پاک افغان تجارت: 'جہاں 1200 گاڑیاں گزرتیں،اب 400 جاتی ہیں'

چونکہ افغانستان کا کوئی سمندری ساحل نہیں ہے اس لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان افغانستان کو دنیا بھر سے تجارتی سامان کی درآمد کے لیے ٹرانزٹ سہولت فراہم کر رہا ہے، لیکن اس روٹ پر تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

دو ہزار چار سو تیس کلومیٹر طویل پاک افغان بارڈر جو  پاکستان کے شمال میں واخان پٹی سے شروع ہوکر بلوچستان میں ختم ہوتا ہے، وہاں سولہ مقامات ایسے ہیں جہاں سے روایتی طور پرمقامی لوگوں کی آمدورفت اور سرحدی تجارت ہوتی رہی ہے۔

مگر دنیا بھر میں عموما اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں خصوصادہشت گردی، سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے بڑھتے واقعات نے اس سرحد پر آمد ورفت اور تجارت کو بھی متاثر کیا۔

حکومت پاکستان کو مجبورا ان سولہ مقامات کو پانچ سرحدی دروازوں (طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن)تک محدود کرنا پڑا۔

چونکہ افغانستان کا کوئی سمندری ساحل نہیں ہے اس لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان افغانستان کو دنیا بھر سے تجارتی سامان کی درآمد کے لیے ٹرانزٹ سہولت فراہم کر رہا ہے۔ لیکن بوجوہ درجہ بالا پانچ میں سے صرف دو راستوں طورخم اور چمن کو ٹرانزٹ ٹریڈ اور بین الاقوامی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔

اس کی وجہ سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر سے لے کر تاجر حضرات، گاڑی مالکان مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں بلکہ حکومتوں تک کو مشکلات کا سامنا ہے۔

آئے روز طورخم بارڈر پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں کنٹینرز دو سے  سات دن تک کلیرنس کے انتظار میں گزارتے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کا انتہائی قیمتی سرمایہ اور وقت ضائع ہورہا ہے۔ تین دن پہلے بھی اسی قسم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پاک افغان سرحدی حکام کی فلیگ میٹنگ منعقد ہوئی۔  

ذیل میں ہم ان رکاوٹوں اور انتظار کی وجوہات اور اس کے ممکنہ حل پر بات کرتے ہیں۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق سینیئر نائب صدر اور فرنٹئیرکسٹم کلیرنگ ایجنٹس ایسوی ایشن کے صدر ضیاالحق سرحدی نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان، افغانستان کے لیے حکومت کے خصوصی نمائندے محمد صادق اور وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کی تمام تر کوششوں اور خواہش کے باوجود طورخم بارڈر پر تاجروں اور کنٹینرز مالکان کی مشکلات میں کمی نہیں ہوئی۔

ان رکاوٹوں کی وجہ سے گزشتہ چھ مہینے میں تاجروں کو صرف کراچی میں اضافی کرایہ اور مال خراب ہونے کی مد میں چالیس کروڑ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ دو سال پہلے راہداری پرمٹ، پارکنگ اور مختلف چیک پوسٹوں پر چائے پانی سمیت فی گاڑی خرچہ پانچ سے چھ ہزار روپے ہوتا تھا مگر اب متعددمحکموں (این ایل سی، کسٹم، پولیس، ایف آئی اے، انتظامیہ،ایف سی) کی موجودگی نے تاجروں اور کنٹینرز مالکان کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے اور اب وقت کے ضیاع کیساتھ ساتھ فی گاڑی اضافی خرچہ پچاس سے ساٹھ ہزار روپے آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چار سال پہلے سے شروع ہونے والا ایشیائی ترقیاتی بنک کا پراجیکٹ این ایل سی نے ابھی تک مکمل نہیں کیا جس میں طورخم اور چمن کراسنگ پوائنٹس کو واہگہ کی طرح سہولیات سے آراستہ کرنا اور یہاں سے تجارتی سامان سمیت آمد ورفت کو منظم اور آسان بنانا ہے۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر ابراہیم شینواری کے مطابق مقامی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ این ایل سی کے کارندے اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔ وہ ہر قسم کے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔

ابراہیم شینواری نے مطالبہ کیا کہ ٹرکوں اور کنٹینرز کو سکین کرنے والے  سکینرز کی تعداد بڑھائی جائے، زیرو پوائنٹ پر داخلی و خارجی دروازوں کو الگ الگ کیا جائے  اور سیکیورٹی معاملات دو تین کی بجائے کسی ایک ادارے کے ذمے لگائے جائے تو ان مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بھی این ایل سی کے جد ید ترین ٹرمینل بنانے کے وعدے اور کام کی رفتار کا شکوہ کیا۔

فلیگ میٹنگ میں شرکت کرنے والے ذمہ دار سرکاری افسر ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم نے تفصیل سے ان مشکلات اور ان کی وجوہات پر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں کرونا کی وجہ سے سرحدوں کی بندش رہی اور گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ متاثر ہوا۔ اگرچہ جون سے سرحدوں کو واپس کھولا گیا ہے مگر کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد جس میں زیرو پوائنٹ پر ڈرائیوروں کی تبدیلی،  تمام سامان کی جراثیم کشی کا عمل وغیرہ شامل ہیں، ان کاموں نے سرحد پر گاڑیوں کی آمد ورفت کے عمل کو نسبتا سست بنایا ہے۔

انھوں نے بتا یا کہ کرونا سے پہلے ہم صرف درآمدی سامان کو سکین کرتے تھے مگر اب حکومتی ہدایات کی روشنی میں درآمدی اور برآمدی تمام سامان کو گاڑیوں سمیت سکین کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چمن بارڈر پر گزشتہ دو ہفتے  احتجاجی دھرنے  اورحالات خرابی کی وجہ سے بھی طورخم بارڈر پر گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ این ایل سی نے ایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے سولہ ارب روپے کے ایک بڑے پراجیکٹ پر کام شروع کیا ہے جس میں تمام جدید سہولیات سے آراستہ ٹرمینلز سمیت چمن اور طورخم سرحدوں پر آمد ورفت کو منظم اور آسان بنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ فلیگ میٹنگ میں افغان حکام نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ روایتی سرحدی طریقہ کار اور آنے جانے کی گنتی اور تناسب کو عارضی طور پر نرم کیا جائے گا تاکہ جمع شدہ سامان اور گاڑیوں کی نکاسی ممکن ہو سکے۔

افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے اور سینئر ڈپلومیٹ محمد صادق نے رابطہ کرنے پر حکومتی اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طورخم پر رش کم کرنے کے لیے کرم شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بالترتیب خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ سرحدوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت کی اجازت دے دی ہے۔ بقول ان کے گزشتہ روز بھی غلام خان گیٹ سے دو سو گاڑیوں کی آمد ورفت ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سیمنٹ بر آمد کرنے والی تمام گاڑیوں کو خرلاچی گیٹ سے جانے کے احکامات دیے ہیں اور ہم نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غلام خان سرحد پر اپنا ضروری عملہ تعینات کریں تاکہ افغان ٹرانزٹ سامان کا کچھ حصہ وہاں سے افغانستان بھیج کر طورخم پر بوجھ کو کم کیا جاسکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے کہا طورخم میں جدید ٹرمینل بنانے پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ سرحدی سڑک کو سات رویہ کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں جن میں ایک تین رویہ سڑک صرف برآمدی گاڑیوں کے لیے ہوگی۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ پہلے جس گیٹ سے روزانہ بارہ سو گاڑیوں کو بھیجا جارہا تھا وہاں کرونا کے بعد  تعدادصرف چار سو گاڑیوں تک محدود کرنے میں سرحدی حکام اور متعلقہ اداروں کی کچھ کوتاہیاں بھی شامل ہیں جن کو دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

محمد صادق نے کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں آٹھ سو گاڑیوں کو  طورخم بارڈر پر سرحد پار بھجیاگیا ہے۔ اور بہت جلد یہ تعداد بارہ سو روزانہ تک بڑھا دی جائے گی جس سے جمع ہونے والی گاڑیوں کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔

پاکستان کی جانب درجہ بالا تمام حقائق کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھی تین وجوہات کی وجہ سے طورخم بارڈر پر رش بن جاتا ہے جس میں اس طرف انتہائی تنگ سڑک کا ہونا، ان کے نئے لگائے گئے ڈیجیٹل وزن کانٹے میں فالٹ ہونا اور ان کے سرحدی حکام کا یہ کہنا شامل ہے کہ دونوں طرف سے آنے جانے والی گاڑیوں کی تعداد برابر ہونی چاہیے۔

حکومت کو چاہیے کہ افغان حکام کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا پائیدار حل نکالا جائے تاکہ دونوں ممالک قریب ترین اور آسان سستی منڈیوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان