بھارت میں کرونا کیسز 70 لاکھ سے زیادہ؛ کم ترین شرح ہلاکت

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بیس ممالک کے مقابلے میں بھارت میں ہر سو افراد میں ہلاکتوں کی شرح سب سے کم رہی ہے۔

(اے ایف پی)

بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی جس کے بعد کیسز کے معاملے میں بھارت کے امریکہ کو پیچھے چھوڑنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

وزارت صحت کی جانب سے اتوار کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق 75000 نئے کیسز کے بعد بھارت میں کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ستر لاکھ پانچ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرونا کیسز رکھنے والے ملک امریکہ میں یہ تعداد 70 لاکھ 67 ہزار ہو چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں کرونا کیسز کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد ہو چکی ہے جو کہ زیادہ کیسز رکھنے والے ممالک سے نسبتا کم ہیں۔

امریکہ میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 14 ہزار ہے جب کہ برازیل جہاں کرونا کے 20 لاکھ سے زائد کیسز کی تصدیق کی گئی ہے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ 50 ہزار ہو چکی ہے۔

بھارت میں کم ہلاکتوں کی وجوہات زیادہ نوجوان آبادی، دوسری بیماریوں کے باعث پیدا ہونے والی امیونٹی اور ہلاکتوں کی کم رپورٹنگ ہو سکتی ہیں۔

ایک ارب تیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں کرونا سے متاثر ہونے والے دوسرے ممالک کی نسبت ہلاکتوں کی تعداد کافی کم رہی ہے۔

ماہرین اس بات پر حیران ہیں اور وہ اس کی وجہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑی آبادی، دوسری بیماریوں سے ہونے والی امیونٹی یا کم رپورٹنگ کو قرار دے رہے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بیس ممالک کے مقابلے میں بھارت میں ہر سو افراد میں ہلاکتوں کی شرح سب سے کم رہی ہے۔ جب کہ امریکہ کے مقابلے میں بھارت میں ہر دس لاکھ افراد میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح 2.8 رہی ہے۔ امریکہ میں یہ شرح 64.74 فیصد ہے۔

اقوام متحدہ کی ورلڈ پراسپیکٹ رپورٹ کے مطابق کرونا کی وبا سے ہلاک ہونے والوں میں بڑی عمر کے افراد جن میں دل کی بیماریاں اور ذیابطیس پائی جاتی ہے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت میں اوسط عمر 28.4 ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فرانس جہاں اوسط عمر 42.3 ہے وہاں سات لاکھ کرونا کیسز کے ساتھ 32000 ہزار سے زائد ہلاکتیں سامنے آئی ہیں اور ہلاکتوں کی شرح 4.7 فیصد رہی ہے۔

بھارتی حکومت کے مطابق بھارت میں کرونا کا پہلا کیس 30 جنوری کو سامنے آیا تھا جب کہ مارچ کے وسط میں یہ تعداد 100 کیسز سے زائد ہو گئی تھی اس وقت تک اٹلی میں کرونا کے 24000 کیسز کی تصدیق کی جا چکی تھی جبکہ تقریبا 2000 ہلاکتیں بھی ہو چکی تھیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے 25 مارچ سے ملک بھر میں لاک ڈاون کا اعلان کی تھا جس کی وجہ سے بھارت میں نقل و حرکت پر سخت بندشیں عائد کر دی گئیں تھیں۔

ماہرین کے مطابق اس سخت لاک ڈاون نے بھارت کو کرونا سے نمٹنے اور ڈاکٹروں کو ضروری معلومات حاصل کرنے کا وقت دیا۔

وائرلوجسٹ ٹی جیکب جان نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ممکن ہے کہ ڈینگی بخار جو بھارت میں وبائی شکل رکھتا ہے نے بھارتی شہریوں کو کرونا کے خلاف کسی حد تک مدافعت فراہم کی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کئی اور ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس کی کم مقداد سے متاثر ہونا بھی کراس امیونٹی مہیا کر سکتا ہے لیکن ماہرین ابھی تک اس حوالے سے مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

بنگلور سے تعلق رکھنے والے ماہر ہیمانت شویدے کا کہنا ہے کہ اموات کو ریکارڈ کرنے کا ہمارا نظام کافی کمزور ہے جس کی وجہ سے کئی اموات ریکارڈ ہونے سے رہ جاتی ہیں۔ شویدے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی ایک تعداد ریکارڈ نہیں ہو سکی۔

کرونا کے کئی ایسے مریض جو دوسری بیماریاں بھی رکھتے تھے ان کی ہلاکت کی وجہ کرونا نہیں لکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق درست معلومات حاصل کرنے کا طریقہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ، ہلاکتوں کو درست ریکارڈ کرنا اور ممکنہ متاثرین کا طبی جائزہ لینا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ممبئی میں مارچ اور جولائی کے درمیان گذشتہ سال کی نسبت 13000 زائد ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جو کہ اس وقت تک رپورٹ کی گئی وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں سے دگنی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا