منڈی بہاؤالدین: صحافی کے قتل کی وجہ صحافت یا سیاسی مداخلت؟

پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاقے ملکوال میں مقامی صحافی کو پولیس سٹیشن سے واپس گھر جاتے ہوئے گولیاں مار ہلاک کر دیا گیا۔

صحافی عابد حسین مقامی اخبارات کے لیے کام کرتے تھے (سوشل میڈیا)

پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاقے ملکوال میں مقامی صحافی کو پولیس سٹیشن سے واپس گھر جاتے ہوئے گولیاں مار ہلاک کر دیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صحافی عابد حسین رات گئے اپنے خلاف درخواست پر تفتیش میں پیش ہونے کے بعد تھانے سے واپس گھر جا رہے تھے۔

صحافی عابد حسین مقامی اخبارات کے لیے کام کرتے تھے۔

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے جبکہ صحافتی تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب بعض اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں سیاسی مداخلت کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔

جس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کون ملوث ہیں یہ تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی معلوم  ہو گا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

ایف آئی آر کے مطابق صحافی عابد حسین کوسنیچر کی  رات تھانہ کے لینڈ لائن نمبر سے کال آئی کہ ان کے خلاف ایک درخواست آئی ہے لہذا تفتیش کے لیے وہ تھانے آجائیں۔

وہ تھانے گئے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور واپس روانہ ہوگئے۔  ان کا گھر بھی تھانے سے تھوڑی ہی دور واقع ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق تھانے سے نکلتے ہی چار نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی اور گولیاں لگنے سے ان کی ہلاکت ہوگئی۔

صحافی عابد حسین کے بھائی اور مدعی مقدمہ محمد آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی اخبارات کے لیے کام کرتے تھے اور انہیں (عابد حسن) مختلف لوگوں کے خلاف خبریں دینے پر دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی نہ ہی عابد نے کبھی جان سے مار دینے کی دھمکیوں کا ذکر کیا۔

آصف کے مطابق پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن ابھی تک اصل ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم قاتل کیونکہ نامعلوم ہیں اس لیے شک کی بنیاد پر گرفتاریوں کے بعد کئی افراد کو تفتیش کر کے چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ واقعہ میں ملوث اصل ملزموں کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائس چیئرمین منڈی بہاؤالدین پریس کلب منظر ساجد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کہا کہ ’عابد حسین کو قتل کرنے والوں کی پی ٹی آئی کی مقامی قیادت پشت پناہی کرتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب تک جنہوں نے تھانے کے نمبر سے فون کر کے انہیں بلوایا ان کو سامنے نہیں لایا گیا۔‘

منظر کے مطابق ’یہ منصوبہ بندی سے کیا گیا قتل ہے جس میں پولیس بھی جانبداری سے کام لے رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مقامی صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں جن کے مسائل سننے کو کوئی تیار نہیں۔

سیاسی مداخلت

ایک طرف حکمران جماعت کی مقامی قیادت تو دوسری جانب مسلم لیگ ن مقتول کو اپنا حامی قرار دے رہی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’عابد حسین صحافت کے ساتھ اور بہت سے کاموں میں ملوث تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ (عابد حسین) پی ٹی آئی کا حمایتی تھا اور ملکوال سے ان کے بھائی ایم پی اے ہیں اس لیے اس معاملہ کو خود دیکھ رہے ہیں۔

ندیم افضل چن کے مطابق اس قتل کے اصل محرکات صرف خبریں نہیں بلکہ ذاتی معاملہ ہے کیونکہ اب تک کی معلومات کے مطابق مقتول کئی سرگرمیوں میں مداخلت کرتا تھا۔

مسلم لیگ ن کے مقامی ایم این اے ناصر بوسال نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عابد حسین صحافت کے ساتھ ذاتی طور پر ن لیگ کے حامی تھے۔‘

سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ میں ن لیگ کی پالیسیوں سے اتفاق ہوتا تھا جبکہ حکومت سے اختلاف کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’جس رات قتل ہوا اس وقت ندیم افضل چن کے بھائی گلریز چن جو ملکوال سے ایم پی اے ہیں ان کے فرنٹ مین صدر پریس کلب ملکوال نے ایک فرضی درخواست پر انہیں تھانے طلب کرایا۔‘

’جب وہ تھانے آئے اور واپس جانے لگے تو انہیں قتل کر دیا گیا۔‘

ناصر بوسال کے مطابق ’عابد حسین جن جرائم پیشہ افراد کے خلاف خبریں لگاتے تھے ان کا تعلق بھی پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں سے ہے۔ اس لیے اس قتل میں انصاف ملتا دکھائی نہیں دے رہا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان