اسرائیل نوجوان فلسطینی گلوکار سے کیوں نفرت کرتا ہے؟

اسرائیل سمجھتا ہے کہ عرب آئیڈل جیتنے والے فلسطینی گلوکار محمد عساف کا اپنے ہم وطنوں کے سامنے گیت گانا انتہائی اشتعال انگیز ہے۔

محمد عساف فلسطینیوں میں بےحد مقبول ہیں (اے ایف پی)

دائیں بازو کی نمائندہ لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے کنسیٹ [اسرائیلی پارلیمان] کے رکن ایوی ڈیچر نے فخریہ اعلان کیا کہ ’عساف کا مقبوضہ مغربی کنارے میں داخلے کا اجازت نامہ واپس لیا جا رہا ہے۔‘

غزہ سے تعلق رکھنے والے محمد عساف ان دنوں متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ وہ 2013 میں’عرب آئیڈل‘ نامی گلوکاری کا مقابلہ جیتنے کے بعد شہرت کے بام عروج پر پہنچے، جس کے بعد قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی۔ انہیں جیت سے ہمکنار کرانے والے گیت ’اپنا کفیہ [فلسطینی رومال] لہراؤ‘ دراصل دنیا بھر میں بسنے والی فلسطینی برادری کے درمیان اتحاد و یگانگت کا یادگار مظہر ٹھہرا۔

بیروت کے ایک سٹیج پر محمد عساف جب اپنی آواز کا جادو جگا رہے تھے تو وہاں موجود ہزاروں شائقین، منصفین اور اپنی ٹی وی سکرینوں پر انہیں فن کا مظاہرہ کرتے دیکھنے والے لاکھوں عرب عوام بھی ان کے ساتھ جھوم رہے تھے۔ اس منظر سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ فلسطینی ثقافت نے سیاسی ٹول کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا، جسے کسی طور بھی فراموش نہیں جا سکتا۔

محمد عساف فلسطینیوں کی تباہی کی داستان ’نکبہ ،‘ تحریک آزادی ’انتفاضہ‘ سے لے کر غزہ کے درد سمیت فلسطینیوں کی ہر ثقافتی شناخت کو اپنی خوش گلو سنگت سے چار چاند لگا چکے ہیں۔

غزہ عساف کی جائے پیدائش ہے۔ یہاں انھوں نے صہیونی قبضے، ہلاکت خیز اسرائیلی جنگوں اور تادم تحریر جاری محاصرہ کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ وہ نجیب الطرفین مہاجر ہیں۔ والدہ کا تعلق بیت داراس جبکہ والد بیئر السبع سے ہجرت کر کے غزہ کی پٹی میں آن بسے۔ خاندان کی دردناک وراثت کو بھلا کر اپنے معاشرے کی ثقافت سے تعلق جوڑے رکھنے پر جواں سال عساف داد وتحسین کے مستحق ہیں۔

عساف کو اپنے گھر واپسی کی اجازت نہ دینے سے متعلق اسرائیلی رکن اسمبلی ڈیچر کا بیان انتہائی ظالمانہ ہے۔ فلسطینی ثقافت کے خلاف اسرائیل کی جنگ، صہیونی ریاست جنتی ہی پرانی ہے۔

اسرائیل سات دہائیوں سے فلسطینیوں سمیت تمام عرب افواج کو شکست دینے کی اپنی صلاحیت پر اتراتا اور اپنے مغربی آقاؤں کی مالی کی ’برکت‘ سے اسرائیل فلسطینیوں کو حریف گروپوں میں تقسیم کرتا چلا آیا ہے۔ فلسطین کے حوالے سے بظاہر دکھائی دینے والے ’عرب اتحاد‘ کو اسرائیل ہمیشہ سے تاراج کرتا چلا آیا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے بھی فلسطینیوں کی مختلف علاقوں میں تقسیم اس امید پر برداشت کی جاتی رہی کہ ایک دن یہ دائرے مختلف سیاسی ترجیحات کا محور بنیں گے۔ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں محاصرہ کا دکھ جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ دوسرے مکتبہ فکر کو مغربی کنارے کی تنگنائیوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ کچھ کو اسرائیل کے اندر مشرقی یروشیلم میں معاشی تنگدستی کا عفریت برداشت کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ بچے کچھے فلسطینی اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر دنیا میں در بدری کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بہتر اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں اپنی آبائی سرزمین چھوڑنے کا دکھ دلوں میں سمائے دنیا بھر میں در بدری کی ٹھوکریں کھانے والے فلسطینی مہاجرین نے ایک نہیں بلکہ کئی کئی بار مہاجرت کا دکھ جھیلا۔ وہ ایسے سیاسی حالات میں زندگی کرنے پر مجبور کر دیے گیے جن پر ان کا کوئی اختیار نہ تھا۔ عراقی فلسطینیوں کی مثال لیجیے، 2003 میں ملک پر امریکی حملے کے بعد فرار کی راہ اختیار کرنے والے وہ پہلا جتھہ تھے، اس کے بعد لبنان اور اب حالیہ دنوں میں ایسی ہی تاریخ شام میں رقم کی جا رہی ہے۔

فلسطین کو تواتر کے ساتھ تمام محاذوں پر تباہ کرنے کی اسرائیلی کوششیں مادی سرحد عبور کر کے اب ورچوئل میدان میں داخل ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر فلسطینی آواز دبانے کے لیے سینسر عائد کیا جا رہا ہے۔ گوگل سے فلسطینی نقشوں اور حتیٰ کہ فضائی کمپنیوں کے کھانوں کے مینیو سے بھی فلسطین کو مٹایا جا رہا ہے۔

یہ سب الل ٹپ نہیں ہو رہا، بلکہ اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ اصل فلسطین کی تباہی کے ساتھ ساتھ اس کا آئیدیا اور سوچ فکر بھی خیالات سے محو کرنا ضروری ہے۔ فلسطینی ثقافت اور اقدار کے مجموعہ سے فلسطینیوں کو ہر جگہ ذہنی ہم آہنگی ملتی ہے، اسے بھی صفحہ ہستی اور فسلطینیوں کے دل ودماغ سے نکالنا ضروری ہے۔

ثقافت کی ہم ہمی مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے، اسرائیل نے فلسطینی ثقافت کے تمام مظاہر پر کاری ضرب لگائی، جو سیاسی اور جغرافیائی طور پر تقسیم کے باوجود فلسطینیوں کو متحد رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے تھے۔

اسرائیل سرکاری طور پر فلسطینی ثقافت کو شکست سے دوچار کرنا چاہتا ہے، اس کی متعدد مثالیں روزمرہ کی زندگی میں بکثرت دیکھی جا سکتی ہیں۔ 1948 کو فلسطین کا بٹوارا، شاید اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے صہیونی ریاست کے کارپرداز فلسطینی ثقافت کے بچی کچھی بساط بھی لپیٹنے کے درپے ہیں۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے 2009 کو ملک کے طول وعرض میں لگے عربی زبان کے سائن بورڈز کو عبرانی میں تحریر کرنے کی مہم چلائی۔ دو ہزار اٹھارہ میں نسلی امتیاز کے مظہر ’نیشن سٹیٹ قانون‘ کے تحت عربی زبان کی حیثیت کم کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔

یہ مثالیں فلسطینی ثقافت کا چہرہ داغ دار کرنے کی پہلی اسرائیلی کوشش نہیں۔ صہیونی ریاست کے بانیوں نے فلسطین کو اس کے دو تہائی باسیوں سے ’پاک‘ کرنے کے بعد یہ حقیقت جان لی تھی کہ فلسطینی ثقافت فلسطینیوں کو متحدہ رکھنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اسرائیل کے بانی وزیر داخلہ اضحاک گرنبام کو ارسال کردہ مراسلے میں انھیں مشن سونپا گیا تھا ’کہ جن دیہات اور علاقوں سے فلسطینی نقل مکانی کر کے جا چکے ہیں، انہیں متبادل عبرانی نام دے دیے جائیں۔‘

اضحاک گرنبام کے نام خط میں مزید کہا گیا تھا کہ ’علاقوں کے نئے متبادل نام رکھے جائیں۔ اپنی اصل جڑوں سے رابطے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پرانے دن یاد کریں اس مقصد کے لیے ہمیں اسرائیل کے نقشے کو عبرانی رنگ میں رنگنا ہو گا۔‘

اس کے بعد ایک حکومتی کمیشن تشکیل دیا گیا جسے ہر فسلطینی عرب علاقے کو نیا نام دینے کا فریضہ سونپا گیا۔

اگست 1957 میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے دستخط سے جاری چٹھی میں اسرائیل کے محکمہ آثار قدیمہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ نکبہ [قیام اسرائیل] کے بعد فلسطینیوں کے مفتوحہ گھروں کو جلد از جلد مسمار کریں۔ انھوں نے مزید لکھا کہ 1948 میں مسمار کیے جانے والے عرب دیہاتوں کا ملبہ اور خالی گھروں کے بلاک سے بہت جذباتی یادیں وابستہ ہیں، جو ہمیں بہت زیادہ سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہیں، انہیں جلد از جلد صاف کیا جائے۔‘

فسلطین اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی سر زمین سے مٹانا اسرائیل کی ایک تزویراتی کوشش رہی ہے۔

آج بھی اسرائیل کی سرکاری مشین اسی استعماری مشن کی تکمیل کے لیے کام کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے درمیان 2016 میں صیہونی ریاست کے خلاف فلسطینیوں کو شہ دلانے والے سے روکنے کے لیے طے پانے والے معاہدہ بھی اسی مشن کا حصہ ہے تاکہ ہر قیمت پر فلسطینیوں کی آواز دبائی جا سکے۔

فلسطینی ثقافت نے فلسطینیوں کی جدوجہد کی بہت زیادہ خدمت کی ہے۔ اسرائیلی قبضے اور نسلی امتیاز کے برخلاف ثقافت نے فلسطینیوں کو تسلسل اور ہم آہنگی کا پیغام دیا ہے۔ ان سب کو اجتماعی شناخت کا ایسا احساس دیا ہے کہ جس کا مرکز ومحور ہمیشہ فلسطین رہا ہے۔

فلسطینی گلوکار کو اپنے دیس واپسی سے روکنے کا اسرائیلی اعلان اور ان کا صہیونی تسلط میں زندگی گزارنے والے ہم وطنوں کے سامنے گیت گانا اسرائیلی نقطۂ نظر سے انتہائی اشتعال انگیز بات ہے۔ یہ ہمیشہ کی طرح فلسطینی ثقافت کے قدرتی بہاؤ روکنے کی ایک اور اسرائیلی کوشش ہے، اس کی کامیابی کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا!

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر