ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

بعض وزرا کی زبان درازیاں اور حرکات اس حکومت کو مزید تمسخر کا نشانہ بناتی ہیں۔

ہم ایک حیران کن دور میں رہ رہے ہیں جس میں آپ کے سیاحت کے ادارے کے سربراہ کو روزویلٹ ہوٹل کے فروخت کی جلدی ہے لیکن وہ پاکستان میں سیاحت کے لیے کسی ایک جگہ کا نام بتانے سے قاصر ہیں۔ اس طرح کے ’کرائے کے وزیروں‘ کی ہماری موجودہ حکومت میں بھرمار ہے۔

انہیں دو تین سال پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا لیکن قسمت ان پر مہربان ہوئی اور وہ دو سال پہلے پیراشوٹ کے ذریعے حکومت میں داخل ہو گئے۔ انہی کرائے کے وزیروں میں مشیر خزانہ اور دیگر بھی شامل ہیں جو مشرف سے لے کر زرداری اور اب عمران خان کی خدمت میں مصروف ہیں۔

عاقل ندیم کا یہ کالم آپ یہاں ان کی اپنی آواز میں سن بھی سکتے ہیں:

 

تبدیلی کے مغالطے میں عوام کو ایک امید یہ تھی کہ کچھ نئے ’کرائے کے سپاہی‘ شاہد اپنے میدان میں ماہر ہوں گے اور ہماری 5.8 فیصد شرح نمود کو آگے لے کر جائیں گے مگر ان ماہروں نے دو سال میں شرح نمو کو منفی سے بھی نیچے لا گرایا ہے۔ اسی طرح شعور سے بھرپور یہ نمونے کرونا وبا سے نمٹنے کے 19 مختلف طریقوں کے بارے میں عوام کی فہم میں اضافہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہوتے ہیں انہیں اس بات کی ذرا بھر پروا نہیں ان کا کہا ہوا ان کی حکومت کے لیے کیسی شرمندگی کا باعث ہو گا۔

لیکن یہ ساری کم فہمی کا سفر اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ جب آپ کا رہنما تاریخ کو مسخ اور توڑ موڑ کر پیش کر رہا ہو، جرمنی اور جاپان کی سرحدوں کو ملا رہا ہوں اور اسے حضرت عیسی کا تاریخ میں ذکر نظر نہ آئے اور جب وہ ٹیگور اور خلیل جبران کی باتوں کو گڈ مڈ کر رہا ہو اور غلط اشعار کو اقبال سے منسوب کر رہا ہو تو پھر آپ ان کے نیچے کام کرنے والوں سے کسی بہتر ذہنی کارکردگی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں۔

کچھ وزرا کی زبان درازیاں اور حرکات اس حکومت کو مزید تمسخر کا نشانہ بناتی ہیں۔ ایک وزیر اپنی کم فہمی یا تکبر میں نہ صرف جمہوریت کو بلکہ اداروں کو بھی بدنام کرنے کا باعث بنتے ہوئے ٹی وی پروگرام میں اپنے ساتھ فوجی بوٹ لے کر جاتے ہیں اور فخر سے اپنے سامنے سجا کر کیمروں کی نظر میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتے ہیں۔ یہی وزیر صحافیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے غیرپارلیمانی الفاظ کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایک وزیر تو صحافیوں کو عام محفل میں تھپڑ مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

تبدیلی سرکار میں دوائیوں کا سکینڈل ہو یا پٹرول کا، آٹا مہنگا ہو یا چینی، ان کے اپنے درمیان موجود ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے کمیشن قائم کیے جاتے ہیں کہ آج کی چوری کا حساب لینے کی بجائے 30 سال پہلے کی چوری کا حساب ضروری ہے۔

آپ کو نااہلی، غیرذمہ داری اور بدانتظامی ہر شعبے میں نظر آتی ہے۔ پچھلے 23 ماہ میں ایف بی آر میں پانچ چیئرمین بدلے گئے۔ نیا سربراہ بھی صرف تین ماہ کے لیے لگایا گیا ہے۔ اسی طرح بورڈ آف انویسٹمنٹ میں بھی بھی پانچ مرتبہ چیئرمین کو تبدیل کیا گیا۔ اس حکومت نے تجارت کے چار سیکریٹریوں کو دروازہ دکھایا اور تین سیکرٹری خزانہ بدلے گئے۔

یہ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی وفاقی حکومت نے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین تین دفعہ تبدیل کیے۔ اور اگر پنجاب کی طرف آئیں تو وہاں اسی قلیل مدت میں میں پانچ آئی جی پولیس لگائے گئے اور چار چیف سیکرٹریوں کو اپنے گھروں کو بھیجا گیا۔ اب شنید یہ ہے کہ پانچواں چیف سیکرٹری بھی وسیم اکرم پلس کو پسند نہیں اور جلد انہیں بھی راستے سے ہٹا دیا جائے گا۔ یہی حال خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی کا ہے۔

ان ناکامیوں اور پسپائیوں سے سبق حاصل کرنے کی بجائے حکومت کی حالیہ شاندار کارکردگی نے ہماری ہوا بازی کی صنعت کو بھی زمین بوس کر دیا ہے۔ ایک غیر دانشمندانہ ساعت میں وزیر ہوا بازی نے فیصلہ کیا کہ ہمارے ہوابازی کے مسائل ساری دنیا کے سامنے رکھ کر ہماری ہوابازی کی پوری صنعت کو نہ صرف بدنام کیا جائے بلکہ ہماری قومی ایئرلائن کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے جائیں۔

اس بارے میں سی این این کی رپورٹ نے ساری دنیا کی ہوا بازی کے اداروں اور وہ ایئرلائنز جنہوں نے پاکستانیوں کو ملازمت دی ہوئی تھی فوراً ہمارے خلاف کارروائی کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ اگر کچھ پائلٹوں کے لائسنس میں کچھ کمی تھی یا شکوک تھے تو انہیں دور کرنا سول ایویشن اتھارٹی کی ذمہ داری تھی جس میں ایئر فورس کے انتہائی قابل ریٹائرڈ افسران کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تفتیش ساری دنیا کو بتائے بغیر آسانی سے کی جا سکتی تھی اور غلط لائسنس کینسل کیے جا سکتے تھے جیسے ساری دنیا میں ہوابازی کے ریگولیٹر کرتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ یا تو حکومت کی نااہلی تھی یا بد نیتی۔

کیونکہ پی آئی اے کو نجی ملکیت میں دینے کی باتیں بھی ساتھ ساتھ ہو رہی ہیں تو یہ قدم بدنیتی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس غیر دانشمندانہ بیان سے سے پی آئی اے کو نہ صرف بدنامی ہاتھ آئی ہے بلکہ اس کی تمام منافع بخش بین الاقوامی پروازوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اس قدم سے اس خدشے کو تقویت ملی ہے کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ ایک بدنام ایئرلائن کو بغیر کسی مشکل کے اونے پونے داموں پسندیدہ دوستوں کو بیچا جا سکے۔ یا اسے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ کسی اور ائرلائن یا کسی نئی ایئرلائن کے مقابلے میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہی نہ ہو سکے اور اس کے نتیجے میں اس قومی نشان کو آسانی سے ختم کردیا جائے۔

شاید اسی وجہ سے اس ادارے کے قیمتی اثاثوں کو بھی ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس وقت جب کہ ساری دنیا میں مہمان داری کی صنعت سخت زوال پذیر ہے اور شدید نقصانات کا سامنا کر رہی ہے حکومت نے نیویارک میں پی آئی اے کی بیش قیمت ملکیت روزویلٹ ہوٹل کو بھی بیچنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔ یقینا موجودہ بین الاقوامی اقتصادی حالات میں یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اس ہوٹل کی مناسب قیمت ملے جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے اسے مبینہ طور پر کسی ساز باز کے تحت کسی حکومتی حواری کے جاننے والے یا کاروباری ساتھی کو بیچ دیا جائے گا۔

حکومتی نااہلی، بدعنوانی، اقربا پروری، ناقص فیصلہ سازی اور غیر سنجیدہ پن اس ہائبریڈ نظام کو لانے والوں کے لیے اب ایک درد سر بنتا جا رہا ہے۔ یہ ناکامی سمجھ رکھنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر عوام کی خواہشات کے برعکس ایک سلیکٹڈ نظام یا حکومت لانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ تمام سہولیات اور ایک صفحہ پر ہونے کے باوجود ناکام رہے گی۔ ہمیں اس سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے اور جمہوریت کے ساتھ مزید تجربات کے سلسلے کو ختم کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ