقل و حرکت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو ان سے ملاقات کرکے معاملے کا مثبت حل نکالنے کی ذمہ داری دے دی ہے۔

(اے ایف پی فائل)

پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر کی جانب سے جمع کردہ آزادانہ نقل و حرکت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو ان سے ملاقات کرکے معاملے کا مثبت حل نکالنے کی ذمہ داری دے دی ہے۔

منگل کو درخواست کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بہتر یہ ہو گا کہ حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بیٹھ جائے اور ڈاکٹر صاحب کو جو سہولیات چاہیے وہ حکومت کو بتا دیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ذی الشعور شخص ہیں۔ حکومت بات کرے گی تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ 'یہ انفرادی حقوق اور قومی مفاد کا معاملہ بھی ہے اس لیے میڈیا بھی اس کیس کی رپورٹنگ ذمہ داری کے ساتھ کرے۔'

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت سے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان قومی ہیرو ہیں ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے عدالت کو تجویز دی کہ دونوں فریقین کا موقف ان چیمبر سن لیا جائے۔ اس بات پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے جواب دیا کہ چیمبر میں ان کیمرا کارروائی مناسب نہیں ہو گی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ 'ڈاکٹر صاحب کچھ رعایت چاہتے ہوں گے، حکومت ان سے بات کرلے۔'

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ حکومت کی کچھ حدود ہیں، ڈاکٹر صاحب کو ان کو دیکھنا چاہیے۔'

ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل توفیق آصف نے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر کہتے ہیں کہ ان کو رشتہ داروں اور عزیز اقارب سے ملنے نہیں دیا جاتا۔

اس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وکلا کی ڈاکٹر قدیر سے ملاقات کروائی جائے اور سماعت کو تین ہفتے تک ملتوی کردیا۔

سماعت کے بعد انڈپیںڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کی اہلیہ پاکستانی نیشنل نہیں ہیں تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ یہ میرے لیے اپنا ملک چھوڑ کر آئی ہیں اور اب میرے ساتھ گھر میں نظر بند ہیں اور وہ اہلیہ کے سامنے بھی اس بات پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توفیق آصف نے کہا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے موکل سے ملاقات نہیں کر سکتے۔ پہلے اٹارنی جنرل پاکستان اُن سے ملاقات کریں گے اُس کے بعد اٹارنی جنرل اُن کی ملاقات طے کروائیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت میں ڈاکٹر قدیر خان کی بذریعہ عدالت جب وکیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے ہاتھ سے لکھا خط بھی عدالت تک پہنچایا تھا جس میں کہا تھا کہ حکومت نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ 'قید میں رکھنا میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔'

ڈاکٹر عبد القدیر کی درخواست کا متن

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے درخواست میں کہا ہے کہ ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے اور ان سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں جانے اور وہاں لیکچر دینے کی اجازت مانگی۔ 

درخواست میں مزید کہا گیا کہ جب وہ نیوکلئیر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھے اس وقت ان کے ساتھ گارڈز نہیں ہوتے تھے۔ 'اب جبکہ میں 84 سال سے زیادہ عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے۔ میں اپنے ملک میں ہی ہوں۔ اور باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں جان دے دوں گا کبھی ملک سےغداری نہیں کروں گا لیکن میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔'

نظر بندی کیوں ہوئی تھی؟

2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق واچ ڈاگ نے اسلام آباد کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستانی جوہری سائنس دانوں نے جوہری راز فروخت کیے ہیں۔

بعد ازاں سرکاری ٹی وی پر آ کر ڈاکٹر قدیر نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

فروری 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُن کی نظربندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر ایک آزاد شہری ہیں۔ عدالتی حکم میں ان کی نظربندی تو ختم کر دی گئی لیکن وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے کے پابند ہیں اور اس وقت سکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان