پینسل کی نوک پر فن پارے بنانے والے پسنی کے آرٹسٹ

سرکاری سکول میں بطور ٹیچر کام کرنے والے ساجد موسیٰ نے یوٹیوب دیکھ کر خود سے پینسل پر فن پارے بنانا سیکھا جبکہ انہیں سینڈ آرٹ، سکیچنگ اور مصوری میں بھی مہارت حاصل ہے۔

پسنی یوں تو بلوچستان کا ساحلی علاقہ ہے جہاں پر اکثر لوگوں کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے، لیکن بعض نوجوان فن مصوری، سینڈ آرٹ اور دیگر شعبوں میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔

ساحلی علاقوں میں روزگار اور معاشی مسائل کے باوجود بعض نوجوان ان مسائل کو اپنے تخلیقی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتے ہیں۔

ایسے ہی ایک نوجوان ساجد موسیٰ بھی ہیں جنہیں یہ شوق تو ڈرائنگ کی شکل میں ملا لیکن انہوں نے اس کو نکھار کر جدت سے ہم آہنگ کردیا ہے۔

ساجد موسیٰ کے والد سرکاری سکول میں ڈرائنگ سکھاتے تھے جنہیں دیکھ کرساجد کو بھی اس کا شوق ہوا۔

ساجد بتاتے ہیں: 'یہ شوق مجھے اس وقت ہوا جب میں بچپن میں والد کو ڈرائنگ کرکے دیکھتا تھا۔'

ساجد بھی ایک سرکاری سکول میں فزیکل ٹیچر ہیں اور بچوں کو ڈرائنگ سکھاتے ہیں۔

ساجد نے بتایا کہ وہ فن مصوری کے ساتھ سینڈ آرٹ، سکیچنگ، وال آرٹ، سموک آرٹ اور پینسل کی نوک پر فن پارے بناتے ہیں۔

ان کی مہارت تو سب میں ہے، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ابھی بھی سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اب اپنی توجہ پینسل کی نوک پر فن پارے بنانے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساجد کو پینسل کی نوک پر فن پارے بنانے کا خیال یوٹیوب پر اس حوالے سے ویڈیوز دیکھ کر آیا اور انہوں نے بھی خود سے یہ سیکھنا شروع کیا۔

ساجد کے مطابق پینسل کی نوک کو تراش کر فن پارے بنانے کو مائیکروآرٹ کہتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں: 'یہ فن مجھے کسی نے نہیں سکھایا بلکہ میرا استاد یوٹیوب ہے۔ میں نے پینسل کی نوک کو تراش کر بہت سے فن پارے بنائے ہیں جن میں مقامی ثقافت سے جڑی چیزیں شامل ہیں۔'

مائیکروآرٹ باریک بینی کا کام ہے اور اس میں وقت بہت لگتا ہے۔ ساجد کہتے ہیں کہ 'مشکل کام کو کرنے میں ہی اصل مزا ہے۔ آسان کام تو ہر کوئی کرتا ہے۔'

پسنی میں فن کاروں کے لیے کیا مواقع موجود ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ساجد کا کہنا تھا کہ پسنی میں فن کے حوالے سے کوئی مواقع موجود نہیں بلکہ یہاں کے فن کار ضائع ہورہے ہیں۔

ساجد کے مطابق: 'ہمارے علاقے میں کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں جس میں فن کار کے کام کو دوام مل سکے۔ یہاں کے فن کار اپنی مدد آپ کے تحت بعض چیزوں کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔'

ساجد نے نہ صرف بہت سے فن پارے بنائے ہیں بلکہ وہ ریت پر بھی شاہکار نمونے بناتے ہیں۔ وہ ریت سے فن پارے تخلیق کرنے میں بھی ماہر ہیں اور انہوں نے جانوروں اور تعلیم کے حوالے سے سبق آموز پیغام بھی ریت کے ذریعے تخلیق کیے ہیں۔

ساجد سمجھتے ہیں کسی شاعر کی طرح فن کار بھی اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور جس طرح شاعر اپنے معاشرے کے دکھ درد کو محسوس کرکے شاعری کرتا ہے، اسی طرح فن کار اپنے فن پاروں کے ذریعے اپنے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔

ساجد جیسے فن کاروں کو اگرچہ ماہراساتذہ کی صحبت تو میسر نہیں، لیکن جدت نے ان کا کام آسان کردیا ہے۔  وہ یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے سیکھ کر نئی تخلیقات کررہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے