فرانس کی ایران کو لبنان میں ’مداخلت‘ سے دور رہنے کی تنبیہ

اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے تمام متعلقہ قوتوں پر زور دیا کہ وہ لبنان کی اندرونی صورت حال میں مداخلت نہ کریں اور موجودہ حکومت کی حمایت کریں تاکہ وہ اس ہنگامی صورت حال پر قابو پا سکے۔

بیروت میں دھماکے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون چھ اگست کو شہر کو دورہ کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیروت دھماکے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دوران لبنان میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے باز رہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق  پیرس کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر میکرون نے بدھ کو اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے تمام متعلقہ قوتوں پر زور دیا کہ وہ لبنان کی اندرونی صورت حال میں مداخلت نہ کریں اور موجودہ حکومت کی حمایت کریں تاکہ وہ اس ہنگامی صورت حال پر قابو پا سکے۔

گذشتہ ہفتے بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد وزیر اعظم حسان دیاب نے مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے حکومت برخاست کر دی تھی۔

ایران شعیہ تنظیم حزب اللہ کے ذریعے لبنان کی سیاسی اور عسکری محاذ پر گہرا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ حزب اللہ کی موجودہ حکومت میں مضبوط نمائندگی تھی جب کہ یہ صدر میشال عون کے سیاسی اتحاد کا بھی اہم حصہ ہے۔ 

خیال کیا جاتا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر کئی سالوں سے پڑے امونیم نائٹریٹ کے تین ہزار ٹن کے قریب ذخیرے کے باعث ہونے والے دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 170 سے تجاوز ہو گئی ہے جب کہ دھماکے سے چھ ہزار افراد زخمی اور تین لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ حکومت پر الزام ہے کہ اس نے کئی بار خبردار کیے جانے پر بھی امونیم نائٹریٹ کے اس بڑے ذخیرے کے حوالے سے غفلت سے کام لیا تھا۔

فرانس کی سابق نوآبادی ملک لبنان میں اس تباہی کے بعد صدر میکرون بیروت کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما تھے جن کی میزبانی میں بین الاقوامی ورچوئل ڈونر کانفرنس میں لبنان کے لیے 30 کروڑ ڈالر کے قریب امداد کے وعدے کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر روحانی نے گفتگو میں فرانسیسی صدر پر 2015 میں طے پائے گئے جوہری معاہدے کو بچانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر کے ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں بحال کر دی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس یک طرفہ اقدام کے بعد ایران کے لیے اس معاہدے کو قائم رکھنا اہم تھا تاہم تہران جوابی کارروائی کے طور پر اپنے جوہری پروگرام میں تیزی لایا ہے۔  

صدر میکرون نے صدر روحانی کو بتایا کہ فرانس اس معاہدے کے فریم ورک کو بچانا چاہتا ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کا خواہش مند ہے۔

صدارتی محل سے جاری بیان میں مزید کہا گیا: ’اس حوالے سے فرانسیسی صدر نے ایران پر زور دیا کہ کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔‘

دونوں رہنماوں کی بات چیت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آئندہ چند روز میں امریکہ کی جانب سے ایران پر اسلحے کی پابندی کی توسیع کی قرارداد پیش کرنے والا ہے جس کا دو ویٹو پاورز رکھنے والے ممالک روس اور چین کی مخالفت کے باعث مسترد ہونے کا امکان واضح ہے۔ 

فرانس اور اس کے یورپی اتحادی خود بھی اس پابندی میں توسیع کی حمایت کرتے ہیں تاہم ایران کا اصرار ہے کہ یہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

جوہری معاہدے کی قرارداد 2231 کی شرائط کے تحت اکتوبر سے ایران پر اسلحے کی فروخت پر عائد پابندی میں نرمی ہو جائے گی۔

رواں سال جون میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کہا تھا کہ وہ اس پابندی کے خاتمے کی مخالفت کریں گے کیوں کہ ان کا موقف ہے کہ اس سے خطے کی سلامتی اور استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا