بائیڈن امریکہ کے صدر، کمالہ پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر منتخب

صدارت کا باضابطہ عمل 14 دسمبر کو ہو گا جب کہ نئے صدر 20 جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

بائیڈن اور کمالہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بھی جیت کا اعلان کر چکے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن اور نائب صدر کے عہدے کی امیدوار کمیلا ہیرس نے اپنی جیت کا اعلان کر دیا۔

امریکی انتخابات کے نامکمل نتائج کے مطابق بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر ہوں گے جب کہ کمالہ ملک کی پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدر ہوں گی۔

بائیڈن نے آج پنسلوینیا کی ریاست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں خاطر خواہ برتری حاصل کی جس کے بعد ان کی صدارت کا اعلان امریکی میڈیا پر کر دیا گیا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر شکست قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ یہ الیکشن جیتے ہیں۔

ابھی بھی پنسلوینیا کے مکمل نتائج کا اعلان نہیں ہوا مگر بائیڈن کی واضح برتری سامنے آ گئی ہے۔ وہ آج شب قوم سے خطاب میں اپنی جیت کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ منتخب صدر کے اعلان کے بعد امریکی شہر نیو یارک میں بڑی تعداد میں بائیڈن کے حامی سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی جیت کا جشن منایا۔

صدارت کا باضابطہ عمل 14 دسمبر کو ہو گا جب انتخابی حلقہ ٹرمپ اور بائیڈن میں سے ایک کا انتخاب کرے گا۔ انتخابی حلقے میں بائیڈن کے امیدوار 270 سے زائد ہونے کے باعث ان کا ہی انتخاب کیا جائے گا اور یہ انتخاب محض ایک ظابطے کی کارروائی ہو گی۔ وہ 20 جنوری کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ٹرمپ کی ٹیم نے انتخابات کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے مگر قانونی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس فراڈ یا دھاندلی کے ثبوت نہ ہونے باعث بہت مشکل ہے کہ اپنا کیس جیت سکیں۔ بائیڈن اور کمالہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بھی جیت کا اعلان کر چکے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق بائیڈن ایک ایسی قوم کی قیادت سنبھالیں گے جو کرونا (کورونا) وائرس کی تاریخی وبا اور معاشی ومعاشرتی انتشار میں الجھی ہوئی ہے۔

ان کی فتح تین دن سے بے یقینی کی صورت حال کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس دوران انتخابی حکام ڈاک سے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کر رہے تھے، جس کی وجہ سے کچھ ووٹوں پر کام میں تاخیر ہوئی۔ پنسلوینیا میں کامیابی کے بعد بائیڈن کے الیکٹورل کالج کے ووٹ 270 سے بڑھ گئے۔

77 سالہ بائیڈن نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے کسی امتیازی سیاسی نظریے پر کم اور ووٹروں کے وسیع تر اتحاد پرانحصار کیا کیونکہ ان کی رائے میں ٹرمپ کا وجود امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ تھا۔ یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہوئی اور اس کا نتیجہ مشی گن، پنسلوینیا اور وسکونسن میں ان کی کامیابی کی صورت میں نکلا۔

بائیڈن 40 لاکھ سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے کے راستے پر تھے۔ یہ وہ فرق ہے جو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ ٹرمپ نے بعض ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی میں تاخیر کا فائدہ اٹھا اور الیکشن میں فراڈ کا غلط دعویٰ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے حریف اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عہدے پر قائم صدر کی جانب سے ایک ایسا غیرمعمولی الزام ہے جو جمہوری عمل کی بنیاد میں شک کے بیج بونے کی کوشش کر رہے ہوں۔

جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی ہوتی رہی بائیڈن نے کشیدگی کم کرنے  اور اپنے ساکھ کو صدارتی قیادت کے طور پر نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اتحاد کی بات کی۔ ان اقدامات کا مقصد منقسم قوم کے جذبات کوٹھنڈا کرنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن نے جمعے کی رات کو ریاست ڈیلاویئر میں کہا: 'ہمیں اپنی سیاست کا مقصد یاد رکھنا ہو گا۔ یہ مکمل طور پر ایک سرد نہ پڑنے اور ختم نہ ہونے والی جنگ نہیں۔ ہماری سیاست کا مقصد ہماری قوم کا کام ہے۔ لڑائی کے شعلے بھڑکانہ نہیں۔ ہماری سیاست مسائل کے حل، انصاف کی ضمانت اور کسی کو منصفانہ موقع دینے کے لیے ہے۔'

دوسری جانب کمالہ ہیرس نے امریکہ کی پہلی سیاہ فام نائب صدر بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ ایسے موقعے پر کامیاب ہوئی ہیں جب امریکہ کو نسل پرستی کے الزام کا سامنا ہے۔ کمالہ ریاست کیلی فورنیا سے سینیٹر ہیں۔ وہ جنوبی ایشیائی نسل سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت ہیں جو نائب صدر منتخب ہوئی ہیں۔

وہ ٹرمپ کے ہاتھوں ہیلری کلنٹن کی شکست کے بعد امریکی حکومت میں اعلیٰ ترین عہدے پر فائز پہلی امریکی خاتون بھی ہوں گی۔56 سالہ کمالہ کئی ثقافتیں رکھنے والے امریکی معاشرے کی نمائندہ ہیں۔ ایک سے زیادہ ثقافتوں کی موجودگی امریکہ کی پہچان ہے لیکن واشنگٹن کے طاقت کے مراکز میں بڑی حد تک دکھائی نہیں دیتی۔

ملک میں بہت بڑے عہدے کے لیے ان کی فتح کی بدولت ان خواتین کو امید ملے گی جو چار سال پہلے ہیلری کلنٹن کی شکست کے بعد سخت مایوسی کا شکار ہو گئی تھیں۔ کمالہ دو دہائیوں سے ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاست میں ابھرتا ہوا ستارہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ