ڈاؤ میڈیکل کالج کے طلبہ ہاسٹل کی ڈراؤنی عمارت میں رہنے پر مجبور

اس عمارت کے حالات اتنے خستہ تھے کہ یہاں کسی ڈراؤنی فلم کی شوٹنگ کی منطق تو بنتی تھی پر مستقبل کے ڈاکٹرز کو ٹھہرانے کی کوئی عقلی منطق نہیں تھی۔

 آج سے پانچ سال پہلے اس خستہ حال عمارت کی چھت سے پتھر گرنے کے باعث ایک طالب  علم  ڈاکٹر شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ڈاؤ میڈیکل کالج اور پٹھوں اور ہڈیوں کی بحالی کے ادارے انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن (آئی پی ایم آر) کے درمیان عمارت کے قبضے  کا جھگڑا اس وقت  شروع ہوا جب آئی پی ایم آر کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ڈاؤ میڈیکل کالج کے قبضے میں لڑکوں کا ہاسٹل بنانے کے لیے اس وقت تین عمارتیں تھیں جن میں ہاسٹل نمبر 1، ہاسٹل نمبر 2 اور ہری بھائی پراگجی کاریا (ایچ پی کے) نامی عمارتیں شامل تھیں۔ 2007 میں آئی پی ایم آر کے قیام کے بعد یہ ہاسٹلز خالی کروا لیے گئے اور ’عارضی‘ طور پر آئی پی ایم آر اور انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ٹیکنالوجی (آئی ایم ٹی) ان عمارتوں میں قائم کیا گیا۔

اسی دوران کچھ وقت کے لیے اندرون سندھ سے آنے والے طلبہ کی نشستیں منسوخ کردی گئیں۔ کچھ سال بعد ان طلبہ کو سندھ میڈیکل کالج (ایس ایم سی) کے ہاسٹلز میں منتقل کردیا گیا جو کہ اس وقت ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے منسلک تھا۔ 2013 میں ایس ایم سی علیحدہ ہو کر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) سے منسلک ہو گیا جس کے بعد ڈاؤ کے طلبہ کو ہاسٹل خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ ہاسٹل کے رہائشیوں کو پھر سے ایچ پی کے بلڈنگ میں منتقل کریا گیا۔ 

اب ذرا اس قدیم عمارت کا احوال سنیے۔ اس عمارت کے حالات اتنے خستہ تھے کہ یہاں کسی ڈراؤنی فلم کی شوٹنگ کی منطق تو بنتی تھی پر مستقبل کے ڈاکٹرز کو ٹھہرانے کی کوئی عقلی منطق نہیں تھی۔ اس سب کے باوجود یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن نے طلبہ کی جانوں کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے میں کوئی شرم محسوس نہ کی۔ کچھ سال پہلے ایک سنگین حادثے میں ایک میس ورکر نے اس صدیوں پرانی عمارت کی بالکونی  سے گر کر اپنی جان گنوائی تھی۔

اس کے بعد آج سے پانچ سال پہلے اس خستہ حال عمارت کی چھت سے پتھر گرنے کے باعث ایک طالب علم ڈاکٹر سید انس پرویز شدید زخمی ہوگئے۔ ان واقعات کے بعد طلبہ کی برداشت جواب دے گئی اور باقاعدہ احتجاج شروع کردیا گیا۔ واقعے کو دبانے، اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے اور طلبہ کو خاموش کروانے کے لیے اس وقت کی انتظامیہ نے آئی پی ایم آر کی بلڈنگ میں سے ایک پورشن کی چھ میں سے دو منزلیں ان طلبہ کو رہائش کے لیے دے دیں اور اسے ’ہاسٹل‘ کا نام دے دیا گیا۔

آئی پی ایم آر کی پوری بلڈنگ اور آئی ایم ٹی اور ایچ پی کے کی بلڈنگز پر بنیادی طور پر ہاسٹل کے طلبہ کا حق تھا۔ اس دوران طلبہ کو یہ دلاسہ دیا گیا کہ جیسے ہی ان اداروں کی اپنی بلڈنگز بنیں گی، یہ تینوں بلڈنگز بوائز ہاسٹل کے لیے مہیا کر دی جائیں گی۔ اس نام نہاد ہاسٹل میں نہ تو کھانا کھانے کے لیے کسی مناسب میس کا انتظام تھا نہ ہی کسی جم، سپورٹس گراؤنڈ اور کسی کامن روم کا۔ حد تو یہ ہے کہ میس کے نام پر ایک شیڈ کے نیچے چند ٹیبل کرسیاں ڈال دی گئیں۔

پھر نئے داخلہ لینے والے طلبہ کو اس بنیاد پر ہاسٹل کی سہولت دینے سے انکار کردیا گیا کہ جگہ نہیں ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں آنے والے اندرونِ سندھ کے یہ نوجوان پھر مہنگے فلیٹوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ چار ماہ کے مستقل احتجاج کے بعد بالآخر انہیں ہاسٹل میں رہائش دی گئی، لیکن ایک ایک کمرے میں چار سے پانچ طلبہ کو رہنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ کمرے حبس زدہ تھے اور سونے کے لیے کھٹملوں سے بھرے ہوئے میٹریس دیے گئے تھے۔ یہ میٹریس بھی گریجویٹ ہونے والے سینیئرز کی مہربانی تھی کہ وہ چھوڑ گئے۔ چھ مہینے جوتیاں گھسانے اور بار بار پرنسپل کی طرف سے ملاقات پر انکار کے بعد بالآخر ان طلبہ کو کم معیاری ہی سہی مگر فرنیچر دے دیا گیا۔ اب مزید سامان کے آجانے سے ایک کمرہ چار لوگوں کے رہنے کے لیے اور تنگ ہوگیا۔ 

طلبہ کے بار بار اعتراض اٹھانے پر انہیں انتظامیہ کی طرف سے جواب دیا جاتا رہا کہ 'اگر اتنے مسائل ہیں تو یہاں رہ ہی کیوں رہے ہو؟ اندرونِ سندھ میں اپنے گاؤں میں ہی رہ لیتے سہولت سے۔' یہ سب ان طلبہ کے ساتھ نسلی امتیاز سے کم ہرگز نہیں ہے۔

یہ وہی طلبہ ہیں جو اپنے اپنے ضلعوں میں ٹاپ کرکے یہاں پہنچے تھے۔ وہی طلبہ جنہیں پراسپیکٹس میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بیرونِ شہر سے آنے والے طلبہ کو ہاسٹل مہیا کیا جائے گا۔ تھرپارکر اور عمرکوٹ جیسے پسماندہ شہروں سے آنے والے یہ طلبہ کس طور سے کراچی جیسے بڑے شہر میں فلیٹوں کے کرائے برداشت کرسکتے ہیں؟ انتظامیہ کی بےحسی کی آخر کوئی حد ہے؟

اور اب بجائے اس کے کہ ان طلبہ کو ان کا حق دیا جائے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ نام نہاد ہاسٹل بھی ان سے خالی کروا لیا جائے۔ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا ہے جب پورے ملک کے طلبہ کووڈ-19 کی وجہ سے پریشان ہیں اور تعلیمی سال خطرات میں گھرا ہوا ہے۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سب کے پیچھے آئی پی ایم آر کی بہت ہی بااختیار اور طاقتور شخصیت ہیں، جنہیں مبینہ طور پر سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ہیں۔ ان کی شروع سے ہی کوشش رہی تھی کہ تینوں عمارتیں مکمل طور پر ان کے انسٹیٹیوٹ کے لیے مختص کر دی جائیں اور آخرکار وہ اس کوشش میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی پی ایم آر کو اب سندھ انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن بنا دیا گیا ہے اور اس ترقی کے بعد ہاسٹل بلڈنگز کا مکمل قبضہ مندرجہ بالا ادارے کو دے دیا گیا ہے۔ اس بات کا دھیان رہے کہ مختلف ذرائع کے بقول مندرجہ بالا انسٹیٹیوٹ کے طلبہ خود بھی چاہتے ہیں کہ ان کے لیے مکمل طور پر ایک الگ جگہ اور عمارت کا انتظام کیا جائے، پر اس مطالبے پر انسٹیٹیوٹ کی سربراہ کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔

اس معاملے پر جب ہاسٹل کے طلبہ نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر امجد سراج میمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھا لیے کہ ان جیسی بااختیار شخصیت کے آگے ان کی ساری کوششیں بےسود گئی ہیں۔ 

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے قوانین کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی کی رجسٹریشن کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے 20 فیصد طلبہ کے لیے ہاسٹل کا انتظام رکھے اور سندھ کے اول درجے کے میڈیکل کالج ڈاؤ میڈیکل کالج کا یہ حال ہے کہ انتظامیہ کی ان تمام غیر ذمہ داریوں کی وجہ سے اس کی رجسٹریشن خطرے میں ہے، جس کی بدولت اس کالج سے منسلک تمام طلبہ کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہے!

وبا کے دنوں میں طلبہ کی جانب سے منعقد کیا گیا احتجاجی مظاہرہ اپنی اور اپنے خاندان کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود یہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے یہ مظاہرہ کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطالبات میں ہاسٹل کی عمارت کے ساتھ ساتھ ایک سٹڈی ہال، کامن روم، کھیل کا میدان، جِم اور میس جیسی بنیادی ضروریات بھی شامل ہیں۔ تاکہ یہ طلبہ ہاسٹل نہ ہونے کے خوف کی بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیں۔

یہ بات غورطلب ہے کہ ہاسٹل کا یہ مسئلہ صرف ڈاؤ یونیورسٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ کراچی کی دیگر بڑی جامعات بشمول داؤد یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی بھی ہاسٹلز کے لیے مختص عمارتوں کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے جیسے الزامات سے بٙری نہیں ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کرنے کا یہ انداز ایک لمحہ فکریہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس