ایف آئی اے کے سابق سربراہ کا بیان ذاتی عناد ہے: شہزاد اکبر

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کے حالیہ انٹرویو سے وزیراعظم عمران خان کے اپوزیشن کے حوالے سے احتساب کے عمل پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہوئے تھے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اگر بشیر میمن کو ابراج گروپ کے خلاف کارروائی سےمنع کیا ہی گیا تھا تو وہ منع کیے جانے کے باوجود بھی کارروائی جاری رکھتے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر میمن کی جانب سے لگائے گئے حالیہ الزامات پر اپنے ردعمل میں انہیں ’سازشی‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک دفعہ وہ ان کے پاس آئے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن اور مصطفی نواز کھوکھر کو گرفتار کریں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں شہزاد اکبر نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی پر جب پی پی پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی تو بشیر میمن میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ ہمیں مصطفی نواز کھوکھر اور شیری رحمٰن کو گرفتار کرنا چاہیے۔‘

شہزاد اکبر کے مطابق انہوں نے ان دونوں کو گرفتار کرنے سے انکار کیا۔

مشیر داخلہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ ’بشیر میمن مسلم لیگ ن کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور یہ ان کا ذاتی عناد ہے۔‘

شہزاد اکبر سے جب پوچھا گیا کہ بشیر میمن کے الزامات پر ان کی حکومت کا کیا موقف ہے تو انہوں نے بتایا کہ ’حکومت ان کے تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔‘

اس سوال پر کہ ’بشیر میمن کے مطابق وزیراعظم نے ابراج گروپ یا کے الیکٹرک پر تحقیقات روکنے کو کہا تھا،‘ شہزاد اکبر نے جواب دیا: ’یہ غلط ہے اور اگر انہیں منع کیا ہی گیا تھا تو وہ منع کیے جانے کے باوجود بھی کارروائی جاری رکھتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مشیر داخلہ و احتساب نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کے حوالے سے 2016 کی خبروں کا بھی حوالیہ دیا جن کے مطابق جب بشیر میمن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئی جی پولیس تعینات تھے تو وہاں کی حکومت نے ان کی خدمات کو واپس کرنے کے لیے کہا تھا مگر بشیر میمن نے اس پر عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا تھا۔ پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر میں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔

واضح رہے کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے حالیہ انٹرویو کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اپوزیشن کے حوالے سے احتساب کے عمل پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہوئے تھے، جس پر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن نے حکومت کے احتساب کے بیانیے پر تنقید کی تھی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی جمعرات کو پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے خطاب کے دوران بشیر میمن کے ان الزامات پر مشتمل ویڈیو چلوائی تھی۔

بشیر میمن نے کیا الزامات عائد کیے؟

صحافی مطیع اللہ جان کو ان کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو کے دوران بشیر میمن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ایف آئی اے سے وہ سب کچھ چاہتے تھے جو کہ نیب کر رہا ہے۔ 

بشیر میمن نے انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ 56 کمپنیوں کا کیس صوبائی اینٹی کرپشن ایجنسی کے مینڈیٹ میں آتا تھا جس میں ایف آئی اے ’اچھل کود‘ نہیں مچا سکتا۔ 

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے حوالے سے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر خاتون اول (بشریٰ بیگم) کی تصویر آئی تھی جس پر وزیراعظم عمران خان چاہتے تھے کہ دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے۔‘

بشیر میمن کے مطابق: ’ملک کے سب سے بڑے دفتر کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ آپ مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا سیل کے خلاف ایکشن لیں۔‘ تاہم انہوں نے جواب میں کہا کہ ’کس قانون کے تحت اس پر کارروائی ہو سکتی ہے؟‘

بشیر میمن کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف کیس کے لیے بھی انہیں کہا گیا مگر بعد میں یہ ’بوجھ نیب نے اٹھا لیا‘، جبکہ انہیں وزیر خارجہ اور دفاع رہتے ہوئے خواجہ آصف کی بیرون ملک نوکری پر کابینہ کی میٹنگ میں ان پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے کہا گیا۔ 

ابراج گروپ اور کے الیکٹرک کے حوالے سے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس میں بات ہوئی اور کہا گیا کہ کمپنی (ابراج گروپ) تباہ ہو گئی ہے۔ بشیر میمن کے مطابق: ’وزیراعظم کے خیال میں ایف آئی اے نے ان کے خلاف تحقیق کرکے بہت خراب کیا۔ وزیراعظم تین چار دفعہ کے الیکٹرک کا ذکر مجھ سے کر چکے ہیں۔‘

بشیر میمن نے صحافی احمد نورانی کے حوالے سے بھی بتایا کہ وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے احمد نورانی کی جانب سے ان کے خلاف ایک ٹویٹ پر انہیں کہا کہ ’اس کی ٹانگیں توڑ دیں۔‘

ان الزامات کا جواب لینے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے وزیر داخلہ سے رابطہ کیا اور سوالنامہ بھجوایا مگر تاحال ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ 

بشیر میمن کون ہیں؟ 

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر احمد میمن کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے اور وہ پولیس اور ایف آئی اے کے محکموں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ 2019 کے آخر میں انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ بشیر میمن اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ٹرانسفر پر خوش نہیں تھے۔  

سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس میں بھی بشیر میمن کا کلیدی کردار تھا اور پیپلزپارٹی ماضی میں ان پر بارہا الزامات لگاتی رہی ہے۔ 

بشیر میمن کو عہدے سے ہٹا کر پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست