کیا حزب اللہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے؟

سرحدی حد بندی پر مذاکرات دراصل حزب اللہ کا بظاہر مضحکہ خیز ناٹک ہے جس کے جلو میں لبنانی ملیشیا اپنے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی لانا چاہتی ہے۔

بیروت میں لبنانی حزب اللہ کی سال 2000 میں عسکری پریڈ دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)

لبنان کے شہر ناقورہ میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ان دنوں انوکھے مذاکرات کے لیے میز سجائی جا رہی ہے۔ مذاکرات میں امریکہ بھی شریک ہے اور ان کا ایجنڈا لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود اور زمینی سرحدوں کا تعین ہے۔ فریقین [لبنان اور اسرائیل] کو مخاصمت پر مبنی روایتی زبان کی بجائے نرم اور شریں گفتار کے ذریعے مذاکرات کا ایجنڈا بیان کرتے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بھی شاید تعلقات نارملائز ہونے جا رہے ہیں؟

لبنان اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ آٹھ برسوں سے سرحدوں کے تعین کی پیش کش بیروت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے۔ امریکی سفیر فریڈرک ہوف نے 2012 میں سرحدوں کے تعین کی تجویز پیش کی تھی۔ جس علاقے میں سرحدی حد بندی مطلوب ہے وہ 860 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اگر دونوں ملک [اسرائیل اور لبنان] حد بندی کا معاہدہ کر لیتے ہیں تو لبنان کو اس کے بعد 500 مربع کلومیٹر پر عمل درای حاصل ہو جائے گی، تاہم لبنان اسے متنازع قرار دینے کی ضد میں اس علاقے کو اپنا ’اٹوٹ انگ‘ سمجھتا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ خبردار کر چکے ہیں کہ ان کی تنظیم لبنانی سمندری حدود میں اسرائیل کی طرف سے تیل اور گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کی صورت میں تنصیبات کو نشانہ بنائے گی۔ اس کے بعد اسرائیلی شرائط کی روشنی میں سرحدی حد بندی کی تجویز کو بیروت زور وشور سے مسترد کرنے لگا ہے۔

اسرائیل اس دھمکی سے قبل سمندر میں تیل اور گیس کے منصوبوں پر کام کرتا چلا آیا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے گیس پائپ لائنز کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے پیش نظر تل ابیب نے قبرص، یونان اور مصر سے معاہدہ کیا تاکہ زیر سمندر پائپ بچھا کر یونان اور اٹلی کے راستے دوسرے یورپی ملکوں کو گیس فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔

لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور حزب اللہ کی اتحادی جماعت امل ملیشیا کے رہنما نیبہ بیری کا حالیہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ امریکی اور اسرائیلی دباؤ رنگ لایا ہے جس کی وجہ سے لبنانی حکام اپنا سخت موقف ترک کر کے سرحدوں کے تعین سے متعلق کھلے عام مذاکرات پر تیار ہوئے ہیں۔

صاف لگتا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے تانے بانے پیش آئند امریکی انتخابات سے ملتے ہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کووڈ۔19 میں مبتلا ہونے کے باوجود وائٹ ہاؤس پر قبضہ برقرار رکھنے کے سرتوڑ کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسرائیل نے شدید دباؤ ڈال کر واشنگٹن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ٹرمپ کی مدت صدارت میں لبنان ۔ اسرائیل سرحدی تنازع حل کرانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت رونما ہو رہا ہے جب لبنانی معیشت تلپٹ دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے طول وعرض میں کرپشن اور فرقہ واریت کے زنگ سے آلودہ سیاسی حکومت کی ناکامی کے خلاف عوام سڑکوں پر ہیں۔ اندریں حالات لبنان سرحدی حد بندی سے متعلق مبنی بر انصاف معاہدے کے لیے مذاکرات کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

لبنانی حکام سمجھتے ہیں سرحدی حد بندی سے متعلق مذاکرات کا ڈول ڈال کر ملک کو درپیش معاشی بحران پر کسی قدر قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں لبنان کی سمندری حدود میں تیل اور گیس کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری ہو سکے گی، چاہے اس کے لیے اسرائیل کے ساتھ کچھ علاقہ شیئر کرنا پڑے۔

تاہم صورت حال کا بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی حد بندی کے معاملے پر شروع  ہونے والے مذاکراتی عمل میں حزب اللہ بظاہر مسخرانہ ناٹک کر رہا ہے جس کے جلو میں شیعہ ملیشیا اپنے خلاف بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی لانا چاہتی ہے۔ حزب اللہ اور اس کے ایرانی بالا حکام امریکہ کی کڑی اقتصادی پابندیوں، اپنے کارکنوں پر حملوں اور تنظیمی تنیصبات میں حالیہ دھماکوں کی حدت پر قابو پانا چاہتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ لبنانی سیاست دان اسرائیل کے ساتھ نئی زمینی اور سمندری حدود کا تعین ماننے کے لیے آمادہ وتیار ہیں حالانکہ 1949 کو حد بندی کے لیے ہونے والے آرمسٹس معاہدے کے تحت تمام سمندری اور زمینی علاقے لبنان کو دیے جا چکے تھے لیکن اب یکایک یہ علاقے متنازع کیسے ہو گئے؟ اگر دونوں ملکوں کی نئی سمندری اور زمینی حدود کا تعین از سر نو ہوتا ہے تو ایسے میں لبنان کو چند علاقوں سے ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خطے کی سیاست پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی دلدر دور کرنے کے لیے اسرائیل کو رعائتیں دینا صورت حال کا حل نہیں بلکہ اس کے لیے لبنانی حکومت کی صفوں میں کرپشن کے خلاف جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر قائم ریاستی اداروں میں حقیقی اصلاحات لانا ہوں گی۔ خود مختاری کا سودا کر کے اس مغالطے میں نہ رہا جائے کہ شاید ایسا کرنے سے لبنان کو معاشی اور سیاسی زوال سے بچایا جا سکتا ہے۔

عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سلسلہ شروع نہ ہوتا تو شاید لبنان اس وقت امریکہ اسرائیلی شرائط پر مذاکرات کی میز سجانے نہ جا رہا ہوتا۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نے لبنانی حکومت کے لیے آسان بنا دیا ہے کہ وہ چپکے سے صہیونی ریاست کے ساتھ سرحدوں کے تعین کا شور اٹھا کر تل ابیب سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جائے کیونکہ لبنان روزمرہ کی ضروریات کے لیے خلیجی ریاستوں کی امداد پر تکیہ کرتا ہے۔

یہ محض حسن اتفاق ہو سکتا ہے کہ حزب اللہ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر ایران نے امریکی انتخاب سے پہلے سرحدی حد بندی مذاکرات کا سلسلہ شروع کرایا ہو۔ ایران کو شاید امید ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیدن صدارتی انتخاب جیت کر تہران کو 2015 میں طے پانے والا نیوکلیئر معاہدہ بحال کرانے میں مدد کریں۔

حزب اللہ نے سرحدی حد بندی پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پسند تو کیا ہے تاہم تنظیم نے اپنے سٹرٹیجک مفادات پر سودے بازی نہیں کی۔ اب بھی شام۔اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر واقع 28 کلومیٹر طویل متنازع شیبا فارمز پر کسی قسم کی بات نہیں کی جا رہی۔

شیبا فارم شامی ملکیت ہیں تاہم اسرائیل نے اس پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اسی تنازع کو حزب اللہ اسلحہ رکھنے کے جواز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جبکہ 04 اگست کے ہلاکت خیز دھماکوں کے بعد سے حزب اللہ سے اسلحہ واپس لے کر لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

سرحدوں کے تعین کے بعد یو این سمیت دوسرے سٹیک ہولڈرز کے لیے حزب اللہ سے اسلحہ واپسی بڑا چیلنج ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ