پولیس کو ایف آئی آر کے مکمل اختیارات دینے پر وکلا کا احتجاج

نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی جانب سے پولیس کو ایف آئی آر کے مکمل اختیارات دینے کی متنازع ترمیم کے خلاف پاکستان بار کونسل کی کال پر سندھ بھر میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

تصویر: اے ایف پی

نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی جانب سے پولیس کو ایف آئی آر کے مکمل اختیارات دینے کی متنازع ترمیم کے خلاف پاکستان بار کونسل کی کال پر سندھ بھر میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

جمعرات کو سندھ بھر میں کیے جانے والے اس بائیکاٹ کی وجہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی دفعات 22 اے بی اور سی کے حوالے سے کی جانے والی ترمیم ہے۔

احتجاج کرنے والے وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسی ترمیم سے پاکستان پولیس سٹیٹ بن جائے گا۔

سپریم کورٹ بار کونسل کے نائب صدر صلاح الدین گنڈاپور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملک میں اگر کوئی شخص پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کرانے جاتا ہے، اور پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتی ہے، تو وہ شخص خود یا کسی وکیل کے ذریعے سیشن جج کے پاس درخواست داخل کرواتا تھا اور سیشن جج کو فوجداری قانون کی شق 22 اے، بی اور سی کے تحت یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرسکتے تھے۔

ان کے مطابق حالیہ دنوں میں عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قائم نیشنل جوڈیشل کمیٹی نے ایک ترمیم کر کے سیشن جج سے یہ اختیار واپس لے لیا، جس کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔

’سیشن جج سے یہ اختیار واپس لے کر پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کا مکمل اختیار دینے سے پاکستان ایک پولیس سٹیٹ بن جائے گا، اور پولیس ان اختیارات کا غلط استعمال کرے گی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس ترمیم سے پاکستانی قانون میں ایک شہری کو دیے گئے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوں گے۔‘

نیشنل جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے کی گئی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ سیشن جج سے ایف آئی آر کا اختیار واپس لے کر مکمل طور پر پولیس کو اختیار دیا گیا ہے اور اگر کوئی شخص کسی تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے جاتا ہے، اور پولیس سٹیشن کا ایس ایچ او اگر کیس داخل کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ شخص علاقے کے ایس ایس پی کے پاس جائے گا، ایس ایس پی مدعی کی درخواست پر تحقیق کرکے، سات دن میں ایف آئی آر داخل کرنے یا نہ کرنے کا بتائے گا، اگر انکار کیا گیا تو وہ شخص ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔

گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ ’پہلے لوگ پولیس کی جانب کیس داخل نہ کرنے کی صورت میں، کسی وکیل کی ذریعے سیشن کورٹ میں درخواست دیتے تھے، جو چھوٹے سطح کے وکلا کے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ مگر اس ترمیم سے کئی وکلا بیروزگار ہوجائیں گے۔

’سندھ میں کل 32 ہزار کے قریب وکلا ہیں، جن میں سے 25 ہزار وکلا اس ترمیم سے متاثر ہوں گے۔‘

سینیئر وکلا پولیس کو دیے گئے اختیارات کو شہری اور انسانی حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں۔

سینیئر وکیل رہنما، ایڈووکیٹ حق نواز ٹالپر نے کہا کہ کچھ ججز کا خیال ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کا اختیار اگر سیشن جج کے پاس رہتا ہے تو ان کا زیادہ وقت ان اختیارات کے استعمال میں ضائع ہوتا ہے اور وہ دیگر کیسز کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے، اسی لیے یہ اختیارات ججز سے لیے گیے ہیں۔ مگر دوسری جانب یہ اختیارات پولیس کو دینے سے خدشہ ہے کہ پولیس ان اختیارات کا نا جائز استعمال کرے گی، جس کا خمیازہ عام آدمی کو اٹھانا پڑے گا۔

’کسی دور دراز گاؤں میں اگر کوئی وڈیرا کسی غریب آدمی سے زیادتی کرتا ہے، اور وہاں پولیس وڈیرے کے زیر اثر ہے، تو وہ شخص کیا کرے گا۔ پہلے وہ شخص سیشن کورٹ کی مدد سے ایف آئی آر داخل کاروا سکتا تھا۔ مگر اب ایس ایچ او کے انکار کے بعد اسے سیکڑوں میل دور ضلعی ہیڈکواٹر جانا ہوگا، وہاں بھی ایس ایس پی تک اس کی رسائی ہوتی بھی ہے یا نہیں، یہ بھی ایک سوال ہے، اس لیے میرے خیال میں یہ اختیارات واپس سیشن جج کہ دیے جائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان