ایران پر اسلحے کی فروخت کی پابندی کے لیے متنازع امریکی تکنیک؟

نیو جرسی گولف کلب میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے 2015 میں طے پائے ایران جوہری معاہدے کی ایک شق کی جانب اشارہ کیا۔ لیکن وہ ایک ایسے معاہدے کا سہارا لینے کی بات کر رہے تھے جس سے وہ خود باہر نکل چکے ہیں۔

(اے ایف پی)

سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اسلحے کی فروخت سے متعلق پابندی میں توسیع کی قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اس پابندی کو بحال کرنے کے لیے متنازع تکنیک کے استعمال کرنے کا عزم کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے میں شدید رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔

اس سے ایک روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی میں توسیع کے لیے پیش کی گئی امریکی قرار داد کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا تھا۔

ٹرمپ نے نیو جرسی گولف کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہم اچانک وار کریں گے۔ آپ اسے (امریکہ کی ایران پر پابندی بحال کرانے کی نئی تکنیک کے نتائج) اگلے ہفتے دیکھ رہے ہوں گے۔‘

صدر ٹرمپ کا اشارہ 2015 میں طے پائے ایران جوہری معاہدے کی ایک شق کی جانب تھا جس کے تحت اگر ایران شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ امریکی صدر ایران پر پابندی بحال کرانے کے لیے ایک ایسے معاہدے کا سہارا لے رہے ہیں جس سے وہ خود باہر نکل چکے ہیں۔

اس کے ردعمل میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ  طے پائے گئے معاہدے کو ’نیم مردہ سمجھوتہ‘ کہتا ہے تاہم وہ اسے ختم کرانے میں ناکام رہا ہے۔

روحانی نے کہا: ’امریکہ نے اس سازش میں ناکام ہو کر ذلت ہی اٹھائی ہے۔ یہ دن ایران کی تاریخ اور عالمی تکبر سے لڑنے اور اسے شکست دینے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے صرف دو نے ہی امریکی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اس مسٔلے پر اختلاف کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

ٹرمپ انتطامیہ نے 2018 میں یک طرفہ طور پر امریکہ کو ایران کے ساتھ طے پائے گئے معاہدے سے باہر نکال لیا تھا جب کہ یورپی طاقتیں اب بھی اس معاہدے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سلامتی کونسل میں یورپی اتحاد نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ ایران نے صرف جمہوریہ ڈومینیکن کی حمایت حاصل کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ کا مذاق اڑایا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ٹویٹ میں لکھا کہ اقوام متحدہ کی 75 سالہ تاریخ میں امریکہ کو اس قدر تنہائی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تہران کی سڑکوں پر ایرانی عوام نے بھی امریکہ کی اس ہزیمت پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا۔

یورپی اتحادیوں کے بغیر کیا واشنگٹن تہران پر دوبارہ پابندیاں لگا سکتا ہے اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ’سنیپ بیک‘ کی دھمکی سے سلامتی کونسل بدترین سفارتی بحران کا شکار ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے ہفتے کو یہ بھی کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے مجوزہ سربراہی اجلاس میں شاید حصہ نہیں لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال سے ہم نومبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد تک انتظار کریں گے۔‘

صدر پوتن نے چین، فرانس، برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور ایران سے اپیل کی تھی کہ وہ خلیج میں تناؤ میں اضافے سے بچنے کے لیے ہنگامی سربراہی اجلاس بلائیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ہفتے کے روز پولینڈ کے دورے پر یہ واضح کیا کہ امریکہ ایران پر پابندیوں کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

پومپیو نے صحافیوں کو بتایا: ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے مطالبے کی حمایت نہیں کی۔ مجھے اس پر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جانب سے امریکی قرارداد کو مسترد کرنے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ایرانی دہشت گردی اور جارحیت خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ ایران کو ہتھیاروں کی فروخت کی مخالفت کرنے کے بجائے سلامتی کونسل ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔‘

ایران کو روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ