آذربائیجان کے ساتھ جنگ بندی لیکن آرمینیا کے لوگ ناخوش کیوں؟

منگل کی صبح روس کے تعاون سے نگورنوکاراباخ کے علاقے میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوج کے اصرار پر یہ معاہدہ کیا۔

آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان نے منگل کو کہا ہے کہ انہوں نے نگورنوکاراباخ کے علاقے میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ فوج کے اصرار پر کیا ہے، تاہم آرمنیائی عوام نے اس فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیراعظم پاشنیان نے بتایا کہ انہوں نے فیصلے سے پہلے لڑائی کی صورت حال کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا اور فیلڈ کے بہترین ماہرین کے ساتھ مشاورت کی۔  

آرمینیا، آذربائیجان اور روس نے منگل کی صبح ایک ماہ کی خونریزی کے بعد علاقائی میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے ہونے والی آن لائن ملاقات میں کہا: 'سہ فریقی معاہدہ لڑائی کے خاتمے میں اہم نکتہ ثابت ہوگا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روس کے صدر کا کہنا تھا کہ نگورنوکاراباخ کی سرحدوں اور اس کے آرمینیا کے درمیان علاقے میں امن فوج تعینات کی جائے گی۔

دوسری جانب نگورنوکاراباخ  کے رہنما ارائیک ہروتیونیان نے فیس بک پر لکھا ہے کہ وہ اس بات پر متفق تھے کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے، جنگ ختم کروائی جائے۔

جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی اور آذربائیجان کی فوجوں کی پیش قدمی کے بعد کیا گیا ہے۔ باکو نے علاقے کے دوسرے بڑے شہر پر قبضے کے بعد پیر کو نگورنوکاراباخ کے کئی علاقوں پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے پر آرمینیا میں غصے کا اظہار کیا گیا۔ مظاہرین نے دارالحکومت یریوان میں حکومتی ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین دفاتر میں گھس گئے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے۔ مظاہرین کا ایک گروپ پارلیمنٹ کی عمارت میں بھی داخل ہوا اور وزیراعظم نکول پشینیان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا