حکومت کا 30 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق مالی مشکلات کے باعث فی الحال 30 نئی احتساب عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ 

عدالتوں کے قیام کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے بدھ کی شام ایک ملاقات میں کیا (اے ایف پی)

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت ملک میں 30 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ عدالتیں جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا واحد حل نہیں ہے۔ 

ان نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے بدھ کی شام ایک ملاقات میں کیا۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے احتساب عدالتوں میں دائر ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر کا نوٹس لیا تھا اور ملک بھر میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دیا تھا۔ 

وفاقی وزارت قانون و انصاف کے ترجمان نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث فی الحال 30 نئی احتساب عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ 

ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اصولی طور پر ملک بھر میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے اور وفاقی وزارت خزانہ کو اس مقصد کے لیے فنڈز مہیا کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ ’وزیر اعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بھرتیوں اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات میں وزارت قانون و انصاف کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔‘ 

’وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر قانون انصاف بیرسٹر فروغ نسیم کے درمیان ملاقات میں احتساب عدالتوں کے علاوہ صنفی تشدد سے متعلق مقدمات سننے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔‘ 

وزارت قانون و انصاف کے ترجمان کے مطابق باقی ماندہ احتساب عدالتوں کا قیام مقدمات کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار کیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا عمل کتنے عرصے میں مکمل کیا جائے گا۔

نئی عدالتوں کے قیام پر ماہرین کیا کہتے ہیں؟

قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کے خیال میں نئی عدالتوں کی بجائے احتساب ریفرنسز کی تقسیم پر توجہ کی زیادہ ضرورت ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں موجود تین احتساب عدالتوں کے پاس سب سے زیادہ کرپشن کے مقدمات ہیں جبکہ ایسی احتساب عدالتیں بھی ہیں جن کے پاس مقدمات بہت کم ہیں۔ 

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اہم اور ہائی پروفائل کیسز اسلام آباد کی احتساب عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں جس کے باعث وفاقی دارالحکومت میں تعینات احتساب ججوں پر کام کا بوجھ زیادہ ہے جو مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔ 

عمران شفیق نے احتساب ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر سے بچنے کے لیے مشورہ دیا کہ وفاقی دارالحکومت میں احتساب عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ 

’شاید اسلام آباد میں موجود احتساب عدالتوں میں مقدمات کی تعداد تو کم نہیں ہو گی اس لیے یہاں عدالتوں کی تعداد ہی بڑھا دی جائے تو آسانی ہو سکتی ہے۔‘ 

سپریم کورٹ کے معروف وکیل کامران مرتضی نے احتساب عدالتوں کے قیام سے متعلق حکومتی اقدام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف عدالتیں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مقدمات میں تاخیر کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں وکلا، ججوں اور استغاثہ کے رویے شامل ہیں۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جھوٹ کا بولا جانا عام ہونے کے باعث عدالتوں میں مقدمات التوا کا شکار ہوتے ہیں اور یہ جھوٹ سب ہی بولتے ہیں۔ 

کامران مرتضی کے خیال میں مزید احتساب عدالتوں کے قیام سے کسی حد تک مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن یاد رکھیں زیادہ عدالتیں ’جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا واحد حل نہیں ہے۔‘ 

دوسری طرف قانون و انصاف کی پارلیمانی سیکریٹری بیرسٹر ملائیکہ بخاری نے وزیراعظم عمران خان کو صنفی تشدد کے جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی۔  

وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ صنفی تشدد سے متعلق عدالتوں کے حوالے سے متعلقہ فریقین سے مشاورت اور قوانین میں ترمیم کے ذریعے ملک میں ’سپیشل جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹس‘ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ 

یاد رہے کہ سپیشل جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹس میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی اور صنفی تشدد پر مبنی مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان