’میرے بچے مجھ سے کھانا نہیں مانگتے کہ کہیں میں خود کشی نہ کر لوں‘

سوات اور مالاکنڈ میں خواتین بالخصوص شادی شدہ اور ان پڑھ خواتین میں خود کشی یا اس کی کوشش کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

 وگمہ فیروز خودکشی کی کوشش کرنے والی مریم (فرضی نام) سے بات چیت کرتے ہوئے (سکرین گریب)

یہ واقعہ ہے جون کی ایک تپتی دوپہر کا، جب میں مینگورہ، سوات میں 35 سالہ مریم (نام تبدیل کیا گیا ہے) کے گھر داخل ہوئی، جو ایک کمرے اور چھوٹے سے صحن  پر مشتمل تھا اور جس میں بمشکل ہی گزارہ ہو سکتا تھا-

واحد کمرے میں داخل ہوئی تو ایک چھوٹا سا قالین بچھا ہوا تھا جبکہ ماسوائے چائے کے برتن کے کچھ نظر نہیں آیا۔ مریم کے گھر میں حتیٰ کہ گھریلو سامان تک نہیں۔ اگر گھر میں کچھ ہے تو اُن کی چھ خوبصورت بیٹیاں، جو مجھے حیرت سے دیکھ رہی ہیں۔ اُن کے دو بیٹے اُس وقت باہر  کھیلنے گئے ہوئے تھے۔

 مریم سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کی اُن خواتین میں سے ہیں جہنوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کی نہ صرف پہلے کوشش کی بلکہ وہ آج بھی صرف اپنی بیٹیوں کے لیے زندہ ہیں۔ ’میرا خاوند نشئی ہے، کوئی کام کاج نہیں کرتا، میرے بچے ہر رات کھانے کے لیے روتے ہیں لیکن میرے پاس اُن کی بھوک مٹانے کے لیے کچھ نہیں۔‘

مریم بتاتی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل خاوند نے بجلی کے تار سے اُنہیں شدید مارا جس کے بعد وہ کئی ہفتے تک سو نہیں سکیں۔ ’مجھے اس لیے مارا گیا کیونکہ میں نے اُس رات اپنے خاوند سے کہا تھا کہ بچوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا، اُن کے لیے کچھ لے آنا۔‘

اس واقعے کے بعد مریم نے تنگ آکر گھر میں پڑے گولیوں کے دو پتے (20 گولیاں) کھا لیں، لیکن ہمسایوں نے انہیں بروقت ہسپتال پہنچایا، جہاں ان کے معدے کو صاف کیا گیا اور وہ بچ گئیں۔ مریم آج بھی کہتی ہیں کہ وہ صرف اپنی بچیوں کے لیے زندہ ہیں۔ ’اکثر سوچتی ہوں کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرلوں، لیکن مجھے اپنی بچیاں یاد آجاتی ہیں اور پھر یہ ارادہ ترک کر دیتی ہوں کہ میرے بعد ان کا کیا ہوگا؟‘

وہ بتاتی ہیں کہ بیٹیوں نے ان سے کہا ہے کہ اگر میں نے خودکشی کی کوشش کی تو وہ ساری بھی خود کشیاں کرلیں گی۔’اکثر میرے بچے بھوکے سو جاتے ہیں اور اس ڈر کی وجہ سے کچھ نہیں مانگتے کہ پھر میرے خاوند مجھے ماریں گے اور میں خود کشی کی کوشش کروں گی۔‘  

 سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں میری ایسی کئی خواتین سے بات ہوئی جنہوں نے یا تو خود خودکشی کی کوشش کی یا اُن کے خاندان میں سے کسی نے یا سہیلی نے اپنی زندگی کا چراغ خود بجھا دیا۔

 

 وجوہات؟

 2009 میں سوات اور مالاکنڈ ڈویژن پر پاکستانی طالبان قابض رہے، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ نہ صرف اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئے بلکہ بہت سے لوگ شدت پسندی کے واقعات میں مارے گئے۔

اگرچہ سرکاری طور پر ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں جس سے پتہ چلے کہ علاقے میں طالبان کے آنے کے بعد خودکشیوں میں کتنا اضافہ ہوا، لیکن ذہنی بیماریوں کے ماہرین، سماجی کارکن اور اہل علاقہ یہ مانتے ہیں کہ 2010 کے بعد سے یہاں خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

 کم عمری اور ناپسند کی شادی، گھریلو تشدد، شدت پسندی، معاشرتی مسائل، مشترکہ خاندان اور ایک دوسرے کی خود کشی کے بارے میں سنتے ہوئے خود اسی راہ پر چلنے کا رجحان، وہ وجوہات ہیں جو یہاں کے ڈاکٹرز، سماجی کارکنوں اور اہل علاقہ نے میرے ساتھ شئیر کیں۔

اگرچہ یہاں مردوں نے بھی خودکشیاں کیں لیکن پولیس اور ہسپتال ریکارڈز کے مطابق خواتین (شادی شدہ اور ان پڑھ خواتین) کا تناسب زیادہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اکثر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے اہل خانہ بدنامی اور پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے خود کشی کا نام دیتے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور معلمہ تبسم مجید کہتی ہیں کہ یہاں کی خواتین بہت ساری زنجیروں میں جھکڑی ہوئی ہیں اور ان زنجیروں سے نکلنے کے لیے انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں دیکھائی دیتا۔تبسم کے مطابق اُنہوں نے خودکشی کے جتنے بھی کیسز کے بارے میں سنا ان میں غیر تعلیم یافتہ لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے-

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے خیال میں یہاں عورتیں چاہے وہ جتنی بھی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں انھیں اپنی روزمرہ ضرورتوں کے لیے مردوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے- ’یہاں عورتوں کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جاتا اور اگر ایک لڑکی شاپنگ کے لیے باہر نکلتی ہے تو اسے گھر کے مرد پر انحصار کرنا پڑے گا وہ اکیلی یا اپنی مرضی سے نہیں نکل سکتی۔ یہاں عورت آزاد نہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب تک عورت کو مرد کے برابر نہیں سمجھا جائے گا، تب تک ان کے ساتھ ناانصافی ہوتی رہے گی اور وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گی۔

 مقامی اخباروں میں ایک یا دو سطور میں خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، مقامی پولیس بھی ان میں سے بہت کم واقعات کی رپورٹ لکھتی ہے لیکن ان واقعات کو جانچنے یا پھر اُن وجوہات تک رسائی اس لیے انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر لوگ قبائلی روایات کی وجہ سے بات کرنے سے یا تو کتراتے ہیں یا بلکل اس موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔

میں نے 50 سے زائد ایسی خواتین سے بات کی جن کے اہل خانہ، سہیلیوں، کلاس فیلوز اور محلہ داروں میں سے کسی نے یا خودکشی کی یا پھراس کی کوشش کی، لیکن ان میں سے چند ہی اس شرط پر مجھ سے بات کرنے پر راضی ہوئیں کہ اُن کا نام صیغہِ راز میں رکھا جائے گا اور چہرہ کسی صورت بھی نہیں دیکھایا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین