افغان امن مذاکرات کے لیے طالبان کی جانب سے سخت گیر سربراہ کا تقرر

طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے آئندہ ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کے لیے سخت گیر خیالات کے حامل شیخ عبدالحکیم کو اپنے گروپ کا کلیدی مذاکرات کار مقرر کیا ہے۔

(اے ایف پی)

طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے آئندہ ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کے لیے سخت گیر خیالات کے حامل شیخ عبدالحکیم کو اپنے گروپ کا کلیدی مذاکرات کار مقرر کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق قندھار کے رہائشی عبدالحکیم طالبان گروپ کے موجودہ چیف جسٹس اور ہیبت اللہ کے قریبی اور با اعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان نے ہفتے کی شب اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عبدالحکیم افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں گروپ کی 21 رکنی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔

ان مذاکرات کے آئندہ چند دنوں میں قطر کے شہر دوحہ میں شروع ہونے کی توقع ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا: 'شیخ مولوی عبد الحکیم کو طالبان مذاکراتی ٹیم کا سربراہ اور شیر محمد عباس ستانکزئی کو ان کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی ترجمانی کرنے کے لیے محمد نعیم وردک نے سہیل شاہین کی جگہ لی ہے۔ شاہین طالبان رہنماؤں کے چند مشہور چہروں میں سے ایک ہیں جو طویل عرصے سے اس گروپ کی ترجمانی کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق شیخ عبدالحکیم کی تقرری کے ساتھ ہی طالبان کے سربراہ نے گروپ کے سیاسی امور پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ مذاکراتی ٹیم میں کونسل کی قیادت کرنے والی ’رہبری شوریٰ‘ اور کے 13 ارکان شامل ہیں جوصرف گروپ کے سربراہ کو جوابدہ ہیں۔

گروپ کے ذرائع کے مطابق طالبان مذاکراتی ٹیم کے تقریبا تمام ارکان پہلے ہی دوحہ پہنچ چکے ہیں جن میں ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں گذشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والی چھ رکنی ٹیم بھی شامل ہے۔

ابتدائی طور پر 10 مارچ کو انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا لیکن قیدیوں کے تبادلے میں تاخیر اور ڈیڈ لاک نے ان کوششوں میں رکاوٹ پیدا کردی تھی۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق اب جبکہ غنی حکومت نے تقریبا تمام طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے لیکن حکومتی مذاکراتی ٹیم تکنیکی مسائل کے سبب ہفتہ کے روز کابل سے روانہ نہیں ہو سکی۔ توقع ہے کہ یہ ٹیم آج (اتوار کو) قطر کے لیے روانہ ہوگی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق  افغان مفاہمتی عمل کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد  بھی جمعہ کو دوحہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

امید ہے کہ خطے میں ان کی موجودگی سے انٹرا افغان مذاکرات کے فوری آغاز کو فروغ مل سکے گا۔

ہفتہ کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغان رہنماؤں کو امن کے لیے اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ افغان عوام تشدد میں کمی اور ایک ایسی سیاسی تصفیے کے لیے تیار ہیں جس سے جنگ کا خاتمہ ہوگا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام فریقوں نے مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور اب بالآخر ان مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا