’سات سال بعد ہمارا پریکٹس کیمپ لگا، وہ بھی لڑکوں کو راس نہیں آرہا‘

کئی سال کے وقفے کے بعد لاہور میں خواتین فٹ بالرزا کا پریکٹس کیمپ جاری ہے، تاہم کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس پر بھی مرد کھلاڑیوں کی تنقید نے انہیں حیران کر دیا ہے۔

پنجاب فٹ بال سٹیڈیم لاہور میں آج کل خواتین فٹ بالرزا کا پریکٹس کیمپ جاری ہے۔

سات سال کے بعد منعقد ہونے والے اس کیمپ میں ملک بھر سے 30 خواتین کھلاڑی شریک ہیں۔ جو سینیئر اور انڈر 19 کی ٹیمز میں کھیل رہی ہیں۔

ان کھلاڑیوں میں گلگت بلتستان کی سحر زمان بھی ہیں جو سینیئرز کی ٹیم میں پہلی بار گول کیپر کے طور پر کھیل رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سحر نے بتایا: ’گلگت بلتستان چونکہ ایک قدامت پسند علاقہ ہے اس لیے وہاں خواتین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزئی اتنی زیادہ نہیں کی جاتی۔ وہاں سے سفر کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کو بھی لے کر چل رہی ہوں۔ یہ تھوڑا مشکل ہے میرے لیے لیکن میں پھر بھی مینیج کر لیتی ہوں۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم پہلی مرتبہ سینیئر ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور میں چاہتی ہوں اسی طرح ہمیں آگے بھی تعاون ملے اور ہم انٹرنیشنل لیول تک جائیں جہاں ہم ورلڈ کپ میں بھی حصہ لے سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سحر نے بتایا کہ انہیں اس وقت بہت تکلیف ہوئی جب سوشل میڈیا پر اس فٹ بال کیمپ کے حوالے سے مرد کھلاڑیوں نے خواتین کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’پہلی مرتبہ ہمارا کیمپ لگا ہے۔اور یہ بھی لڑکوں کو راس نہیں آرہا تھا کہ ہمارا کیمپ لگے۔ سوشل میڈیا پر کچھ کومینٹس ایسے تھے جن میں لکھا گیا تھا کہ لڑکیوں کو کھلنا نہیں آتا۔ میں ان کو دیکھ کر حیران ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو چھوڑو ان کا تو کھیلنا ہی فضول ہے۔ لڑکے کہتے ہیں کہ انہیں اتنا تعاون نہیں ملتا پی ایف ایف سے، لیکن اگر آپ دیکھیں سات سال میں یہ ایک ہی کیمپ لگا ہے ہمارا پھر بھی میں نے زیادہ تر لڑکوں کو یہ شکایت کرتے سنا کہ ان کے ایوینٹس نہیں ہو رہے۔‘

سحر زمان کو پاکستانی فٹ بال کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا پسند ہے۔ مگر وہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کی بھی شیدائی ہیں: ’اگر جدوجہد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب کھلاڑیوں کی ایک کہانی اور ایک تاریخ ہے۔ جس طرح میسی کی ہے، رونالڈو کی ہے۔ سبھی فٹ پلئیرز مجھے پسند ہیں۔ میں چاہوں گی کہ ہم بھی ان کے لیول تک جائیں اور اسی طرح کھیلیں۔ جس طرح انہوں نے اپنے ملک کا نام روشن کیا اسی طرح ہم بھی کریں۔‘

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے میڈیا مینیجر میر شبر علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’خواتین کی ٹیم اتنے برسوں سے کھیلی نہیں ہے اور اس پریکٹس کیمپ کا دراصل مقصد اس ٹیم کو پھر سے اکٹھا کرنا، منظم کرنا اور انہیں آنے والے ٹورنامنٹ کے لیے تیار کرنا جو بین الاقوامی سطح پر اگلے برس ہوں گے۔ خاص طور پر ایشین فٹ بال میچز، اس کے علاوہ انڈر 19 اور 20 کے ٹورنامنٹس بھی ہیں۔ اور ہمیں امید ہے کہ یہ خواتین کھلاڑی بہت آگے تک جائیں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین