یوٹیوب ویڈیو بچوں کے لیے محفوظ یا نہیں؟ فیصلہ مصنوعی ذہانت کرے گی

یوٹیوب نے کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں پہلے ہی نقصان دہ مواد کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اسے ویڈیوز سے منافع کمانے والے افراد پر اس اصول کے اطلاق سے کوئی فرق پڑنے کی امید نہیں ہے (اے ایف پی)

یوٹیوب کی جانب سے اب خود کار طور پر بچوں کو ’غیر مناسب‘ ویڈیوز سے محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاحال یوٹیوب انسانی نشاندہی کے ذریعے ایسی ویڈیوز کا فیصلہ کرتی ہے جو 18 سال سے کم عمر افراد کو نہیں دیکھنی چاہییں لیکن اب جلد ہی مشین کے استعمال کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جائے گا۔

ایک بلاگ پوسٹ میں یوٹیوب کی جانب سے کہا گیا کہ ’مواد اپ لوڈ کرنے والے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس اصول کا اطلاق غلط طور پر کیا گیا ہے۔‘

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اسے ویڈیوز سے منافع کمانے والے افراد پر اس اصول کے اطلاق سے کوئی فرق پڑنے کی امید نہیں ہے۔

ایسی بہت سی ویڈیوز جو اس اصول کی زد میں آئیں گی وہ پہلے ہی یوٹیوب کی اشتہاری پالیسی کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور ان پر بہت کم یا بالکل نہ ہونے کے برابر اشتہار موجود ہیں۔

یوٹیوب نے کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں پہلے ہی نقصان دہ مواد کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھا دیا ہے اور 2020 کی دوسری سہ ماہی میں اتنی بڑی تعداد میں ویڈیوز ہٹائی ہیں جتنی اس سے پہلے کبھی نہیں ہٹائی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حقیقت ہے کہ ویڈیو ویب سائٹ انسانی ماڈریٹرز پر انحصار نہیں کرسکتی یوٹیوب نے آٹو میٹڈ فلٹرز کا استعمال بڑھا دیا ہے تاکہ ان ویڈیوز کو ہٹایا جا سکے جو اس کی پالیسیز کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

ایک جانب جب یوٹیوب کا مواد ہٹانے کا مرکزی نظام درست نہیں ہے، دوسری جانب کمپنی نے ’اعتراف کیا ہے کہ ان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ویڈیوز کو ہٹانے کے سلسلے میں بروئے کار لایا جانے والا معیار بہت کم حد تک درست ہے۔‘

دوسری سوشل میڈیا کمپنیز بھی مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہی ہیں تاکہ ان کے پلیٹ فارمز کو محفوظ رکھا جا سکے لیکن صارفین کی جانب سے اس نظام کا رخ موڑنے کی کوششوں کی وجہ سے انہیں بھی مسائل کا سامنا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی