بحری جہاز سے تیل کا اخراخ موریشیس کے لیے ماحولیاتی 'بحران'

دو ہفتے قبل ایک جاپانی بحری جہاز کے کورل ریف میں پھنسنے کے بعد اس سے تیل کے اخراج سے پیدا ہونے والے 'بحران' سے نمٹنے کے لیے موریشیس میں ہزاروں شہری سمندر کی صفائی کے لیے رضاکارانہ کام میں شامل ہوگئے ہیں۔

دو ہفتے قبل ایک جاپانی بحری جہاز کے کورل ریف میں پھنسنے کے بعد اس سے تیل کے اخراج سے پیدا ہونے والے 'بحران' سے نمٹنے کے لیے موریشیس میں ہزاروں طلبہ، ماحولیاتی کارکن اور عام شہری سمندر کی صفائی میں مصروف ہیں۔ 

حکام کا کہنا ہے کہ ایم وی واکا شیو نامی مال بردار بحری جہاز سے پہلے ہی ایک ہزار ٹن سے زیادہ تیل سمندر میں بہہ چکا ہے، جبکہ اس کے ڈھانچے میں موجود نئی دراڑوں سے یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔  

موریشیس کے وزیراعظم  پراوند جگ ناتھ نے اتوار کو ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مدد کی اپیل کی تھی کیوں کہ تیل کے اخراج سے بحر ہند کے اس جزیرے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والی سیاحت کی صنعت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہاں کے سمندر کا شفاف پانی اور کورل ریف دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے باعث کشش ہیں۔  

رضا کار اور مقامی افراد تیل جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کپڑے کی بوریوں کی مدد سے بحری جہاز کے گرد حفاظتی حصار بنانے کے لیے دن رات کوششیں کر رہے ہیں تاکہ تیل کے رساؤ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

سیاہ مائل تیل ملے پانی میں گھومتے ہوئے شہری سطح آب کے کچھ حصوں سے زیادہ سے زیادہ تیل کھینچنے کے لیے تیل کے خالی ڈرمز استعمال کر رہے ہیں۔

ملک کے ماحولیاتی مشیر اور سابق رکن پارلیمنٹ سنیل ڈوواکارسنگ نے کہا: ’یہ اب ہمارے ماحول کے لیے خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ماحولیاتی بحران ہے جس نے موریشیس کے ماحولیات کے لحاظ سے ایک انتہائی اہم حصے مہبرگ لگون کو متاثر کیا ہے۔ موریشیس کے ہزاروں عوام جتنا زیادہ ممکن ہو نقصان کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ 

انہوں نے کہا: ’ہر ایک کی مدد کے باوجود اس میں کامیابی نہیں مل رہی۔ تیل نہ صرف سطح سمندر پر تیر رہا ہے بلکہ یہ ساحل تک پھیل چکا ہے جس نے صورت حال کو اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ہم نے موریشیس میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

اے ایف پی کے ساتھ ایک علیحدہ انٹرویو میں ڈوواکارسنگ نے کہا کہ سمندر کی صفائی کی کوششوں کے دوران تمام رضا کار تیل کے باعث سیاہ رنگ میں رنگ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس نقصان سے مکمل طور پر باہر نہیں آ سکتے۔ ہم جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جتنا ممکن ہو نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔‘

25 جولائی کو جہاز سے تیل کے اخراج کے بعد شہری اور ماحولیات کے ماہرین موریشیس کی حکومت سے نالاں ہیں۔

سیٹلائٹ سے لی گئیں تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ مال بردار جہاز کے آس پاس تیل کتنی دور تک پھیل گیا ہے، تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیل ساحلی پٹی کے ساتھ مینگروو کے جنگلات تک پہنچ چکا ہے۔

کارکنوں کو خدشہ ہے کہ تیل کے پھیلاؤ سے ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، جسے ختم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

جہاز کی ملکیتی کمپنی ’ناگاساکی شپنگ‘ اور جہاز کے آپریٹر ’مٹسوئی او ایس کے لائنز‘ نے اتوار کے روز تباہ کن اخراج کے لیے معذرت کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کے عہدیداروں نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ جہاز کے گراؤنڈ ہونے کے بعد انہوں نے صفائی کی کوششوں میں شامل ہونے کے لیے ماہرین کو جزیرے پر بھیج دیا ہے اور اس عمل کو ماحول دوست طریقوں سے انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آپریٹنگ کمپنی کے نائب صدر اکیہیکو اونو نے کہا: ’سب سے پہلے ہم تیل کے مزید اخراج کو روکنے اور اسے سمندر میں پھیلنے سے روکنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس علاقے میں سیاحت پر پڑنے والے ممکنہ بڑے اثرات سے واقف ہیں اور ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم  جگ ناتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ جہاز میں دراڑیں بڑھ رہی ہیں اور صورت حال مزید خراب ہونے کی وجہ سے بدترین حالت کا سامنا کرنا ابھی باقی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جہاز کا دو ٹکڑوں میں ٹوٹنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ تیز ہوائیں اور لہریں تیل کے اخراج کو ساحل کی جانب تیزی سے دھکیل رہی ہیں۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور وضاحت پیش کرنے لیے عوامی دباؤ ہے کہ اس نے پہلے کیوں کارروائی نہیں کی۔

ماہی گیری اور ماحولیات کے وزیروں سے استعفی دینے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے اور ناراض رضاکار سرکاری احکامات مسترد کرتے ہوئے صفائی کے لیے سمندر کا رخ کر رہے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات