لبنان: سرکاری عمارتوں پر قابض مظاہرین کے خلاف فوجی کارروائی

فوج کے ہی ریٹائرڈ افسران کی سربراہی میں مظاہرین کے اس گروپ نے وزارت خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول کر اسے اپنی ’انقلابی تحریک‘ کا صدر دفتر قرار دے دیا تھا۔

(اےایف پی)

لبنان کے درالحکومت بیروت میں فوج نے کارروائی کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی عمارت سے حکومت مخالف مظاہرین کو باہر نکال دیا ہے۔    

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہرین کے ایک گروپ نے ہفتے کی رات مرکزی بیروت میں وزارت خارجہ سمیت چار اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

فوج کے ریٹائرڈ افسران کی سربراہی میں مظاہرین کے اس گروپ نے وزارت خارجہ کی عمارت پر دھاوا بول کر اسے اپنی ’انقلابی تحریک‘ کا صدر دفتر قرار دے دیا تھا لیکن تین گھنٹے بعد فوج نے بڑی کمک کی آمد کے بعد عمارت میں کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 مظاہرین کو وہاں سے بے دخل کردیا۔

منگل کے کو ہونے ہولناک دھماکے سے اب تک 158 افراد کی ہلاک، چھ ہزار سے زیادہ زخمی اور تین لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس حادثے کے بعد مشتعل عوام حکومت کو اس غفلت کا مرتکب سمجھتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کے لیے باہر نکل پڑے۔

سکیورٹی فورسز نے شہدا سکوائر پر احتجاج کرنے والوں اور سرکاری عمارتوں پر قابض مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق مظاہرین کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 110 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین کے ایک اور گروپ نے وزارت ماحولیات کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جھڑپوں کے دوران مظاہرے میں شریک حیات نذیر نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم اپنی حکومت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے بیروت کی فضا کو آنسو گیس سے بھر دیا۔ یہ ایک باقاعدہ جنگ ہے۔‘

مظاہرین نے وزارت اقتصادیات، لبنان میں بینکوں کی ایسوسی ایشن کے دفتر اور وزارت توانائی پر بھی قبضہ کر لیا تھا تاہم کچھ دیر بعد ہی فوج نے انہیں نکال باہر کیا۔

ماہرین کے مطابق ملک کی معاشی ابتر صورت حال، غربت اور بے روزگاری کے باعث عوام میں پہلے ہی حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جا رہا تھا تاہم منگل کو ہونے والے دھماکے سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اب وہ حکومت کے خلاف بغاوت پر اتر آئے ہیں۔

مظاہرے میں شامل ایک اور شخص نے مقامی ٹی وی کو بتایا: ’انہوں نے لبنان پر 30 سال حکومت کی ہے لیکن اب لبنان ہمارا ہے۔‘

لبنانی سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پورے شہر میں تعینات کر دیا گیا ہے جہاں وہ مشین گنوں سے لیس گاڑیوں میں شہر کا گشت کر رہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ مظاہروں میں ہلاکتوں کا بھی دعوی کیا گیا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار کے مطابق ’فسادیوں‘ کے حملے میں کم از کم ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔

صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے زخمیوں اور کرونا وائرس کے مریضوں کے بعد اب ہسپتالوں پر مظاہروں میں زخمی ہونے والے افراد کا اضافی دباؤ پڑا ہے۔

مظاہرین کے بعد وزیر اعظم حسن دیب نے ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب میں قبل از وقت انتخابات کی تجویز پیش کی ہے۔

دوسری جانب آج (اتوار کو) فرانس کی میزبانی میں بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کا آغاز ہو گا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنما اور امدادی تنظیمیں لبنان کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا