اسلام آباد میں پہلے مندر کا افتتاح، پر تعمیر کے لیے فنڈز نہیں

وفاقی دارالحکومت میں مندر کے قیام کے لیے پلاٹ تو مختص ہوگیا، اس کا افتتاح بھی اور اس میں پہلا اگنی سنسکار بھی، پر عمارت کی تعمیر کے لیے ابھی فنڈز بحال نہیں ہوئے۔

شری کرشنا مندر کے پلاٹ پر پہلا اگنی سنسکار 9 مئی کو رانجھو مل کا کیاگیا(تصویر: اشوک کمار)

اسلام آباد کے رہائشی اشوک کمار کے والد کی چند ماہ قبل طبیعت بہت خراب ہوئی تو ان کی آخری رسومات راولپنڈی میں واقع شمشان گھاٹ میں ادا کرنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ 

نوے سالہ رانجھو مل کی موت سے چند روز قبل ہی خاندان والوں کے علم میں آیا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے ایک پلاٹ ہندو پنچایت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اشوک کمار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'مجوزہ مندر کے پراجیکٹ میں شمشان گھاٹ بھی شامل ہے۔ ہم نے سوچا مندر تو جب بنے گا۔ کیوں نہ شمشان گھاٹ کی سہولت کو استعمال کیا جائے۔'

رانجھو مل 8 مئی کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ اور ان کی آخری رسومات وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی عمارت کے لیے مختص خالی پلاٹ پر ادا کی گئیں۔

اور یوں شہر اقتدار کی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط تاریخ میں پہلی مرتبہ یہاں رہنے والے ہندوؤں نے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کسی مردہ کی آخری رسومات ادا کیں۔

یاد رہے کہ ہندو مذہب کے مطابق موت کے بعد انسانی جسد خاکی کو آگ میں جلایا جاتا ہے۔ اس رسم کو اگنی سنسکار کہا جاتا ہے۔ اور جس مقام پر اگنی سنسکار کا اہتمام کیا جاتا ہے اسے شمشان گھاٹ۔

فنڈز کے بغیر تعمیر کا افتتاح 

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو کے جس پلاٹ پر رانجھو مل کی آگنی سنسکار کی رسم ادا کی گئی یہی وہ مقام ہے جہاں وفاقی دارالحکومت میں رہنے والے ہندوؤں کے لیے مندر تعمیر کیا جائے گا۔

اسلام آباد ہندو پنچایت نے اس مندر کا نام دنیا میں نیکو کاروں کی حفاظت اور برے لوگوں کا خاتمہ کرنے والے دیوتا کرشنا کے نام پر شری کرشنا مندر تجویز کیا ہے۔ 

شری کرشنا مندر کی تعمیر کا باقاعدہ افتتاح قومی اسمبلی میں انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی نے منگل کے روز کیا۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی وفاقی حکومت نے مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری نہیں دی ہے۔ اور نہ ہی مندر کی عمارت کا نقشہ اور دوسرے لوازمات کی منظوری ہو پائی ہے۔

لال چند ملہی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'ہم نے تعمیر کا افتتاح اس لیے کیا کہ کوئی پلاٹ پر قبضہ نہ کر لے۔ مقصد صرف زمین کو محفوظ کرنا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ فی الحال پلاٹ کے گرد ایک چار دیواری تعمیر کی جا رہی ہے۔ جس کے لیے پیسے ہندو برادری نے خود مہیا کیے ہیں۔ حکومتی فنڈ ملنے پر ہی مندر کی تعمیر شروع ہو سکے گی۔

ہندو پنچایت اسلام آباد کے صدر چوہدری مہیش کمار شری کرشنا مندر کی عمارت کے لیے پلاٹ مہیا کرنے پر وفاقی حکومت کا شکریہ تو ادا کیا۔ تاہم انہوں نے پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے فنڈز کی جلد از جلد اجرا کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لال چند ملہی نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کو پروپوزل بنا کر پیش کیا ہے۔ اور امید ہے کہ جلد ہی کوئی خوشخبری ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے پہلے مندر کے لیے وزیر اعظم کے سپیشل فنڈ سے دس کروڑ روپے ادا کیے جا سکتے ہیں۔

چوہدری مہیش کمار نے کہا کہ حکومتی فنڈز کے علاوہ ہندو کمیونٹی سے بھی مندر کی تعمیر کے لیے مالی مدد طلب کی جائے گی۔

ہندو پنچایت اسلام آباد کے سابق صدر پریتم داس نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے فنڈز نہ بھی ملے تو انہوں نے مندر تعمیر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہندو کمیونٹی سے مالی امداد طلب کی جائے گی۔

پریتم داس کا کہنا تھا کہ عبادت اور دوسری مذہبی رسومات کے لیے باقاعدہ عمارت کی عدم موجودگی میں اسلام آباد میں رہنے والے ہندووں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس لیے وہ شری کرشنا مندر کی تعمیر کے لیے مالی امداد ضرور دیں گے۔

لال چن ملہی کا کہنا تھا کہ ہندووں کے علاوہ دوسرے مذہب کی تنظیموں سے بھی مندر کی تعمیر کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی کسی تنظیم یا ادارے سے بات چیت کا آغاز قبل از وقت ہو گا۔

اسلام آباد میں ہندو اور مندر

ساٹھ کی دہائی میں تعمیر اور دارالحکومت قرار دئیے جانے والے شہر اقتدار اسلام آباد میں تقریباً تین ہزار ہندو خاندان آباد ہیں جو یہاں کے مستقل رہائشی ہیں۔

مہیش کمار کے مطابق: 'مستقل رہنے والوں کے علاوہ بھی ہندووں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو یہاں عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ ان میں طالب علم اور کاروباری لوگ شامل ہیں۔'

لال چن ملہی کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلام آباد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اتنی بڑی تعداد میں ہندووں کی موجودگی کے باوجود اسلام آباد میں کوئی فعال مندر موجود نہیں ہے۔

اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہندو پنچایت کے مطالبہ اور قومی کمیشن برائے حقوق انسانی کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے 2017 میں مندر کی عمارت کی تعمیر کے لیے چار کنال کا پلاٹ مختص کیا۔ تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تعمیر کا کام ابھی تک شروع نہ ہو سکا۔

اسلام آباد شہر میں قیام پاکستان سے قبل کے کئی مندروں کی عمارتیں موجود ہیں جن میں راول جھیل اور سید پور گاؤں میں واقع مندر قابل ذکر ہیں۔

تاہم ان پرانے مندروں کی عمارتیں بہت چھوٹی اور ناقابل استعمال ہیں۔

لال چند ملہی کا کہنا تھا: 'پرانے مندروں کی عمارتوں میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ اور نہ وہ اس قابل ہیں۔ ان پر پیشہ لگانا فضول تھا۔ اسی لیے نئے مندر کی تعمیر بہت ضروری ہے۔'

ہندو پنچایت اسلام آباد کے سابق صدر پریتم داس نے کہا کہ اسلام آباد میں رہنے والے ہندو عموماً اپنے گھروں پر ہی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور مخصوص مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں راولپنڈی جانا پڑتا ہے۔

اشوک کمار نے بتایا کہ چند سال قبل ان کی بھابھی فوت ہوئیں تو ان کی اگنی سنسکار کی رسومات راولپنڈی میں واقع ایک شمشان گھاٹ میں ادا کی گئی۔

مکیش کمار کا کہنا تھا کہ نئے شری کرشنا مندر میں عبادت کے علاوہ کمیونٹی ہال، شمشان گھاٹ اور دوسری سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان