پی اسی ایل: لاہور قلندرز کے ’حقیقی قلندر‘ ڈیوڈ ویزا کی کرشماتی اننگز

ڈیوڈ ویزا کے طوفانی چھکے اور چوکے اور پھر ملتان سلطانز کی اہم ویکیٹں حاصل کرنا لاہور قلندرز کو پی اسی ایل فائیو کے فائنل میں لے گیا۔

گذشتہ رات ڈیوڈ کی آل راؤنڈ کارکردگی نے لاہوریوں کے دل پشاوری کردیے ہیں(اے ایف پی)

لمبے بالوں کے ساتھ وہ ایک کرکٹر کم اور کسی تاریخی فلم کے ہیرو زیادہ لگتے ہیں جن کی زلفوں کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے ساری طاقت ان زلفوں میں پوشیدہ ہے۔ دراز قد اور مضبوط جسم کے مالک ڈیوڈ ویزا کو اگر لاہور قلندرز کا حقیقی قلندر قرار دیا جائے توغلط نہ ہوگا۔

گذشتہ رات ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے لاہوریوں کے دل پشاوری کردیے ہیں۔ لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ کی پانچ سال میں کرکٹ کے اتنے کارنامے  انجام نہیں دیے جتنے عوام میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

اس ٹیم کے کھلاڑی ہوں یا آفیشلز ، سب ہی کسی بھی لمحے آنکھوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔

ٹیم کے مالک رانا فواد ہوں یا بین ڈنک دونوں ہی اپنی خود ساختہ حرکتوں سے دل موہ لیتے ہیں ۔ کوئی ڈانس کرتا ہے تو کوئی ببل پھلا کر چھکا لگا دیتا ہے۔

اتوار کو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے دوسرے فائنلسٹ کے انتخاب کے لیے جب لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کےدرمیان ٹاس ہورہا تھا تو ایک کرکٹ تبصرہ نگار جو بولتے کم اور چیختے زیادہ ہیں کہنے لگے کہ جو بھی ٹاس جیتے گا وہ میچ جیت جائے گا کیونکہ وکٹ کی بے یقینی اور اوس کی وجہ سے سب ہی پہلے فیلڈنگ کرنا چاہتے ہیں۔

لاہور قلندرز کے سہیل اختر ٹاس ہار گئے اور اس کی پاداش میں پہلے بیٹنگ کرنا پڑی ۔ پہلی دفعہ پاور پلے میں لاہور نے زبردست بیٹنگ کی، ایسا لگتا تھا کہ آخر کار فخر زمان کو ردھم مل ہی گیا ہے، رنز بھی بن رہے تھےاور اوسط بھی صحیح تھی۔

لیکن برا ہوا  ان دو لیگ سپنرز کا جن کی ڈھلتی ہوئی عمر نے ان کی کرکٹ کو مختصر دورانیے کی کرکٹ تک محدود تو کردیا ہے لیکن بولنگ پھر بھی چل رہی ہے۔  سپنرز ڈبل اٹیک میں ایک طرف سے عمران طاہر اور دوسری طرف سے شاہد آفریدی نے صرف رنز نہیں روکے بلکہ وکٹیں بھی لینا شروع کردیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں کی نپی تلی بولنگ نے لاہور کے کیمپ میں سراسیمگی پھیلادی۔ اٹک اٹک کے قلندرز 15 ویں اوور میں تین ہندسے کے سکور تک پہنچے تو اس دوران محمد حفیظ اور بین ڈنک سمیت پانچ بلے باز پویلین میں واپس پہنچ گئے تھے۔

ایسے میں جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ویزا نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔ رکا ہوا سکور تیزی سے بڑھنے لگا۔ ڈیوڈ نے آخری پانچ اوورز میں 60 رنز بنا کر ملتان سلطانز کی امیدوں پر پانی پھیر دیا کیونکہ ملتان سلطانز خوش تھے کہ 150 سے کم رنز کا ہدف ملے گا جو فائنل کی سیٹ کے لیے قدرے آسان ہوگا۔

لیکن ڈیوڈ کے طوفانی چھکوں چوکوں نے 182 تک پہنچادیا جس میں ان کا حصہ محض 21 گیندوں پر  48 رنز تھا۔ ڈیوڈ کا کردار یہاں پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس سنسنی خیز میچ میں جس میں کھیل ہر لمحے کروٹیں بدل رہا تھا اور کبھی ایک کی امید بڑھاتا تو ایک کے چراغ گل کردیتا تھا، ڈیوڈ اپنا مزید کردار ادا کررہے تھے۔  

ملتان سلطانز کی بیٹنگ میں ان کے اوپنر آدم لیتھ نے بھی پاور پلے میں جارحانہ بلے بازی کرکے ہدف کا تعاقب شروع کر دیا تھا اور ایسا لگتا تھا ملتان باآسانی ہدف پورا کرلے گا مگر ایک بار پھر زلفیں لہراتے ہوئے ڈیوڈ ویزا کام آئے اور لیتھ اور بوپارا کو آؤٹ کردیا۔  یکے بعد دو وکٹ کا گرنا ملتان کو لے ڈوبا  کیونکہ بقیہ بلے بازوں میں اتنی صلاحیت نہ تھی کہ تیزی سے رنز بناسکتے۔ ڈیوڈ ویزا نے صرف تین وکٹیں ہی نہ لین بلکہ روئلی روسو کا ایک ناممکن کیچ لے کر ملتان کی امیدوں کو خاک میں ملادیا۔

 

ملتان سلطانز کی شان مسعود کو زبردستی کپتان بنا کر کھلانے کی منطق بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کی سست بیٹنگ کسی بھی طرح ٹیم کے لیے کسی کام کی نہیں ہے ۔

جب آٹھ وکٹ گرگئے تو آخر میں خوشدل شاہ کے چند جارحانہ شاٹ نے امید تو دلائی مگر بڑے سکور کا تعاقب ان کی حد سے باہر رہا اور وہ بھی آؤٹ ہوگئے اور یوں 25 رنز کے فاصلے پر ملتان سلطانز کی کشتی قلندرز کے دھمال میں ڈوب گئی۔  

حارث رؤف کا ہاتھ جوڑنا

میچ کا ایک دلچسپ لمحہ حارث رؤف کا شاہد آفریدی کو پہلی ہی گیند پر بولڈ کرکے ہاتھ جوڑنا تھا۔ حارث نے شاہد کو پہلی ہی گیند تیز سوئنگ یارکر کی جسے وہ  بغیر دیکھے فلک کرنا چاہتے تھے لیکن بیٹ ہوئے اور بولڈ ہوگئے۔

حارث نے آؤٹ کرکے فوراً شاہد کےسامنے ہاتھ جوڑ لیے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ ’میں نے سوچا ہوا تھا اگر شاہد بھائی کو آؤٹ کیا تو معافی مانگ لوں گا کیونکہ وہ بہت بڑے کھلاڑی ہیں۔‘

حارث اس وکٹ کے ساتھ اس سال میں اپنی 50 ویں وکٹ حاصل کرکے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ٹی ٹوئنٹی بولر بن گئے  ہیں۔

دعاؤں اور نیک تمناؤں کے سہارے فائنل تک پہنچنے والی لاہور کی ٹیم کا اب چیمپئین بننے کے لیے آخری معرکہ منگل کی شام کو کراچی  کنگز کے ساتھ ہوگا جہاں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے ۔

دونوں ٹیمیں پہلی دفعہ فائنل کھیلیں گی اور امید یہی ہے کہ اچھی اور جارحانہ کرکٹ دیکھنے کو ملے گی ۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ