’ہر درخت اور پتھر آواز دیتا ہے کہ مجھے شہر لے جاؤ‘

واسن خورشید کہتے ہیں کہ رشتوں کے مابین تعلقات کی ترجمانی کرتے یہ مجسمے ان کا کل اثاثہ ہیں اور  وہ ان کے درمیان  رہ کر خوش رہتے ہیں۔

آرٹسٹ اپنی تخلیق میں معاشرے کی کہانی بیان کرتا ہے اور اس کے وجود کو ثابت کرتا ہے مگر اکثر معاشرہ آرٹسٹ کے وجود کو نہیں مانتا۔

واسن خورشید کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ غربت میں پلے اس آرٹسٹ نے اپنے فن سے جنون کی حد تک عشق کیا۔ دور حاضر کی سوریل آرٹ ہو، سکلپرچنک ہو یا ایکشن پینٹنگ واسن خورشید نے ہر جگہ اپنے آرٹ کے جھنڈے گاڑھے۔

ان کی ہر تخلیق اپنے اندر اک دنیا سموئے ہوئے ہے، ان کا ہر رنگ ایک نیا رنگ ہے۔

واسن خورشید کہتے ہیں کہ رشتوں کے مابین تعلقات کی ترجمانی کرتے یہ مجسمے ان کا کل اثاثہ ہیں اور  وہ ان کے درمیان  رہ کر خوش رہتے ہیں۔

ان کو دنیا میں اس آرٹ کی بدولت پذیرائی ملی مگر اپنے ہی ملک میں گمنام رہے۔ آج بھی ان کا شمار ’دنیا کے صف اول کے آرٹسٹوں‘ میں ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر میری کامیابیوں کی بات کی جائے تو میں نے بہت مشکل راستہ گزارا ہے۔ اس مشکل راستوں نے مجھے زندگی کے بہت قریب کر دیا۔‘

65 سالہ واسن آج بھی اپنے فن کو اس پاکستان کی پہچان بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ بغیر کسی معاوضے کے آنے والوں کو اپنا فن منتقل کرنے کے لیے ہاتھ کھولے کھڑے ہیں۔ واسن آج بھی اس امید پر ہیں کہ ارباب اختیار تک ان کی بات ضرور پہنچے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ