فرانس میں مینڈک کم اور ان کی ٹانگیں کھانے والے زیادہ

فرانس میں ہر سال شہری تقریباً چار ہزار ٹن مینڈک کی ٹانگیں کھا جاتے ہیں۔ مینڈکوں کی اتنی طلب کے بعد ریستوران مالکان چاہتے ہیں کہ مینڈک کی ٹانگیں ’میڈ اِن فرانس‘ ہوں۔

فرانس میں ہر سال شہری تقریباً چار ہزار ٹن مینڈک کی ٹانگیں کھا جاتے ہیں، مینڈکوں کی اتنی طلب کے بعد انہیں درآمد کرنا مہنگا پڑ رہا ہے اس لیے ریستورانوں کے مالکان چاہتے ہیں کہ مینڈک کی ٹانگیں ’میڈ اِن فرانس‘ ہوں۔

ایک ریستوران کے شیف بتاتے ہیں کہ ’یہاں سے ملنے والی مینڈک کی ٹانگوں میں گوشت ہوتا ہے۔ یہ بڑی بھی ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ چبانا نہیں پڑتا۔ تازہ مینڈک درآمد کیے ہوئے فروزن مینڈک کے مقابلے میں نہ صرف سستے اور معیاری ہیں بلکہ اس کا ذائقہ بھی بہتر ہے۔‘

تاہم مینڈکوں کی پرورش اتنی آسان نہیں۔ مینڈک کے فارم کے مالک نے بتایا کہ ان کی افزائش نسل کے لیے ضروری ہے کہ نر اور مادہ مینڈک کو ان کی جگہ سے بالکل ہلایا نہ جائے اور نہ ہی ان کا انڈا اپنی جگہ سے ہِلے ورنہ انڈا ضائع ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے مینڈکوں کا بزنس کرنا تھا کیونکہ ان کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ فرانس کے لوگ بھی مینڈک کھانے کے لیے مشہور ہیں تو مجھے ویسے بھی شوق تھا لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان کی افزائش نسل اتنی مشکل ہوگی۔ ہمارے پاس مینڈک کم اور ان کی مانگ زیادہ ہے۔‘

 وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے مینڈک کے فارم سے اپنی روزی روٹی کما سکتا ہوں۔ میں اس کے علاوہ بھی کام کرتا ہوں جس سے میرا گھر چلتا ہے۔ امید کرتا ہوں بزنس چل پڑے لیکن ابھی تک اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو