پھول میلے کے اختتام پر کیلاشیوں کو سیاحوں سے شکوے

محبت اور خوشی کے اس میلے کے موقع پر ہر سال ہزاروں سیاح اس وادی میں پہنچتے ہیں۔ کیلاش قبیلے کے لوگ سیاحوں کی آمد پر بہت خوش ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہیں کچھ گلے شکوے بھی ہیں۔

وادی چترال کی وادی کیلاش میں رنگا رنگ پھول میلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ یہ کیلاش قبیلے کا مذہبی تہوار ہے جو کٹائی کے موسم میں 10  سے15  اکتوبر کو وادی بریر میں منایا جاتا ہے جبکہ بمبوریت اور رمبور میں یہ فیسٹیول 21 اور 22 اگست کو منایا جاتا ہے۔

محبت اور خوشی کے اس میلے کے موقع پر ہر سال ہزاروں سیاح اس وادی میں پہنچتے ہیں۔ کیلاش قبیلے کے لوگ سیاحوں کی آمد پر بہت خوش ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہیں کچھ گلے شکوے بھی ہیں۔

مقامی رہائشی قتح کیلاش کہتے ہیں: ’ہمیں خوشی ہے کہ سیاح آتے ہیں، ہمارے کلچر کو دیکھتے ہیں، ہمارے فیسٹیولز میں شریک ہوتے ہیں اور خوشی محسوس کرتے ہیں، لیکن کچھ سیاح بغیر پوچھے ہماری خواتین کی تصویریں کھینچتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتے ہیں، جو ہمارے لیے پریشان کن ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’سوشل میڈیا پر ہمارے بارے میں غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا سچائی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘

دوسری جانب ایڈوکیٹ نابیگشراکٹ کیلاش کہتے ہیں کہ ’ضلعی انتظامیہ اور خیبرپختونخوا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد شیئر کرنے والوں اور ہمارے کلچر ، مذہب اور ہمارے علاقے کے لوگوں کے بارے میں غلط تصورات لوگوں تک پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: ’کیلاش کے ناموں سے سوشل میڈیا پر کئی قسم کے گروپ، پیچز اور جعلی آئی ڈیز موجود ہیں جو کیلاش لڑکیوں کی تصویریں استعمال کرتے ہیں۔یہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ کچھ سیاح چپکے سے تصویریں بناتے ہیں اور انہیں اپنی تصویروں کے ساتھ فوٹو شاپ کے ذریعے مسخ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے کلچر کے بارے میں خود ساختہ اور بے بنیاد  کہانیاں  لکھی جاتی ہیں، جن میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی جبکہ تینوں کالاش وادیوں میں مختلف انداز میں بلیک میلنگ بھی کی جاتی ہے، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس کا نتیجہ تبدیلی مذہب کی صورت میں نکلتا ہے۔‘

اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’کیلاش قبیلے کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ان افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کرونا (کورونا) وائرس نہ ہوتا تو یہ سال سیاحت کا سال ہوتا۔ ہم ٹکٹنگ کے اہتمام کا سوچ رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو ہی کیلاش ویلی میں جانے کی اجازت ہو جو ٹکٹ خریدیں تاکہ اس وادی میں سیاحت منظم طریقے سے چل سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان