ترک بیانیے میں فلسطین اور کشمیر کا تڑکا

فلسطین کو ڈھال بنا کر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا جواز تراشا جا سکتا ہے تو کشمیر کے حق میں آواز اٹھا کر ’عالمی اسلامی رہنما‘ بننے کا مشن کیونکر پورا نہیں کیا جا سکتا؟

نریندر مودی نے اختلافات کی وجہ سے ابھی تک ترکی کا دورہ نہیں کیا (اے ایف پی)

15 اگست 1947 کو اعلان آزادی کے فوراً بعد ترکی نے بھارت کو آزاد ملک تسلیم کر لیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات استوار ہوئے۔ سرد جنگ کے دوران ترکی مغربی اتحاد کا رکن تھا جبکہ بھارت غیر وابستہ تحریک میں شامل ملکوں کا سرخیل سمجھا جاتا تھا، اسی وجہ سے دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات مطلوبہ رفتار سے آگے نہ بڑھ سکے۔

ترکی اور بھارت اگرچہ کبھی اچھے دوست نہیں رہے، تاہم کئی دہائیوں تک اپنے اختلافات پر قابو پا کر تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی اور ترکی میں رجب طیب اردوغان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے نئی دہلی ۔ انقرہ دوطرفہ تعلقات منہ کے بل گرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ارطغرل غازی کے پیروکار بن کر ’عالمی اسلامی رہنما‘ بننے کی خو نے ترک صدر کو یہ دن دکھائے۔ دوسری جانب ’اکھنڈ بھارت‘ کے شوق میں دنیا کی ایک بڑی جمہوریت کو مذہبی انتہا پسندوں کے لیے میدان جنگ بنانے والے مودی بھی ان تعلقات کو موجودہ نہج تک لانے میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

ترکی کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں زوال کا ایک سبب انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ہے۔ انقرہ پاکستانی بحریہ کے لیے چار میڈیم سائز لڑاکا بحری جہاز تیار کر رہا ہے۔ ایک ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے کے تحت دو جنگی بحری جہاز ترکی میں تیار ہوں گے اور دو جہاز ٹیکنالوجی منتقلی معاہدے کے تحت پاکستان بنائے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا معاہدہ گذشتہ برس ہوا، جس کے تحت ترکی پاکستان کو 30 اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔

بھارت اور ترکی کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی پرتعیش زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن سے وابستہ نیٹ ورک کی بھارتی شہروں میں سرگرمیاں بھی بتائی جاتی ہیں۔

بھارت نے فتح اللہ گولن نیٹ ورک پر ہاتھ ڈالنے سے ہمیشہ پس وپیش سے کام لیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی حکومت نے ’فیٹو‘ نامی نیٹ ورک پر نہ صرف ملک کی اعلیٰ عدالتوں ذریعے پابندی لگوائی بلکہ تنظیم کے زیر انتظام چلنے والے متعدد رفاعی اور تعلیمی ادارے بھی ترک حکومت کے سپرد کر دیے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے خطاب نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی بھیر دیا۔ رجب طیب اردوغان نے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں کہا کہ ’کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ اب بھی ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔‘

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترمورتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’ہم نے کشمیر کے حوالہ سے ترکی کے صدر کے بیان کو پڑھا ہے جو ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور ان کی مداخلت ہمارے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور ترکی کو دوسرے ممالک کی خود مختاری  کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔‘

ترک صدر کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ رجب طیب اردوغان فلسطین، کشمیر اور ناگورونو کاراباخ میں ہونے والی ناانصافیوں پر بیان بازی تو تواتر سے کر رہے ہیں، لیکن سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے بارے میں وہ اپنے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان تمام اسباب اور عوامل پر طائرانہ نظر ڈالنے والا کوئی بھی شخص یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہو گا کہ بھارت اور ترکی کے مابین تعلقات رو بہ زوال ہیں۔ اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی نے مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام اہم ممالک کا دورہ کیا لیکن وہ ترکی نہیں گئے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق 2019 کے آخری مہینوں میں مسٹر مودی ترکی جانے والے تھے لیکن انہوں نے پاکستان کے حق میں کشمیر پر رجب طیب اردوغان کے موقف کی وجہ سے اس سفر کو منسوخ کر دیا۔

بھارت میں ترکی کے سفیر شاکر اوزکان سے منسوب بیان تاریخ کا حصہ ہے ’کہ چین نے بھی کشمیر کے معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، لیکن چینی صدر شی جن پنگ نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔‘

نئی دہلی اور انقرہ کے درمیان سرد مہری سے عبارت تعلقات کی تاریخ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا برقرار رہنا دراصل ترکی کی تبدیل ہوتی ہوئی ترجیحات بالخصوص خارجہ پالیسی کی طرف بھی نشاندہی کرتا ہے۔

بین الاقوامی محاذ پر امریکہ اور عرب ملکوں کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ دورہ سوڈان میں مزید عرب ملکوں کو اسرائیل سے تعلقات نارملائز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ صہیونی ریاست کے حق میں تسلیم ورضا کے حالیہ سفارتی مہمات کا مقصد وسیع مشرق وسطیٰ میں علاقائی سیاست کی نئی راہیں تراشنا ہے۔

ادھر ترکی فرانس کے ساتھ اپنی تزویراتی حریفانہ پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے مغربی افریقی ملکوں کے ساتھ راہ ورسم بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ ترک وزیر خارجہ کے مالی، گنی بساؤ اور سینیگال کے حالیہ دورے اس پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مالی میں ہونے والی فوجی بغاوت اگرچہ ترکی کے مفاد میں نہیں تھی تاہم انقرہ کو اس پیش رفت کے بعد مغربی افریقہ میں اپنا رسوخ بڑھانے کا موقع ضرور ملا۔ لیبیا کا بحران ترکی کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی ’نرم خوئی‘ کو سیاسی اور سکیورٹی رسوخ میں تبدیل کرے۔ مغربی افریقہ اس اپروچ کی شہ کلید ثابت ہو سکتا ہے۔ طرابلس اور مشرقی بحیرہ روم بحران کے معاملے پر فرانس اور ترکی کے درمیان حریفانہ پیش رفت جلد ہی اپنی جڑیں مغربی افریقہ تک پھیلا لے گی کیونکہ انقرہ کے سیاسی اور فوجی رسوخ کو ان علاقوں تک بڑھانے کی کوششوں اسی بات کی چغلی کھا رہی ہیں۔

اسی برس جولائی کے مہینے میں ترک وزیر خارجہ مولود  چاوش اوغلو نے نائیجر کے دورے میں فوجی تعاون دوسرے معاہدوں پر دستخط کیے۔ امکان ہے کہ لیبیا، صومالیہ اور قطر کے بعد انقرہ، اب نیجر میں اپنا فوجی اڈا بنانے جا رہا ہے۔ فوجی تعاون اور ممکنہ فوجی اڈا لیبیا میں ترکی کی کارروائیوں میں تیزی لانے کے ساتھ مصر کے ممکنہ حملوں کے خلاف ایک بفر زون کا کام دے گا۔ علاقائی طور پر یہ سب کے لیے کامیابی کی نوید ہو گی۔ ترکی اور نائجر کے درمیان معاہدہ مغربی افریقہ میں انقرہ کے رسوخ میں اضافے کا باعث ہو گا اور اس کے بدلے افریقی ملکوں کو لبییا کا بحران حل کرنے کی خاطر ترک مدد ملے گی۔

ایسی جارحانہ خارجہ پالیسی کے لیے جنوبی ایشیا سے اگر بھارت کی قربانی دے کر وسیع المشرب حمایت حاصل ہو جائے تو شاید یہ مہنگا سودا نہیں گا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں فلسطین کے سلگتے ہوئے قضیے کو ڈھال بنا کر اگر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا جواز تراشا جا سکتا ہے تو خطے میں مسئلہ کشمیر کے حق میں آواز اٹھا کر ’عالمی اسلامی رہنما‘ بننے کا مشن کیونکر پورا نہیں کیا جا سکتا!


یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ