چمن سرحد پر حالات بدستور کشیدہ، تین لیویز اہلکاروں سمیت آٹھ زخمی

مظاہرین سرحدی گیٹ کھلنے تک دھرنا دیے بیٹھے ہیں، علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل، سرکاری حکام آج مظاہرین سے مذاکرات کریں گے۔

چمن کے ضلعی ہسپتال کے باہر لوگ جمع ہیں

صوبہ بلوچستان میں افغانستان سے متصل سرحدی علاقے چمن میں جمعرات کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد جمعے کو دوسرے روز بھی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

آج مظاہرین نے کنٹینر سٹی کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ، جس  دوران جھڑپ میں تین لیویز اہلکار اور پانچ مظاہرین زخمی ہو گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر چمن ذکا اللہ درانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور مظاہرین سرحدی دروازے 'باب دوستی' کے قریب دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ درانی کے مطابق پارلیمانی نمائندوں اور سرکاری حکام پر مشتمل کمیٹی مظاہرین سے مذاکرات کے لیے چمن کا دورہ کرے گی تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز مظاہرین کی طرف سے سرحدی گیٹ کو زبردستی کھولنے اور توڑ پھوڑ کے بعد کئی لوگ افغانستان میں داخل ہو گئے اور وہاں سے بعض لوگ پاکستانی حدود میں داخل ہوئے، جس کے بعد پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور شہر میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ لیویز حکام کے مطابق سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ رات گئے بند ہوا۔

سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ اور فائرنگ کے تبادلے کے باعث سرحد سے متصل علاقوں کلی فیضو، گلدار باغیچہ اور دیگر جگہوں سے لوگوں نے فائرنگ سے بچنے کے لیے نقل مکانی شروع کر دی۔

کشیدہ صورتحال کے باعث چمن اور ضلع قلعہ عبداللہ میں انٹرنیٹ سروس  معطل کردی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو خط لکھاتھا کہ سرحدی علاقے میں بعض لوگ ریاست کے خلاف مواد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر رہے ہیں لہٰذا انٹرنیٹ سروس بشمول تھری جی، فور جی کو معطل کردیا جائے۔

کوئٹہ سول ہسپتال کی پولیس سرجن عائشہ فیض کے مطابق چمن سے دو لاشیں کوئٹہ سول ہسپتال منتقل کی گئیں، جن کی ہلاکت کی وجہ گولی لگنا ہے، ایک لاش لواحقین لے گئے جبکہ دوسری لاش نامعلوم شخص کی ہے۔

عائشہ فیض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'چمن سے چار زخمی بھی منتقل کیے گئے ہیں، جن میں دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے اور دو کو پتھر لگے ہیں، جن کی حالت اب بہتر ہے۔'

ادھر پاک افغان سرحد کی بندش اور کرونا وبا سے قبل کی طرح سرحدی گیٹ کھولنے کے لیے احتجاج کرنے والے آل پارٹیز اتحاد میں شامل پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ملا بہرام سمجھتے ہیں کہ یہ واقعہ ان کے دھرنے کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔

ملا بہرام نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'ہم پر امن احتجاج کرنے والے لوگ ہیں، گذشتہ روز توڑ پھوڑ کرنے والے ہمارے ساتھی نہیں تھے۔'

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرحدی حکام نے عید کی وجہ سے پہلے سرحد کھولنے کا اعلان کیا جس کے بعد سرحد پر تقریباً 10 ہزار کے قریب لوگ جمع ہوگئے لیکن پھر سرحد کو اچانک بند کردیا گیا اور ہمارے پوچھنے پر کہا گیا کہ 'پہلے آپ دھرنا ختم کریں پھر سرحد کھول دیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ جمعرات کو پاک افغان سرحد کی بندش پر مشتعل مظاہرین نے سرحد پر لگے بیریئر اکھاڑ دیے  تھے اور سرحد پر قائم امیگریشن دفتر میں توڑ پھوڑ کرکے نادرا کے کمپیوٹرز کو نذر آتش کردیا تھا۔ کل کی جھڑپوں میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئےتھے۔

ملابہرام کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران ہونے والی فائرنگ سے عام شہری زخمی ہوئے جبکہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ حملے ایک منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔

پاک افغان سرحد کو دو مارچ کو کرونا وبا کے باعث بند کردیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اسے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور ہفتے میں ایک روز پیدل آمد و رفت کے لیے کھولا گیا۔ سرحد کی بندش کے خلاف آل پارٹیز اور تاجر اتحاد ( جسے لغڑی اتحاد بھی کہا جاتا ہے )احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرحد کو کرونا وبا سے قبل کی طرح ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے کھولا جائے۔

گذشتہ روز بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرحد کو بند کرنے کا مقصد دہشت گردوں کی آمد کو روکنا ہے، احتجاج کا مقصد سرحد کو پار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں پر براہ راست فائرنگ کرنا درست نہیں، واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔  ادھر افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے محکمہ دفاع نے ایک اعلامیے میں الزام لگایا کہ سرحدی شہر سپن بولدک پر پاکستانی فوج کی فائرنگ سے نو افغان شہری ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے عید کے موقعے پر اپنے پیغام میں ان حملوں کی مذمت کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان