النصر اسرائیلی فٹبالرسے معاہدہ کرنے والا پہلا عرب کلب

النصر اور اسرائیلی کھلاڑی دیا صابیا میں یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کے دو ہفتوں سے بھی کم  وقت میں طے پایا۔

جارحانہ مڈ فیلڈر 28 سالہ صابیا اسرائیلی عرب ہیں، جو چینی کلب گوانگ زو آر اینڈ ایف کے لیے کھیلتے ہیں(انسٹا گرام)

النصر فٹ بال کلب کسی اسرائیلی فٹبالر سے معاہدہ کر نے والا پہلا عرب  کلب بن گیا۔ النصر اور اسرائیلی کھلاڑی دیا صابیا میں یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کے دو ہفتوں سے بھی کم  وقت میں طے پایا۔

جارحانہ مڈ فیلڈر 28 سالہ صابیا اسرائیلی عرب ہیں، جو چینی کلب گوانگ زو آر اینڈ ایف کے لیے کھیلتے ہیں۔ النصر کے اتوار کو سامنے آنے والے ایک بیان کے مطابق یہ معاہدہ دو سال کے لیے کیا گیا۔ ان کی منتقلی پر 25 لاکھ یوروز سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔

النصر کے بیان کے مطابق صابیا نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور کامیاب طبی معائنے کے بعد آج صبح سے اس معاہدے کی مدت دو سیزنز تک ہو گی۔ النصر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے صابیہ کی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے، جس میں وہ نو نمبر کی جرسی پہن کر متحدہ عرب امارات کے المکتوم سٹیڈیم میں فٹ بال کی مشق کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

صابیہ کا یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 15 ستمبر کو واشنگٹن میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا۔ صابیہ کا تعلق ایک فلسطینی خاندان سے ہے لیکن وہ شمالی اسرائیل کے علاقے میں پیدا ہوئے جس کے بعد وہ یوتھ فٹ بال کلب میں حصہ لینے کے لیے 2012 میں تل ابیب منتقل ہو گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ 2014 تک مختلف اسرائیلی کلبز کی طرف سے کھیلتے رہے جس کے بعد وہ مکابی نیتنیا کا حصہ بن گئے جہاں انہوں نے چار سال گزارے۔

صابیہ نے مختلف قسم کے 111 میچوں میں 50 گول کیے ہیں، جن میں سے 24 گول 2018 کے سیزن کے دوران ہوئے جبکہ وہ اسرائیلی قومی ٹیم کی جانب سے بھی 10 گول کر چکے ہیں۔

انہیں چینی کلب گوانگ زو آر اینڈ ایف کو 40 لاکھ یوروز سے زائد میں فروخت کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال