'فلسطینی علاقوں کے انضمام سے اسرائیل باز رہے'

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'سرحدوں میں ایسی کوئی تبدیلی تسلیم نہیں کی جائے گی جس پر دونوں فریق متفق نہ ہوں نیز ایسے کسی بھی اقدام سے اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو گا۔'

(اے ایف پی)

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن نے منگل کو اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل نہ کرے۔

ان ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام سے ان کے دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو گا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان ملکوں (جن میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے دو سرکردہ حلیف بھی شامل ہیں) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے وزائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک ویڈیو کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے جن پر 1967 میں قبضہ کیا گیا انہیں اسرائیل میں شامل کرنا عالمی قانون کی خلاف ورزی ہو گی اور اس اقدام سے قیام امن کا عمل کی بنیادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

بیان میں کہا گیا: 'ہم 1967 کی سرحدوں میں ایسی کوئی تبدیلی تسلیم نہیں کریں گے جس پر دونوں متحارب فریق متفق نہ ہوں۔ ایسے کسی اقدام سے اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل نے مجوزہ امن معاہدے کے ایک حصے کے طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کو اپنا حصہ بنانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس امن معاہدے کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی جو مغربی کنارے کو فلسطین کی ریاست میں شامل کرنا چاہتی ہے اس کے اسرائیل کے  ساتھ الحاق کے خلاف ہے۔ اس کے باوجود امریکہ اس الحاق پر رضامندی ظاہر کرچکا ہے۔

اسرائیل نے یورپی اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے تازہ بیان کا فوری طورپر کوئی جواب نہیں دیا تاہم ایک علیحدہ بیان میں اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے آفس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے پیر کو اپنے برطانوی ہم منصب بورس جانسن کوبتایا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کے'حقیقی'امن معاہدے پر عمل کاعزم کررکھا ہے جو تعمیری اورحقیقت پسندانہ ہے اور وہ ماضی کے ان فارمولوں کی جانب نہیں لوٹیں گے جو ناکام ہوتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا