'ہم طلاق کے ساتھ جڑی ہوئی بدنامی ختم کرنا چاہتے ہیں'

سعودی عرب کی ایک سماجی کارکن غزل ہاشم نے اپنی دوست بسمہ بشنک کے ساتھ مل کر ایک پوڈ کاسٹ شروع کیا ہے، جو طلاق کے بعد خواتین اور مردوں کو درپیش مسائل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

غزل ہاشم (بائیں) اور بسمہ بشنک (دائیں) - (تصویر: عرب نیوز)

سعودی وزارت انصاف کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں کرونا (کورونا) وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے خاتمے اور معمولات زندگی کی بحالی کے بعد طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق وزارت انصاف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون میں طلاق کے چار ہزار 79 سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جبکہ اپریل میں ان کی تعداد 134 تھی۔ اس طرح طلاق کے نئے سرٹیفکیٹس کی تعداد میں 30 گنا اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں اچانک ہونے والا اضافہ انتہائی ہے لیکن اس کے باوجود یہ ملک میں حالیہ برسوں میں طلاق کی شرح میں ڈرامائی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی ایک سماجی کارکن اور طلاق کے معاملے میں رہنمائی کرنے والی کوچ نے ایک منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ شادی کے خاتمے سے جڑے ہوئے 'شرم اور بدنامی'کے مسئلے سے نمٹنے میں لوگوں کی مدد کی جا سکے۔

غزل ہاشم نے اپنی ماہر تعلیم دوست بسمہ بشنک کے ساتھ مل کر 2017 میں 'صفحہ الٹیے'کے نام سے ایک پوڈکاسٹ شروع کیا۔ بعد میں اس پوڈکاسٹ سے انہیں 'نہائت بدایا سنٹر' یا (ایک بہتر انجام کے لیے اکٹھا ہونا) کے نام سے کوچنگ کا کاروبار شروع کرنےکی تحریک ملی۔ اس کوچنگ کو طلاق کے مسائل سے نمٹنے میں مہارت حاصل ہے۔

رضاکارانہ طور پر شروع کیا گیا یہ منصوبہ ایک عربی پلیٹ فارم ہے، جو طلاق کے بعد زندگی کے سماجی، قانونی، جذباتی، پیشہ ورانہ اور خاندان سے متعلق مسائل سے نمٹتا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز اس وقت ہوا جب ہاشم اور بشنک نے اکیلی رہ جانے ماؤں کے طور پر مسائل کا سامنا کیا، جس کے بعد انہوں نے انہی حالات سے گزرنے والی دوسری خواتین کو مدد اور حمایت کی پیش کش کرنے پر غور کیا۔

ہاشم نے عرب نیوز کو بتایا: 'ہم نے سوچا کہ مل کر ایک کتاب لکھیں لیکن اچھی طرح تبادلہ خیال کے بعد ہم نے ایک پوڈکاسٹ شروع کرنے کا فیصلہ جس کےذریعے میں ہم دوستانہ انداز میں بات چیت کر سکیں۔'

پہلا پوڈکاسٹ مشرقی وسطیٰ کے پہلے پوڈکاسٹ نیٹ ورک 'مستدفر' کے ساتھ 2017 میں نشر کیا گیا۔ اب پوڈکاسٹ کا چوتھا سیزن محتوایز نیٹ ورک کے ذریعے نشر کیا جا رہا ہے۔

کئی برس گرزنے کے ساتھ پوڈکاسٹ میں پختگی آئی ہے۔ پہلے سیزن میں توجہ خواتین پر مرکوز تھی لیکن جب دونوں میزبانوں کو احساس ہوا کہ طلاق یافتہ مردوں کو بھی آواز کی ضرورت ہے تو انہوں نے مباحثے میں مرد مہمانوں کو بھی شامل کرنا شروع کر دیا۔

ہاشم کہتی ہیں کہ وہ 'لوگوں کی طلاق لینے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے اپنی کوششیں طلاق یافتہ مردوں اور خواتین کو سماجی سطح پر شرمندگی سے نکالنے اور اعتماد کے ساتھ زندگی کا نیا سفر شروع کرنے میں ان کی مدد کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی کو ایک ناکامی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ 'جب شادی شدہ زندگی ناممکن ہوجائے تو طلاق زندگی میں مثبت تبدیلی میں تیزی لا سکتی ہے۔'

'ہم طلاق کے ساتھ جڑی ہوئی بدنامی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ طلاق کو اتنا برا سمجھا جاتا کہ اس پر بات نہیں کرنی چاہیے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے جس کی ہمارے معاشرے میں شرح بہت زیادہ ہے۔ آپ کو ایسا کوئی خاندان مشکل سے ملے گا جس کے ارکان میں طلاق کا ایک کیس نہ ہو۔'

پوڈ کاسٹ کے تیسرے سیزن میں انہوں نے ان چیلنجز اور خطرات کو شامل کرنے کے لیے بحث کو بڑھایا جن سے خاندان کے اتحاد کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور یہ کہ بے وفائی اور نشے جیسے عوامل آگے جا کر طلاق کا سبب بنتے ہیں۔

ہاشم نے کہا: 'ہم چوتھے سیزن تک پہنچ چکے ہیں جو تقریباً 50 اقساط میں نشر ہوا ہے اور صرف اس ساؤنڈ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر اس کے سامعین کی کل تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔'

پوڈ کاسٹ کی یہ ویب سائٹ اپنے سامعین کو علیحدگی، سنگل پیرنٹنگ اور حالات کا مقابلہ کرنے کے اپنے تجربات شیئر کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے۔

وہ ماہرین کے ساتھ ماہانہ 'سپورٹ گروپ میٹنگ' بھی کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں جن کو دو سال سے طلاق ہو چکی ہے، ہر سیشن میں ایک نئے موضوع پر بحث کی جاتی ہے۔

ہاشم کے 'نہائت بیدایا' مرکز چلانے کا مقصد طلاق کے صدمے سے گزرنے والوں افراد کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: 'پوڈ کاسٹ کی اقساط کی تیاری کے دوران طلاق یافتہ افراد سے میرا رابطہ، میرا مطالعہ اور ماہرین سے ملاقاتوں کی وجہ سے میں 2019 میں سرٹیفائیڈ ڈائیورس کوچ بن گی۔ اب میں شادی اور فیملی تھراپی میں ماسٹر ڈگری کر رہی ہوں۔'

ہاشم نے نوجوان طبی ماہر نفسیات کی ایک ٹیم کو اکٹھا کیا ہے تاکہ نئے طلاق یافتہ افراد کی مدد کی جاسکے۔ ہاشم کے نزدیک ان میں سے کچھ کے لیے یہ تنہا لمبا سفر بن جاتا ہے۔

یہ مرکز جدہ میں واقع ہے جو طلاق یافتہ افراد کو کوچنگ سپورٹ گروپ سیشن کی خدمات پیش کرتا ہے۔ فی الحال اس مرکز کا مقصد طلاق یافتہ خواتین کو علیحدگی کے پہلے سال میں ہی مدد فراہم کرنا ہے تاہم بعد میں طلاق یافتہ مردوں کے ساتھ ساتھ ایسے جوڑوں کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

ہاشم نے کہا: 'طلاق یافتہ افراد کی کوچنگ ایک بامقصد عمل ہے جو طلاق کے صدمے سے گزرنے والے افراد کی حمایت، حوصلہ افزائی اور ان کے مستقبل کے لیے بہترین فیصلے کرنے میں مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: 'کوچنگ، تھراپی سے مختلف عمل ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے منسلک بھی ہوتے ہیں۔ تھراپسٹ ایک ماہر ہوتا ہے جس کا اصل کام مرض کا پتہ لگانا ہوتا ہے لیکن کوچ ایک ایسا پارٹنر ہے جو دریافت ہونے والے مرض پر توجہ دیتا ہے۔ کوچنگ مستقبل پر مرکوز ہے۔ دونوں پیشہ ور افراد ہوتے ہیں جو اپنے صارفین کی مدد پر خاص توجہ دیتے ہیں۔'

'وہ یہ کام مل کر بھی کرسکتے ہیں کیونکہ بہت سارے تھراپسٹ بعض اوقات کوچنگ کی مہارت کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایک کوچ کبھی بھی مرض کو بہتر جاننے کا دعویٰ نہیں کرتے اور ہم ہمیشہ تھراپسٹ سے رجوع کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں تھراپسٹ کے ذریعے ہی پتہ چلتا ہے کہ ایک صارف کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے یا وہ ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا ہے۔'

لوگ بعض اوقات کونسلر کی بجائے کوچ کا انتخاب کرتے ہیں کیوں کہ انہیں ایسا کرنا زیادہ سستا لگتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مدد کے لیے غلط شخص کا انتخاب کرنے سے صارف پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ہاشم امید کرتی ہیں کہ قانونی اور مشاورتی خدمات اور ماہرین کی ورکشاپس کے ساتھ ساتھ ان کے مرکز کی خدمات کے ذریعے قومی منصوبے کے ایک حصے کے طور پر طلاق کے بارے میں معاشرے کے نظریہ کو زیادہ روادار اور مددگار بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا نے طلاق کو معاشرتی بدنامی کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جسے عام طور پر ناکامی، دکھ اور بچوں کے مستقبل کی تباہی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: 'طلاق بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسٔلہ یہ ہے کہ ہم اسے کیسے لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس کامیاب یا مفید طلاقوں کی کم ہی مثبت تصاویر اور مثالیں موجود ہیں۔ اگر طلاق اتنی ہی بری چیز ہوتی تو ہمارے مذہب میں اس کی قانونی حیثیت نہ ہوتی اور قرآن میں ایک سورۃ کو طلاق کے لیے وقف نہ کیا جاتا۔'

انہوں نے کہا کہ اگرچہ طلاق مردوں اور خواتین دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے لیکن طلاق یافتہ مردوں کو شاید ہی کبھی ان کے جذبات کو تسلیم کرنے یا اپنے تجربات سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اسی لیے وہ کئی شادیاں کرتے ہیں اور ہر بار ناکام ہوجاتے ہیں۔

ہاشم نے کہا کہ عرب معاشروں میں زیادہ تر طلاق کو خصوصی طور پر مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہاں خاندان اور شادی سے متعلق سپورٹ سروس اور ان کی اہمیت سے آگاہی کا فقدان ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین