ہم سب خانہ بدوش ہیں

کشمیر میں ہر طبقے، فرقے یا نسل سے وابستہ افراد بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کا ہدف ہیں اور خطے کا مسلم کردار ختم کرنے کے مربوط پروگرام پر کام سرعت سے جاری ہے۔

خانہ بدوش کشمیری (اے ایف پی)

جموں و کشمیر کے 15 لاکھ سے زائد خانہ بدوش جو زیادہ تر گجر اور بکر وال برادری سے تعلق رکھتے ہیں، آج کل بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو توا پالیسیوں کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں عام رائے قائم ہے کہ ان کی اکثریت تن اور من سے ہندوستانی ہے اور آزادی تحریک میں ان کا کوئی خاص کردار نہیں رہا ہے۔

میڈیا چینلوں پر ان کے عارضی گھر گرانے، انہیں بے گھر کرنے کی حالیہ کارروائیوں کی براہ راست نشریات پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں

 

چند خانہ بدوش قبیلوں پر یہ الزامات عائد ہوتے آ رہے ہیں کہ 1990 کی مسلح تحریک میں سرحد پار کرانے میں انہوں نے نوجوانوں کی مدد کی تھی، مگر ہندوستانی سیاسی جماعتوں نے انہیں ہمیشہ اپنے کھاتے میں محفوظ ووٹ بنک تصور کیا ہے۔

پہاڑوں، بیابانوں اور جنگلوں میں گھومنے والے ان قبیلوں کی بہبود، تعلیم اور رہائش کے بارے میں کسی بھی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے کبھی نہیں سوچا۔ ان کی 98 فیصد آبادی ناخواندہ اور ملازمتوں سے محروم ہے مگر یہ محنتی، مذہبی اور اپنی مخصوص روایات کو عزیز رکھنے والے غیرت مند لوگ ہیں۔ یہ جہاں کہیں بھی جاتے ہیں اپنے پیچھے مٹی کے گھروندے چھوڑتے ہیں، پہاڑی جھرنوں سے پیاس بجھاتے ہیں، راہ چلتے چلتے بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ دیسی خوراک پر انحصار ان کی تندرستی کا راز ہے۔

ایک دہائی قبل میں نے ان کے ساتھ تقریباً تین ماہ جنگلوں اور پہاڑوں پر چلتے چلتے گزارے تھے اور ان کے حالات زندگی پر بی بی سی سے مقبول ترین ڈاکومنٹری سیریز ’گھمانتو‘ کے نام سے پیش کی تھی جس کے دوران میں ان کی سادگی سے انتہائی متاثر ہوئی۔

جموں و کشمیر میں لاگو فاریسٹ ایکٹ کے تحت خانہ بدوشوں کو جنگلوں اور پہاڑوں پر عارضی سکونت اختیار کرنے کا حق حاصل تھا جہاں یہ مال مویشی پال کر اور کھیتی باڑی سے گزارہ کر لیتے تھے۔ یہ تقریباً چھ ماہ وادی کی جنگلوں میں رہنے کے بعد باقی چھ ماہ کے لیے جموں کا رخ کرتے ہیں۔

ریاست کو یونین ٹریٹری میں منتقل کرنے کے بعد سو سے زائد مرکزی قوانین کشمیر پر لاگو کیے گئے مگر فاریسٹ ایکٹ 2006 کو لاگو نہیں کیا گیا جس کی رو سے خانہ بدوشوں کو یہ سارے حقوق دوبارہ حاصل ہو سکتے ہیں مگر انہیں خدشہ ہے کہ وہ اس قانون میں ردوبدل کر کے ان کو ماحول بچانے کی آڑ میں مٹی کے بنائے ہوئے کوٹھوں سے بھی بے دخل کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2018 میں رسانہ کٹھوعہ میں سات برس کی بچی کی آبرو ریزی اور ہلاکت کے بعد ان کو ہراساں کرنا، جموں سے نکالنا اور جنگلوں میں عارضی مسکن بنانے سے روکنا اس منظم کاروائی کا سلسلہ تصور کیا جاتا ہے جو خطے میں مسلمانوں کو اپنی زمین اور جائدادوں سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کا منصوبہ ہے جس کی شروعات پانچ اگست 2019 کے اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے مرکزی فیصلے سے بھی پہلے ہوئی ہے۔

قبائلی امور کے ماہر جاوید راہی کہتے ہیں کہ ’اصل میں یہ مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جموں میں ماحولیات کو بچانے سے متعلق بعض کارکنوں نے عدالت میں عرضی دی کہ بہت سارے گجر اور پہاڑی لوگ جنگلوں پر قابض ہوگئے ہیں جن کو نکالنا ضروری ہے۔ عدالت نے انہیں جنگلوں اور چراگاہوں سے نکالنے کا حکم دیا اور حکومت نے فوراً اس پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے اس پر ایک پیٹیشن داخل کی ہے جس میں ہم نے خانہ بدوشوں کو مرکزی فاریسٹ ایکٹ کے تحت حقوق دینے کی درخواست کی ہے۔‘

جموں میں مسلمان انتہائی خوف زدہ ہیں جو بر صغیر کے بٹوارے کے دوران سنہ 47 کی اس خون ریزی کو اب تک نہیں بھولے۔ بعض خبروں کے مطابق جن سنگھیوں اور مہاراجہ کی ڈوگرہ فوج نے تین سے پانچ لاکھ مسلمانوں کو قتل اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑ کر سرحد پار کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

جموں کے ایک صحافی کہتے ہیں، ’ایسے حالات جان بوجھ کر پیدا کیے جا رہے ہیں کہ جموں میں چند فیصد بچے کچھے مسلمان بھی یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔‘

جموں کے مسلمانوں کو ’روشنی ایکٹ‘ سے ذرا سی راحت ملی تھی جو فاروق عبداللہ نے پہلے 2001 میں متعارف کرایا تھا اور اس کی رو سے سرکاری زمین کے جس پر بعض لوگوں نے قبضہ کیا ہے ملکئتی حقوق مقرر کردہ رقم کے بدلے میں حاصل کیے جا سکتے ہیں تاکہ یہ حکومت کے لیے بھی آمدنی کا ایک اور ذریعہ بن سکے۔

سرکار کے ایک تخمینے کے مطابق 21 ہزار کنال اراضی کو ملکیتی حقوق دینے سے 25 ہزار کروڑ کا سرمایہ حاصل ہو سکتا تھا مگرشواہد بتا رہے ہیں کہ اس کا فائدہ غریبوں کے بجائے با اثر سیاست دانوں، تاجروں اور افسروں نے اٹھایا جن کی فہرست موجودہ حکومت نے تیار کی ہے۔

چند ہفتے قبل جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے روشنی ایکٹ کو ناجائز اور غیر آئینی اقدام قرار دے کر اس کی مرکزی ادارے سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے فوراً بعد جموں کے مسلم اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بیشتر تعمیرات کو منہدم کرنا شروع کر دیا گیا جس کی مذمت کرتے ہوے مین سٹریم رہنماؤں نے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے کشمیری مسلمانوں کو اپنی جائیداد سے بے دخل کرنے کا بی جے پی کامنصوبہ ہے۔

رسانہ ریپ کیس کے وسل بلور اور انسانی حقوق کے کارکن طالب حسین اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’جموں میں بی جے پی نے کافی عرصے سے ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کی ہے مگر جموں میں انہیں کوئی مسلمان نہیں ملتا جس پر یہ تشدد کر کے تشہیر کرتے۔ گو کبھی کبھار کسی کشمیری ٹرک ڈرائیور یا مزدور کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اب انہوں نے گجر اور بکر والوں کو ایک سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر بے دخل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

’ان کے خلاف نفرت پھیلانے، انہیں مویشی چرانے کا الزام لگانے اور جنگل کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے جیسی باتیں پھیلا کر ان کو جموں کے ڈوگروں میں مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ اس کی کڑی رسانہ ریپ سے ملتی ہے جب ایکتا منچ اور بی جے پی کے وزرا نے ریپ کے مجرموں کے حق میں جلوس نکالے تھے۔ جب ہندوستان کے 22 کروڑ مسلمانوں سے شہریت چھیننے کی کارروائی کی جارہی ہے تو بے چارے یہ غریب اور نادار گجروں کی کیا اوقات جن کے دفاع کے لیے قانون کے ادارے بھی بی جے پی کی زبان بولتے ہیں۔‘

ظاہر ہے کہ کشمیر میں ہر طبقے، فرقے یا نسل سے وابستہ افراد بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کا ہدف ہیں اور خطے کا مسلم کردار ختم کرنے کے مربوط پروگرام پر کام سرعت سے جاری ہے، کشمیر کی شاداب وادیوں میں ایک سو سے زائد میگا صنعتی منصوبوں کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ عنقریب وہ دن آئے گا جب کشمیر انبانیوں اور اڈانیوں کی جاگیر ہو گی جب کہ بے گھرکشمیری اپنے ہی باغات میں یومیہ اجرت پر کام کرتے نظر آئیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ