بھارتی وکیل کا 'سیاست دانوں' کی توہین پر براک اوباما پر مقدمہ

اتر پردیش کے وکیل گیان پرکاش چکلا نے کتاب 'اے پرومسڈ لینڈ' میں بھارتی سیاست دانوں کی توہین پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے خلاف باضابطہ شکایت کے لیے عدالت میں درخواست کردی۔

سابق صدر اوباما کی یادداشتوں پر مبنی  کتاب بھارت میں سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارتی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر وکیل نے سابق صدر براک اوباما کے خلاف ان  کی کتاب 'اے پرومسڈ لینڈ' میں ملک کے سیاست دانوں کی 'توہین' پر باضابطہ شکایت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔

وکیل گیان پرکاش شکلا نے جمعرات کو یہ سول مقدمہ درج کروایا، جس میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کانگریس پارٹی کے سیاست دان راہول گاندھی اور منموہن سنگھ کی توہین کرنے کے الزام میں براک اوباما کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔

مذکورہ کیس کو یکم دسمبر کو لال گنج سول کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔

سابق صدر اوباما کی یادداشتوں پر مبنی یہ کتاب بھارت میں سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہے اور اس نے گاندھی سیاسی خاندان کے بارے میں بیانات کی وجہ سے سیاسی میدان میں بے چینی پھیلا دی ہے۔

اس کتاب میں براک اوباما نے اپنے پہلے دور اقتدار کے دوران بھارتی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا واضح حوالہ دیا ہے، اس وقت بھارت میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار تھی۔

اترپردیش سے تعلق رکھنے والے وکیل نے اوباما کی کتاب میں ان پیراگرافوں پر اعتراض کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ سونیا گاندھی نے منموہن سنگھ کو ہندوستان کا 13واں وزیر اعظم منتخب کیا تھا کیونکہ انہیں اپنے بیٹے راہول گاندھی سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جن کے حوالے سے کتاب میں 'گھبرائے ہوئے' اور متاثر کرنے کے لیے بے چین جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اوباما لکھتے ہیں: 'راہول گاندھی کی شخصیت میں گھبرائی ہوئی اور غیرجانبدار کیفیت ہے، جیسے وہ ایک طالب علم ہوں جو کورس کا کام انجام دینے کے بعد اساتذہ کو متاثر کرنے کے خواہش مند ہوں، لیکن اس موضوع میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ان میں لچک یا جذبے کی کمی تھی،' تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ 'ہوشیار اور شائستہ لگ رہے تھے۔'

منموہن سنگھ کے بارے میں اوباما کا کہنا تھا کہ وہ 'عقلمند ، پُر سوچ اور شدید ایماندار' بن کر آئے اور ایک 'ٹیکنوکریٹ کے طور پر انہوں نے لوگوں کے اعتماد کو اپنے جذبات سے متاثر نہیں کیا بلکہ اعلیٰ معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا اور بدعنوان نہ ہونے کی وجہ سے اچھی شہرت کمائی۔

سابق صدر لکھتے ہیں، سونیا گاندھی ایک 'متاثر کن خاتون' تھیں، جنہوں نے بولنے سے زیادہ سننے میں صرف کیا۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ ان کی طاقت 'ہوشیاری اور زبردست ذہانت' سے اخذ کی گئی ہے۔

اگرچہ ان تبصروں کو زیادہ تر میڈیا کوریج میں تعریف کے طور پر بیان کیا گیا تھا اور حقیقت میں اوباما نے منموہن سنگھ کی بھارت میں قوم پرست جذبات کے خلاف مزاحمت کی پُرجوش تعریف کی ہے، راہول گاندھی کے بارے میں بیانات نے کانگریس کے سیاست دانوں کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی ہے اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاستدانوں کو پارٹی کا مذاق اڑانے کا موقع دیا۔

وکیل نے اپنی درخواست میں، جس میں بھارت سے براک اوباما کو باضابطہ شکایت جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، کہا ہے کہ ان سیاست دانوں کے لاکھوں پیروکار ان تبصروں سے مجروح ہوئے ہیں اور اگر یہ لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے تو صورت حال خراب ہوجائے گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا