سعودی سکولوں میں منطق اور فلاسفی پڑھانے کی تیاری

اس منصوبے کا اعلان 2018 میں کیا گیا تھا۔ نئے مضامین متعارف کروانے کا مقصد مختلف اقدار اور عقائد کے حامل افراد میں زیادہ برداشت والے رویوں کی حوصلہ افزائی اور شدت پسندی ختم کرنا ہے۔

(اے ایف پی)

سعودی عرب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر حماد بن محمد الشیخ  نے کہا ہے کہ ملکی سکولوں میں حقائق کے تجزیے اور فلسفے کی کلاسز شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سعودی وزیر تعلیم نے پیر کو شاہ عبدالعزیز سنٹر فار نیشنل ڈائیلاگ میں عالمی یوم برداشت کی تقریب کے دوران منصوبے میں پیشرفت کے بارے میں بتایا ہے۔

اس منصوبے کا اعلان 2018 میں کیا گیا تھا۔ نئے مضامین متعارف کروانے کا مقصد مختلف اقدار اور عقائد کے حامل افراد میں زیادہ برداشت والے رویوں کی حوصلہ افزائی اور شدت پسندی ختم کرنا ہے۔

آل الشیخ نے کہا: 'وزارت تعلیم کے طلبہ کے حلقوں میں برداشت کی اقدار اور انسانی فہم کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی جو طالب علم کی شخصیت، خیالات اور رویے کو سامنے رکھتے ہوئے کئی مشقوں کے ذریعے معاشرے میں برداشت کو مضبوط کرنے میں ستون کا کردار ادار کرتی ہیں۔'

اس موقعے پر مکہ کی ام القرا یونیورسٹی میں 18 سال سے انگریزی پڑھانے والے لیکچرر عبدالرحمان الحیدری نے کہا کہ انہوں نے طلبہ سے مشکل سوال پوچھنے کو ہمیشہ اہم پایا ہے۔ اس طرح طلبہ میں سوچنے کے عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: 'میرے خیال میں ایک کامیاب استاد وہ ہوتا ہے جو طلبہ میں اس صلاحیت کو پنپنے کا موقع دے جس کی مدد سے وہ اپنی مرضی کے مفہوم کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ وہ اساتذہ جو ایسا نہیں کر پاتے وہ طلبہ کو سیدھا سادا رٹا لگانے اور نصابی کتابوں میں ملنے والی تحریروں کی صرف کی نقل کرنے اور انہیں اپنے الفاظ میں بیان کرنے تک محدود کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد کی حیثیت سے انہیں سب سے بڑے جس چینلج کا سامنا رہتا ہے وہ طلبہ کی یہ حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ اپنے خیالات اور آئیڈیاز کی سمجھ کے ساتھ آگے آئیں جس میں وہ آرا بھی شامل ہیں جو ان  کے خیالات سے مختلف ہو۔

جدہ کی ایک یونیورسٹی میں انگریزی کی لیکچرر سارہ الرفائی نے اس موقعے پر کہا کہ وہ نئے مضامین متعارف کروانے کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'حقائق کے تجزیے اور فلسفے کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے سے طلبہ کو اپنے طور پر سیکھنے کے تجربات کا موقع ملتا ہے۔ وہ یہ سیکھتے ہیں کہ آوٹ آف دا باکس کس طرح سوچا جاتا ہے اور سوال کیسے کیے جاتے ہیں؟

سیاسیات اور نظریات میں گریجویشن کرنے والے ابدان الابدان نے کہا کہ نصاب میں نئے مضامین کی شمولیت سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود خلاف حقیقت باتوں پر سوال اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا: 'اس عمل سے طلبہ کو ملکی خوشحالی میں کردار ادا کرنے والے طلبہ کو مدد ملنی چاہیے کہ وہ دلائل، سٹوریز اور بنیادی ڈائیلاگ کے ذریعے سوچ سکیں اور منطقی غلطیوں پر سوال کر سکیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا