دو بیواؤں کی ایورسٹ پر نظر

ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنے شوہروں کی موت کے بعد دو بیوہ شیرپا خواتین دنیا کی سب سے اونچی چوٹی سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

تصویر: اے ایف پی

کوہ پیمائی کئی نسلوں سے مردوں کا دائرہ کار سمجھی جاتی رہی ہے اور نیپال میں کوہ پیمائی تاریخی شیرپاؤں کے بغیر ادھوری ہے۔

نیپال میں عموما خواتین گھر سنبھالنے کا روائتی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنے شوہروں کی موت کے بعد دو بیوہ شیرپا خواتین دنیا کی سب سے اونچی چوٹی سر کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے قدامت پسند معاشرے کی سوچ کو چیلنج کر رہی ہیں۔

فردیکا شیرپا اورنیما دوما شیرپا ہمالیہ سے تعلق رکھتی ہیں جہاں کے لوگ اونچے پہاڑوں پر بطور گائیڈ عالمی شہرت رکھتے ہیں۔

دونوں خواتین نے کبھی کوہ پیمائی کا نہیں سوچا تھا لیکن حالات کے پیش نظر وہ اپریل میں مہم جوئی کا سیزن شروع ہونے پر خود کو تیار کر رہی ہیں۔

فردیکا نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: کوہ پیمائی مردوں کے لیے ہے، ہم عورتیں دوسرے کام کرتی ہیں۔ میں ایک چائے کا ڈھابہ چلا کر خاندان کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ میں نے کبھی کوہ پیمائی کا نہیں سوچا تھا۔

پھر اچانک 2013 میں فردیکا کی دنیا بدل گئی جب ان کے شوہر کوہ پیماؤں کے لیے پہاڑ پر رسیاں باندھے ہوئے حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

کئی دوسری شیرپا خواتین کی طرح، فردیکا اچانک اکیلی ہو گئیں اور ان کے تین بچوں کی کفالت کے لالے پڑ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سال بعد ایک حادثے نے انہیں نیما سے ملوا دیا، جن کے شوہر 15 دوسرے نیپالی گائیڈز کے ہمراہ جان لیوا ایورسٹ پر برفانی تودے کا شکار ہو گئے تھے۔

نیما کہتی ہیں ’ شوہروں کے چلے جانے کے بعد ، ہم ان کی یاد میں کئی مہینے آنسو بہاتی رہیں۔ لیکن ہمیں اپنے گھر والوں کی دیکھ بھال بھی کرنا تھی۔ بطور ایک بیوہ یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔

کام کی تلاش میں نیما اور فردیکا نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ٹریکنگ گائیڈ کی ملازمت کے لیے درخواستیں دیں۔ اس دوران دونوں کا متعدد مرتبہ اپنے شوہروں کے لیے مقامی بدھا بت پر دیے جلاتے ہوئے آمنا سامنا ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں کے درمیان بات چیت بڑھی اور زندگی میں کچھ کرنے کے لیے سوچ و بچار شروع ہوئی۔

ناتجربہ کار کوہ پیماؤں کے ساتھ کام کرنے کے بعد دونوں نے کوہ پیمائی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنا شروع کی اور اب ایورسٹ سر کرنے کا منصوبہ تیار ہے۔

دونوں نے گزشتہ نومبر 6000 میٹر سے زائد بلند دشوار گزار آئس لینڈ پیک اور چولو فارایسٹ پیک کامیابی سے سر کیں۔

ایورسٹ کے لیے ’دو بیواؤں کی مہم‘ آرگنائز کرنے والی کمپنی Angs Himalayan Adventure کے مالک آنگ شیرنگ لاما کہتے ہیں یہ دونوں پہاڑوں میں پلی بڑھی ہیں۔ بطور کوہ پیما دونوں بہت پر عزم اور مضبوط ہیں۔

فردیکا اور نیما نے ایورسٹ سر کرنے کا خواب ایک ایسے وقت پر دیکھا ہے جب مردوں کے زیر اثر اس شعبے میں خواتین سے متعلق رویوں میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔

نیپال کے محکمہ سیاحت نے بتایا کہ گزشتہ سیزن 18 خواتین نے ریکارڈ تعداد میں 8848 میٹر بلند ایورسٹ سر کی تھی۔

معتبر ہمالیہ ڈیٹا بیس کے مطابق اب تک 34 خواتین کے مقابلے میں تقریبا 4000 شیرپا مرد چوٹی سر کر چکے ہیں۔

44 سالہ پروفیشنل کوہ پیما لاخپا شیرپا سب سے زیادہ نو مرتبہ یہ کارمانہ سر انجام دے چکی ہیں۔

نیپال کی واحد سرٹیفائیڈ خاتون کوہ پیما گائیڈ دعوا ینگزم کہتی ہیں: کوہ پیمائی کے لیے خواتین کی پزیرائی نہیں کی جاتی۔

 نیپال کے دوسرے نسلی گروہوں کی طرح شیرپا برادری میں بیویوں اور بیٹیوں سے گھر کا جھاڑو پوچا کی توقع کی جاتی ہے۔

تاہم، مہم جوئی کے دوران کئی شیرپا مر جاتے ہیں نتیجتا خواتین پر گھر سنبھالنے کی ذمہ داری بھی آن پڑتی ہے۔

مہم جوئی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کام کرنے والی این جی او جنیپر فنڈ کے سرینگ ڈولکر نے بتایا: بیواؤں کے لیے یہ صورتحال مشکل اور پریشان کن ہے۔ وہ عموما ان پڑھ اور شوہروں پر انحصار کرتی ہیں، بھر اچانک ان کے کندھوں پر خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آن پڑتی ہے۔

دعوا سمجھتی ہیں کہ فردیکا اور نیما اس صنعت میں داخل ہوتے ہوئے دوہرے چیلنج کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایک خاتون ہونا اور دوسرا بیوہ ہونا۔

نیما کا کہنا ہے ’ہم ایورسٹ سر کر کے بیواؤں اور اکیلی خواتین کے لیے پیغام دینا چاہتی ہیں کہ ہم کسی سے کم نہیں اور ہم سب کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹنس