’شیومت کی مقدس چوٹی ہری پربت اب ناقابل تسخیر نہیں رہی‘

وادی نیلم کے مقامی نوجوان کوہ پیماوں کے ایک گروپ نے 'ناقابل تسخیر' سمجھی جانی والی ہری پربت چوٹی سر کر لی ہے۔ ہری پربت کو پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کی دوسری بلند ترین چوٹی شمار کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی نیلم کے مقامی نوجوان کوہ پیماوں کے ایک گروپ نے پہلی بار18500 فٹ بلند ہری پربت چوٹی کو سر کر لیا ہے۔

اس پانچ رکنی گروپ کی قیادت رئیس انقلابی کے نام سے مشہور وادی نیلم کے ہائیکر اور ٹورسٹ گائیڈ محمد رئیس خان کر رہے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے رئیس خان نے بتایا کہ اس گروپ میں سبھی مقامی نوجوان شامل تھے اور ان میں سے کسی نے بھی کوہ پیمائی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوہ پیمائی کے لیے درکار ساز و سامان موجود تھا۔ رئیس خان کے بقول انہوں نے یہ چوٹی لگ بھگ تیرہ گھنٹے میں سر کی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں کئی بلند چوٹیاں واقع ہیں جن میں سروالی 20754 فٹ، ہری پربت 18500 فٹ،گنجا پہاڑ 14000 فٹ بلند ہیں۔ تاہم اس سے قبل ان چوٹیوں کو سر کرنے کی کوئی باقاعدہ کوشش نہیں کی گی۔

وادی شونٹھر میں موجود چٹا کٹھا جھیل کے عقب میں واقع ہری پربت چوٹی کشمیر میں شیو مت کے ماننے والوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثت رکھتی ہے اور شیو مت کی قدیم ویدوں میں اسے بھگوان شیوا کا مسکن بیان کیا گیا ہے۔

محققین کے مطابق 18500 فٹ بلند ہری پربت نامی چوٹی کا بالائی حصہ شیولنگ سے مماثلت رکھتا ہے اور اسی لیے اس چوٹی کو کشمیر میں شیو مت کے پیروکار مقدس مانتے ہیں۔

ماہر آثار قدیمہ اور شاردہ تہذیب پر تحقیق کرنے والی محقق اور آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ خان کے مطابق شاردہ آنے والے یاتری ناردہ پہاڑی اور ناردہ جھیل کی طرح ہری پربت جھیل اور ہری پربت پہاڑی کی بھی یاترا کرتے تھے۔

مورخین کا دعویٰ ہے کہ تقسیم سے قبل جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے زائرین یہاں عبادت کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس نسبت سے تاریخ کی کتابوں میں چٹا کٹھا جھیل کو ہری پربت جھیل بھی لکھا گیا ہے۔

تنازعہ کشمیر کے مذاہب پر اثرات کے حوالے سے تحقیق کرنے والے کشمیری صحافی اور فلم ساز محمد عارف عرفی کا دعویٰ ہے کہ 1947 تک یہاں شیو مت کے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہا جو بعد ازاں تنازعہ کشمیر کے باعث رک گیا اور ان زائرین کا رخ سرینگر شہر کے قریب واقع ہری پربت نامی پہاڑی کی طرف مڑ گیا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وادی نیلم میں کسی پہاڑی چوٹی کو سرکرنے کی یہ پہلی باقاعدہ کوشش ہے جو کامیاب ہوئی۔ اس سے قبل اگست 2015 میں 'سروالی' نامی چوٹی سر کرنے کے لیے جانے والی اسلام آباد کے کوہ پیماوں کی تین رکنی ٹیم لاپتہ ہو گئی تھی اور کئی دنوں کی تلاش کے بعد بھی تینوں کوہ پیماوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کے بعد سے نیلم ویلی کی پہاڑی چوٹیوں کے بارے میں عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ یہ ناقابل تسخیر ہیں۔

رئیس خان کے بقول ان کی اس مہم کا مقصد اس تاثر کو رد کرنا اور مستقبل میں کوہ پیماوں کے لیے ان چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے راستے تلاش کرنا تھا۔

'چونکہ ہم پہلی دفعہ یہ چوٹی سر کر رہے تھے تو راستے کا علم بھی نہیں تھا۔ کچھ جگہوں پر گلیشیر پر ہاتھوں کے بل چلنا پڑا تو ہاتھ پاوں سوج گئے اور رنگ بدلنا شروع ہو گیا۔ چوٹی پر اتنی شدید سردی تھی کہ ہم وہاں دو، تین منٹ سے زیادہ نہیں رک سکے۔'

رئیس خان کو شکوہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کوہ پیمائی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ 'سیاح آتے ہیں، وادیاں دیکھتے ہیں، جھیلیں دیکھتے ہیں، آبشاریں دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اگر حکومت توجہ دے تو اس علاقے میں بھی کوہ پیمائی کو ترقی دی جا سکتی اور یہاں کوہ پیمائی کا باقاعدہ تربیتی ادارہ قائم ہو سکتا ہے۔'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ سیاحت کے پاس اس علاقے میں موجود چوٹیوں کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں تاہم اندازہ لگایا جاتا ہے کہ سر والی چوٹی کی بلندی 18500 فٹ یعنی 5638 میٹر ہے اور یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی دوسری بلند ترین چوٹی شمار کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا