وزیراں چھچھر قتل کیس: تحقیقات پر اٹھتے سوال اور پولیس کی تردید

خواتین تنظیموں کی جانب سے اس کیس پر جاری شدہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی امجد شیخ نے سوال کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ کرنے والے کیا اس کیس کے انویسٹیگٹو افسر یا دیگر افسران سے ملے ہیں نیز وہ لوگ کس بنیاد پر الزام لگا رہے ہیں؟

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ایس ایس پی کی سفارش پر وزیراں کے رحم میں موجود آٹھ ہفتے کے بچے کی ولدیت کی شناخت کے لیے ڈی این اے کروانے والے عمل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی ولدیت کا ثبوت دراصل مقتولہ کے کردار کو مشکوک کر کے قاتلوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ (فائل فوٹو-اےایف پی)

سندھ کے ضلع جامشورو کے ایک نواحی گاؤں میں چند دن قبل نوجوان خاتون وزیراں چھچھر کی لاش ملنے کے بعد قتل کی وجوہات جاننے کے لیے سندھ کی کئی خواتین تنظیموں پر مشتمل حقائق جاننے کے لیے ایک ٹیم بنائی گئی تھی۔

اس ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس اس قتل کیس کی سنجیدگی کی بجائے روایتی طریقے سے تحقیق کر رہی ہے نیز وزیراں چچھر کی ہلاکت مبینہ طور پر کسی بھاری چیز کے لگنے کے باعث ہوئی ہے۔

28 جون کو دریائے سندھ اور انڈس ہائی وے کے درمیاں واقع سیہون شریف سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر سندھ کے ضلع جامشورو کے گاؤں واڈا چھچھر میں شادی شدہ 24 سالہ خاتون وزیراں چھچھر کی لاش بری حالت میں انڈس ہائی وے کے پاس ملی تھی۔

پولیس کے مطابق وزیراں کے والد گل محمد چھچھر نے پہلے بیٹی کی موت کی وجہ حادثے کو قرار دیا بعد میں مقتولہ کے شوہر اور سسرال والوں پر الزام عائد کر کے مقدمہ درج کرایا کہ انہوں نے وزیراں کی چھوٹی بہن کو ونی کے طور پر نہ دینے پر ان کی بیٹی کو قتل کردیا۔

کیس میں ان کے شوہر اور دیور کو نامزد کیا گیا، جنھیں پولیس نے بعد میں گرفتار بھی کرلیا تھا۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 'پولیس کی کارروائی کا دائرہ محدود ہے اور پولیس مقتولہ وزیراں سے تعلق رکھنے والے تمام افراد سے تسلی بخش تحقیقات نہیں کر سکی ہے۔ جب کہ روایتی تفتیشی طریقہ کار کی وجہ سے پولیس ابھی تک آلہ قتل برآمد کرنے میں بھی ناکام ہے۔'

حقائق جاننے والی ٹیم میں سندھ کی خواتین کی چھ بڑی تنظیموں بشمول وومين ايکشن فورم، وومین ڈيموکريٹک فرنٹ، اربن ریسورس سینٹر، ليٹ وومين لیو، وومين پروٹيکشن سينٹر اور دیگر تنظیموں کی خواتین پر مشتمل دس رکنی ٹیم نے حصہ لیا۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں شامل تنظیم وومين ايکشن فورم کی رہنما امر سندھو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'ہم نے تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ اس لیے ضرور سمجھی کہ پولیس اور میڈیا کی طرف سے کبھی بھی کسی قتل کی پوری رپورٹ نہیں آتی۔ تمام کارروائی ایک ہی مفروضے کے گرد گھومتی ہے جب کہ ہماری فیکٹ فائنڈنگ نے کچھ اور راز افشا کیے ہیں۔'

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے سیہون شریف کے تعلقہ ہسپتال سید عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ایم ایس، مقتولہ وزیراں چھچھر کے گاؤں وڈا چھچھر میں مقتولہ کے والدین، سسرال، سہیلیوں، صحافیوں اور مقامی باشندوں ملاقاتیں کی۔ بعد ازاں جامشورو میں پولیس کی جانب سے مقرر تفتیشی افسر اے ایس پی علینہ راجپر سے بھی تفصیلی ملاقات کر کے وزیراں قتل کیس کے متعلق حقائق کو جاننے کی کوشش کی۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پولیس کی تحقیق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ : 'وزیراں چھچھر کے قتل کیس کی ایف آئی آر اس کے والدین کے مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں قتل سے متعلقہ جرم کی نوعیت کے مطابق سیکشن کا اندراج نہیں ہے۔ وزیراں قتل کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ ایف آئی آر والدین کے بجائے سرکاری مدعیت میں درج ہونی چاہیے تھی۔ کیس کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی کارروائی اور کارکردگی زیادہ تسلی بخش نہیں۔ مثال کے طور پر مقتولہ کے قتل کے وقت پہنے ہوئے کپڑے اور دوسری متعلقہ چیزیں بروقت فرانزک رپورٹ کے لیے نہیں بھیجی گئیں۔'

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قتل کیس کی ابتدائی تفتیش میں پولیس کی غیرسنجیدہ کارروائی کے ساتھ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی ادھوری اور غیر تسلی بخش ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ دانستہ یا غیردانستہ یا کسی بیرونی دباؤ کی وجہ سے مکمل نہیں ہے۔

'پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں جب کہ پولیس کی جاری کردہ رپورٹ میں واضح طور پہ بیان کیا گیا ہے کہ خاتون کے نچلے دھڑ سے لباس پھٹا ہوا تھا۔ ان الفاظ کے باوجود پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کا ذکر نہ ہونا، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اجزا نہ لینے والا عمل اس پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور ڈاکٹر کی غیر جانبداری کو مشکوک بناتا ہے۔'

اس کے علاوہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ عورت کے جسم پر ظاہر زخموں کی تفصیل نہیں دی گئی جب کہ ان خواتین کا کہنا تھا کہ اس کے جسم کے مختلف حصوں میں تیز دھار آلے سے لگائے گئے زخموں کے نشان تھے۔

رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے ہاتھوں کے ناخنوں میں مٹی بھری تھی، جس سے لگتا تھا کہ وزیراں نے مرنے سے پہلے مزاحمت کرتے ہوئے زمین پہ ہاتھہ مارنے کی کوشش کی ہو۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غسل دیتے وقت وزیراں کے پیٹ، پیٹھ اور ٹانگوں پہ بھی کھرچنے کے نشانات بھی تھے۔

کمیٹی نے سفارشات پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 'وزیراں کے سفاکانہ قتل پر انصاف کے لیے ضروری ہے کہ اس کی کمزور ایف آئی آر کے بجائے ریاست کی مدعیت میں دوسری ایف آئی آر درج کی جائے جس میں گینگ ریپ کے شواہد ملنے کی صورت میں اس کا ذکر کر کے اجتماعی جنسی زیادتی کی دفعات لگائی جائیں۔ کسی دوسرے وارث یعنی والد کی مدعیت میں داخل کی گئی ایف آئی آر میں وزیراں کا انتہائی سنگین قتل کسی بھی جرگے یا برادری کے فیصلے کے ذریعے کمپرومائیز ہونے کا خدشہ ہے اس لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں ریاست کی جانب سے دوبارہ داخل کروانا ضروری ہے '۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ایس ایس پی کی سفارش پر وزیراں کے رحم میں موجود آٹھ ہفتے کے بچے کی ولدیت کی شناخت کے لیے ڈی این اے کروانے والے عمل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی ولدیت کا ثبوت دراصل مقتولہ کے کردار کو مشکوک کر کے قاتلوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

کمیٹی نے اس معاملے پر حیرانی کا اظہار بھی کیا کہ پولیس کو قاتل کی تلاش کرنی چاہیئے تھی جو کہ مقتولہ کے کپڑوں، بالوں یا جسم سے لئے گئے دوسرے اجزا کی کیمیکل اور فرانزک رپورٹ سے بہ آسانی قاتل تک پہنچا جا سکتا ہے اس بنیاد پر کمیٹی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے مطالبے سے متفق ہے۔ البتہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کو حمل کا ڈی این اے نہ کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔

امر سندھو نے کہا کہ 'پوسٹ مارٹم کی رپورٹ، ایف آئی آر اور پولیس کی تفتیش ہماری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق تسلی بخش نہیں ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بلائنڈ قتل کا سراغ لگانا بھی آسان ہو گیا ہے۔ موبائل فون کے فارنزک اور مقتولہ کے دیگر اعضا کی اس سلسلے میں فارنزک کر کے قاتلوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ سندھ کے ذیلی اضلاع جہاں پہ عورتوں کے تشدد اور قتل کے واقعات نسبتا کم ہیں اگر اس کیس کے قاتل نہیں پکڑے گئے تو یہ رجحان زور پکڑے گا۔ اس لیے پولیس کسی بھی سیاسی مصلحت یا دباؤ سے بالاتر ہوکر تفتیش کرے اور مقتولہ کے قتل پر انصاف کرتے ہوئے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچائے۔'

دوسری جانب پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی امجد شیخ نے کہا 'فیکٹ فائنڈنگ کرنے والے کیا اس کیس کے انویسٹیگٹو افسر یا دیگر افسران سے ملے ہیں؟ وہ لوگ کس بنیاد پر الزام لگا رہے ہیں؟ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات صرف ہوائی باتیں  ہیں اور صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ الزامات لگائے گئے ہیں۔'

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے یہ کیس سٹیٹ کیس کے طور پر کیوں نہیں درج کیا؟ اس سوال کے جواب میں ایس ایس پی امجد شیخ نے کہا کہ کاروکاری کے معاملے میں سٹیٹ کیس درج کیا جاتا ہے، یہ ایک قتل کا کیس ہے جس پر پولیس اپنی تحقیق کررہی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کسی نے کہا خاتون کو سنگسار کرکے مارا گیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کوئی ثبوت ہو تو دے دیں، مگر کوئی ثبوت نہیں ملا۔ قتل کیس کی تحقیق خفیہ ہوتی ہے جو ہم اپنے اعلی افسران کو بھی مکمل ہونے تک نہیں بتاتے۔ پتہ نہیں لوگوں کو سب باتیں کیسے پتہ چل جاتی ہیں؟ پولیس مکمل تحقیق کررہی ہے، جب فائنل رپورٹ آجائے گی تو جاری کریں گے'۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین