'کاش 70 سال بعد ہم پھر مل جائیں، گپ لگائیں'

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے گاؤں میختر میں مقامی افراد ان ہندوؤں کی دکانوں کی آج بھی حفاظت کرتے ہیں، جو تقسیم کے وقت انہیں یہاں چھوڑ گئے تھے۔

ملک حاجی پائیو خان کاکٹر کے مطابق جب  ہندو دوست ہمیں چھوڑ کر جارہے تھے تو انہوں نے اپنی دکانوں کی چابیاں ہمارے حوالے کیں اور کہا کہ  یہ ان کی امانت ہیں۔ (تصاویر: ملک حاجی پائیو خان کاکٹر)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک گلی ایسی بھی ہے جہاں مٹی سے بنی دکانیں سات دہائیوں سے بند پڑی ہیں۔ یہ بند دکانیں ہندو مسلم بھائی چارے کی کہانی سناتی ہیں۔

یہ کہانی ہے میختر نامی گاؤں کی جو بلوچستان کے علاقے ژوب کو لورالائی اور پنجاب کے ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی شاہراہ سے پرے واقع ہے۔ یہاں کئی دہائیوں قبل چند ہزار خاندانوں پر مشتمل کاکڑ قبیلے کی پشتون کمیونٹی آباد تھی۔ اس کمیونٹی میں دو مختلف مذاہب ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔

 1947میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے وقت جہاں مسلمان اور ہندو ہجرت کررہے تھے، میختر کے ہندو بھی بھارت ہجرت کے لیے روانہ ہوئے، اس طرح  ان چار سو کے قریب پشتون ہندو خاندانوں کی منزل جے پور بنی۔

ہندو تو نقل مکانی کر گئے تھے لیکن ان کی ملکیت کبھی ختم نہ ہوئی۔ ان 70 برسوں کے دوران میختر میں ان کی چھوڑی ہوئی درجنوں دکانوں میں سے کوئی ایک بھی کھولی نہ گئی۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے 95 سالہ ملک حاجی پائیو خان کاکڑ نے، جن کی عمر تقسیم ہند کے وقت 22 برس تھی، بتایا کہ 'جب ہندو دوست ہمیں چھوڑ کر جا رہے تھے تو انہوں نے اپنی دکانوں کی چابیاں ہمارے حوالے کیں، یہ ان کی امانت ہیں۔'

کاکڑ کہتے ہیں کہ ان چابیوں کو کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا اور یہ دکانیں ہمیشہ اپنے اصل مالکوں کا انتظار کرتی رہیں۔

ایک طرف جہاں چھوڑی ہوئی زمینوں پر قبضے ہو رہے تھے، دونوں ملکوں میں پہنچنے والے پناہ گزینوں میں سے بعض ملکیت کے لیے جعلی کلیم دائر کررہے تھے ایسے میں اس دور افتادہ علاقے میں جانے والوں کی دکانوں کو امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا۔

کاکڑ کہتے ہیں کہ 'جب میختر کے ہندو نقل مکانی کرکے جا رہے تھے تو جانے سے قبل محفوظ راستہ ملنے تک وہ مسلمانوں کے گھروں میں مہمان بن کر رہتے رہے، یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے کسی کا سگا بھائی چھوڑ کر جارہا ہو۔'

گوشت خور ہندو پشتون اب بھی بھارت میں غیر معروف قبیلہ ہے جو افغانستان اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی منفرد ثقافت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان میں عورتوں کا چہروں پر سبز ٹیکے ( خال) لگانا، روایتی پشتون رقص اتنڑ اور کپٹروں پر کڑھائی شامل ہیں۔

بلوچستان سے دور سرحد کی دوسری طرف جے پور سے تعلق رکھنے والی پشتون ڈاکیومنٹری فلم میکر شلپی بترا ایڈوانی کو جب میختر کی دکانوں کا پتہ چلا تو کہنے لگیں: 'بہت اچھا لگا کہ میختر کے لوگ اب بھی ہمیں یاد کرتے ہیں اور محبت کی علامت کے طور پر اب تک ان دکانوں کا خیال رکھا ہوا ہے جن کو ہمارے بزرگ چھوڑ آئے تھے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شلپی کی نانی جن کو وہ بابئی کہتی تھیں، نے میختر سے جے پور نقل مکانی کی تھی۔

شلپی کا کہنا ہے کہ جے پور کی پشتون برادری کے لوگ اب بھی جب مل بیٹھتے ہیں تو احترام، باہمی محبت کے اس سنہری دور کو یاد کرتے ہیں جس کو وہ میختر میں چھوڑ آئے تھے۔

انہوں نے اپنی ثقافت کا فخریہ تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ اب بھی پشتو میں بات کرتے ہیں۔ تاہم اس ہندو پشتون ثقافت کو جے پور کی مقامی سطح پر قبول کیا جانا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔

ان پشتون ہندو خواتین کے چہروں پر ٹیٹو ہوتے تھے جسے لوگ تجسس بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔ کچھ کو یہ عجیب اور کچھ کو مشکوک نظر آتے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل نہ سکے۔

شلپی نے بھارت کے ہندو پشتونوں کی جڑوں کے بارے میں گذشتہ سال ایک ڈاکیومنٹری فلم بنائی جس کے لیے انہوں نے اپنی کمیونٹی کی کئی خواتین کے انٹرویوز کیے۔ ان خواتین کے مطابق جب یہ لوگ میختر چھوڑ کر بھارت جارہے تھے تو وہاں کے مسلمان پڑوسیوں نے انہیں گھی، اناج اور کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ روانہ کیا تاکہ ان کا لمبا سفر بغیر بھوک پیاس کے گزرے۔

اپنی دادی کی کہانی سناتے ہوئے شلپی نے بتایا کہ یہ خواتین مسلمان خواتین کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر سلائی کڑھائی کرتی تھیں، اکٹھے کھانا کھاتی تھیں اور ایک ساتھ اتنڑ کرتی تھیں۔ کسی کو مذہبی اختلاف کا گمان تک نہ تھا۔

شلپی نے دادی کی زبانی جو کہانیاں سنیں ان میں سے ایک اس ہندو آدمی کی کہانی بھی تھی جس کو ایک مسلمان لڑکی سے پیار ہو گیا تھا اور شادی کرکے میختر میں رہ گیا۔ پشتون ہندو کمیونٹی میں وہ واحد شخص تھا جو پیچھے رہ گیا۔

شلپی نے اس صندوق کے بارے میں بھی بتایا جس میں پھٹے پرانے مگر تقسیم ہند سے قبل کے کپڑے نکل آئے، ان کپڑوں کو جب روایتی خوبصورتی کے ساتھ رفو اور نئی سلائی دی گئی تو یہ پھر سے نئے ہوگئے۔ میختر کے ان روایتی ملبوسات کو دیکھ کر خواتین آبدیدہ ہوگئیں تھیں، یہ بڑا جذباتی منظر تھا جب انہوں نے خوشی کے مارے روتے ہوئے میختر کے ملبوسات کو زیب تن کیا۔

میختر سے 70 برس قبل نقل مکانی کر جانے والوں کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ بارڈر کے اس طرف پاکستان میں کاکڑ آج بھی اپنے ہندو پشتون دوستوں کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرتے ہیں۔

گرچہ صحت اجازت دیتی ہے نہ جیب لیکن کاکڑ کی خواہش ہے کہ کاش ایک بار پھر بچھڑے سنگی ساتھ بیٹھ جائیں اور ویسے ہی گپ لگائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان