امریکی الیکشن: کیا ٹرن آؤٹ کے گذشتہ تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے؟

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب میں اب تک 90 ملین سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر چکے ہیں مگر کیا ہم اس وقت یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون جیت رہا ہے؟

قبل از وقت ووٹنگ میں بڑی تعداد میں امریکیوں نے ڈاک یا خود پولنگ سٹیشنز پر جا کر ووٹ کاسٹ کیا ہے (اے ایف پی)

یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب میں اب تک 90 ملین سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر چکے ہیں۔

ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ امریکہ میں ووٹ ڈالنے والے افراد کی تعداد گذشتہ ایک صدی میں سب سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

امریکی صدارتی انتخاب کے حوالے سے یہ اعداد و شمار یونیورسٹی آف فلوریڈا کے یو ایس الیکشن پراجیکٹ نے سنیچر کو مرتب کیے ہیں۔

خیال رہے کہ ووٹر کی یہ تعداد 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے کل ٹرن آؤٹ کا 65 فیصد ہے اور ابھی ووٹنگ کا حتمی دن دور ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مرتبہ امریکی صدارتی انتخاب میں ریپبلکن کے ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک کے امیدوار جو بائیڈن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

امریکہ میں تین نومبر یعنی منگل کو الیکشن ہونے جا رہا ہے تاہم بعض ماہرین کے خیال میں اس انتخاب کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

قبل از وقت ووٹنگ میں بڑی تعداد میں امریکیوں نے ڈاک یا خود پولنگ سٹیشنز پر جا کر ووٹ کاسٹ کیا ہے جس کی وجہ الیکشن کے دن رش ہونے کی وجہ سے خود کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔

ڈیموکریٹک جماعت کو اس قبل از وقت ووٹنگ سے بڑا فائدہ ہوا ہے جس کی وجہ ان کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹ قبول کرنا ہے، جبکہ ماضی میں اسی طریقہ کار سے ریپبلکنز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں مگر بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں فراڈ ہونے کے خدشے کے پیش نظر بند کر دیا گیا۔

ماہرین کے خیال میں اس مرتبہ امریکہ میں آسانی کے ساتھ ووٹ کی تعداد 138 ملین کا ہندسہ عبور کر لے گی جو کہ 2016 کے انتخاب کی تعداد ہے۔

یاد رہے کہ چار سال قبل ہونے والے صدارتی انتخاب میں الیکشن کے دن سے قبل صرف 47 ملین ووٹ ہی ڈالے گئے تھے۔

امریکہ کی 20 ریاستوں میں پارٹی رجسٹریشن ڈیٹا کے مطابق 19 عشاریہ نو ملین ڈیموکریٹک کے رجسٹرڈ حامی اب تک ووٹ ڈال چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں رجسٹرڈ رپبلکنز کی تعداد 13 ملین جبکہ 10 عشاریہ ایک ایسے افراد ہیں جو کسی جماعت سے منسلک نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے کہ ان اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے کس کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ میں قبل از وقت ووٹنگ نے ریکارڈ توڑ توڑ دیے ہیں اور سیاسی ماہرین ان اہم سوالات کے جواب دینے کے لیے اشارے تلاش کر رہے ہیں کہ کون ووٹ کر رہا ہے؟ اور کون جیت رہا ہے؟

ایک طرح سے تو ان سوالات کے جواب انتہائی سادہ ہیں۔ رجسٹرڈ ڈیموکریٹس نے رجسٹرڈ ریپبلکنز کو بڑے مارجن کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے جائزے کے مطابق وہ ریاستیں جو جماعت سے منسلک ووٹرز کے حوالے سے رپورٹ کر رہی ہیں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر 14 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

تاہم یہی مکمل کہانی نہیں ہے۔ کئی امریکیوں کا انتخاب وہ جماعت نہیں ہوتی جہاں وہ رجسٹرڈ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ