ڈونلڈ ٹرمپ شکست تسلیم کر کے ملک کو انا پر ترجیح دیں: براک اوباما

سابق امریکی صدر نے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اقدامات ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لیں اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی انا اور ذاتی مفاد پر ملک کی بہتری کو ترجیح دیں۔

اتوار کو ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے کی جانے والی اپنی ٹویٹ میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، اور بغیر کسی شواہد کے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انتخابات میں ’دھاندلی‘ کی گئی۔ اسی روز ٹرمپ کے پیش رو نے ان  پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اوباما نے ’سی بی ایس‘ کے پروگرام ’سکسٹی منٹس‘ کے میزبان سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک صدر سرکاری ملازم ہوتا ہے۔ اصولی طور پر وہ اس دفتر کا عارضی مکین ہوتا ہے۔ جب آپ کا وقت ختم ہوتا ہے تو یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنی انا، اپنے مفاد، اور اپنی مایوسیوں سے زیادہ ملک کو ترجیح دیں۔ میری صدر ٹرمپ کو یہ نصیحت ہو گی کہ اگر آپ اس تاخیری وقت پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایسے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے جس نے ملک کو ترجیح دی تو یہ وقت ہے کہ آپ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘

جب انٹرویو کرنے والے سکاٹ پیلے نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ یہ مانتے ہیں کہ صدر کو شکست تسلیم کر لینی چاہیے تو ان کا کہنا تھا: ’بالکل، میرا خیال ہے اب وقت ہے کہ وہ شکست تسلیم کر لیں۔ ایسا الیکشن کے اگلے روز یا اس سے دو دن بعد تک کر لینا چاہیے۔‘

اوباما کا کہنا تھا: ’اگر آپ دیانت داری سے اعداد و شمار کو دیکھیں تو جو بائیڈن آسانی سے جیت چکے ہیں۔ ایسی کوئی صورت نہیں کہ اب یہ ریاستیں کوئی اور فیصلہ کریں اور ایسا بھی نہیں ممکن کہ الیکشن کا نتیجہ تبدیل ہو جائے۔‘

اوباما، جو اپنی تیسری کتاب ’اے پروامسڈ لینڈ‘ کی تشہیر کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے 2016 میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں فتح حاصل کر کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کیے جانے والے اقدامات پر برہم ہیں۔

اوباما مجموعی طور پر خاموش رہے ہیں لیکن 77 سالہ جو بائیڈن کی الیکشن مہم کے دوران انہوں نے ٹرمپ پر کئی وار کیے۔ ان کا کہنا تھا: ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایسے مواقع آئے جب میرے حامی چاہتے تھے کہ میں جارحانہ انداز اختیار کروں اور اس پر مزید بات کروں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اس بارے میں مزید بات کرنی چاہیے کیوں کہ صدر نے جس طرح کا رویہ رکھا ہے کہ وہ ’مناسب نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے انٹرویو لینے والی دوسری صحافی گیل کنگ کو بتایا: ’یہ میری ترجیح میں شامل نہیں ہے کہ میں سامنے آؤں۔ میرے خیال میں ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں اس الیکشن کے دوران ہمارے آئینی اقدار کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ میرے لیے اہم ہے کیونکہ ایک ایسے شخص کے طور پر جو اس دفتر میں کام کر چکا ہے میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ’یہ سب معمول کے مطابق نہیں ہے۔‘‘

ان آٹھ دنوں کے دوران جب جو بائیڈن نے 270 الیکٹورل کالج ووٹوں کا ہدف عبور کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے لیے درکار اکثریت حاصل کر لی ہے، کئی افراد نے الوداع کہنے والے صدر کی جانب سے عاجزانہ رویہ رکھنے کی روایت کی جانب سے اشارہ کیا ہے چاہے وہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا 2008 میں فتح کے بعد سابق صدر اوباما کو وائٹ ہاؤس کی دعوت دینا ہو یا جیسے سابق صدر اوباما نے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو 2016 میں دعوت دی تھی۔

موجودہ وقت میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کر رہے ہیں اور بائیڈن اور ان کی ٹیم کو انٹیلی جنس سروس کی جانب سے مکمل تفصیلات کی آگاہی کا موقع نہیں مل رہا۔

اوباما کا مزید کہنا تھا: ’میرے خیال میں ہمارے مخالفین ہمیں کمزور دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ صرف یہ الیکشن نہیں ہے بلکہ گذشتہ کئی سال ہیں۔ ہماری سیاست میں ایسی خلیج موجود ہے جو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک پرانی کہاوت ہے سیاست کو مشکل وقت میں ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن جب خارجہ پالیسی کی بات آئے تو اسے متحدہ امریکہ ہونا چاہیے نہ کہ تقسیم شدہ امریکہ۔‘

اوباما سے ان کی کتاب کی ایک سطر کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ’ہماری جمہوریت اس وقت ایک بحران کے دھانے پر ہے۔‘

اتوار کی رات کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں ان سے اس کی وضاحت کرنے کو کہا گیا جس پر ان کا کہنا تھا: ’ہم ایک ایسی صدارت سے گزرے ہیں جس نے ہماری بنیادی آئینی روایت کی تضحیک کی ہے۔ ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں اپنے صدر سے امیدیں رکھتے تھے۔ لیکن زیادہ اہم اور زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ جیسا کہ ایسی صورت حال کو کچھ افراد کی جانب سے سچ کا زوال کہا جاتا ہے ہم نے یہ ہوتے دیکھا ہے۔ جس میں جانے والے صدر ٹرمپ نے تیزی لائی ہے یعنی کہ ہمیں سچ بولنے کی ضرورت نہیں بلکہ سچ کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ