کوئٹہ: پی ڈی ایم کی جلسہ گاہ کی تبدیلی کی وجہ تھریٹ الرٹ یا کچھ اور؟

صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم کو ہاکی گراؤنڈ کی بجائے ایوب سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کو کہا ہے، تاہم پی ڈی ایم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کرنے کا مقصد خوف پھیلانا ہے اور عوام بڑھ چڑھ کر جلسے میں حصہ لیں گے۔

گذشتہ ہفتے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے  میں مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز اور بلاول بھٹو زردری سٹیج پر موجود(اے ایف پی)

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ میں دہشت گرد حملے کے خدشے کا الرٹ جاری ہونے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کوئٹہ میں 25 اکتوبر کو ہونے والے جلسے کا مقام تبدیل کردیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے پی ڈی ایم کو ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی تھی لیکن اب یہ جگہ تبدل کر کے ایوب سٹیڈیم کر دی گئی ہے، تاہم پی ڈی ایم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کرنے کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانا ہے اور عوام بڑھ چڑھ کر جلسے میں حصہ لیں گے۔ 

گذشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ نیکٹا نے آئندہ دنوں میں بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ اور پشاور کے لیے تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔ 

پی ڈی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا: ’اب دیکھنا یہ ہوگا کہ غیر سنجیدہ اپوزیشن اس عمل کو کس طرح لیتی ہے۔‘

جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں بھی بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ جلسے کے حوالے سے تھریٹ الرٹ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جلسے میں رکاوٹ نہیں بنے گی اور اس کے لیے  26 نکاتی ایجنڈا تیار ہے، جس میں سکیورٹی کا نظام بھی شامل ہے جس کے تحت تین ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے۔

لیاقت شاہوانی نے کہا: ’تھریٹ الرٹ کے بعد ہماری اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے سکیورٹی تھریٹ کو سنجیدہ لیا ہے۔ پی ڈی ایم اگر تین بار اپنا جلسہ تبدیل کرسکتی ہے تو عوام کی خوشحالی کے لیے جب تک سکیورٹی تھریٹ ہے جلسہ ملتوی کریں۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم نے ہاکی چوک پر جلسہ کرنے کی تیاری شروع کی تھی، لیکن اب حکومت نے ایوب سٹیڈیم میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

صوبائی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے علی مدد جتک نے کہا کہ ’راتوں رات بننے والی حکومت کو چیلنج کرتا ہوں کہ سڑکیں بند کردیں۔ جلسے میں باہر سے کوئی نہیں آئے گا، بلوچستان کے لاکھوں لوگوں آئیں گے۔‘

علی مدد جتک کا مزید کہنا تھا کہ جلسے میں بلاول بھٹو شریک ہوں گے اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلائی جاتی ہے تو حکومت تھریٹ کی بات کرتی ہے۔‘

نئی جلسہ گاہ 

ایوب سٹیڈیم شہر سے کچھ دور ہے اور یہاں پر اکثر سیاسی جماعتوں کے جلسے بھی ہوتے رہے ہیں۔ 

ایوب سٹیڈیم سابق صدر ایوب خان کے دورمیں بنا، جسے بعد میں نواب بگٹی سٹیڈیم کا نام دیا گیا۔ یہ مختلف کھیلوں کے میدانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر عالمی معیار کا کرکٹ گراؤنڈ بھی موجود ہے، جس پر 1978میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان پہلا ون ڈے میچ بھی کھیلا گیا تھا۔ 

پی ڈی ایم کا جلسہ سٹیڈیم کے فٹ بال گراؤنڈ میں منعقد کیا جارہا ہے، جس میں اس سے قبل بھی گذشتہ سال مریم نواز نے ایک جلسے سے خطاب کیا تھا۔ 

بگٹی سٹیڈیم کو اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت حاصل ہے کہ اس گراؤنڈ میں بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بنتی بھی رہیں اور یہاں سے ان کے ٹوٹنے کا عمل بھی شروع ہوا۔ 

بلوچستان میں پی ڈی ایم کے جلسے کی میزبانی جے یو آئی ف کررہی ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ 

واضح رہے کہ جے یو آئی ف کے ملین مارچ کے سلسلے میں گذشتہ سال بھی ہاکی چوک میں ایک بڑا جلسہ کیا گیا تھا اور اس شاہراہ ہر حد نگاہ تک کارکن جمع ہوگئے تھے۔ 

نیکٹا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں کوئٹہ اور پشاور میں انتہائی اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں، جس میں وہ بم دھماکے اور خود کش حملہ آور استعمال کرسکتی ہیں۔ 

دوسری جانب ٹریفک پولیس کوئٹہ نے جلسے کے حوالے سے ٹریفک پلان بھی جاری کردیا ہے، جس میں ہاکی چوک پر جلسے کے حوالے سے شاہراہوں کی بندش اور ٹریفک کے حوالےسے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے۔ 

کارکن متحرک

صوبے بھر میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکن جلسے کے حوالے سے متحرک ہیں اور ریلیاں اور جلوس بھی نکال رہے ہیں۔ 

گوکہ پی ڈی ایم کے جلسے کے مقام کو تبدیل کردیا گیا تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی اس کی اجازت مانگی تھی، لیکن حکومت نے ہاکی چوک پر جلسہ کرنے کا کہا تھا۔ 

جلسہ گاہ کی جگہ کی تبدیلی کی نوبت کیوں پیش آئی؟ اس سلسلے میں جب اپوزیشن اتحاد میں شامل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایوب سٹیڈیم ہی ان کا پہلا مطالبہ تھا۔ 

سنیٹرعثمان کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اپوزیشن اتحاد نے پہلے دن سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمیں ایوب سٹیڈیم میں جگہ دی جائے لیکن ہر بار اس سے انکار کیا جاتا رہا، جس کی وجہ سے ہم نے ہاکی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ اب حکومت نے ہمیں گذشتہ رات بتایا کہ آپ جلسہ ایوب سٹیڈیم میں کریں۔‘

عثمان کاکڑ نے بتایا کہ ’حکومت کا خیال ہے کہ جلسے کی جگہ تبدیل کرنے سے لوگ الجھن کا شکار ہوں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے، جلسے میں ان کی توقعات سے بڑھ کر لوگ شریک ہوں گے۔‘ 

جلسے سے قبل تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’یہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش اور ڈرامے بازی ہے، تاکہ عوام کی شرکت کم ہو، لیکن کوئٹہ کا ایوب سٹیڈیم گوجرانوالہ کے سٹیڈم سے بڑا ہے اور یہ لوگوں سے بھر جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان