کرونا وائرس کی دوسری لہر: پاکستان میں تمام تعلیمی ادارے بند

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر ملک میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر ملک میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پیر کو صوبائی وزرا کے ساتھ اجلاس کے بعد تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے تاہم اس دوران آن لائن کلاسز کا سلسلہ جاری رہے گا۔

شفقت محمود نے مزید کہا کہ 25 دسمبر سے دس جنوری تک تمام تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی مکمل تعطیلات ہوں گی۔ بند کیے جانے والے تعلیمی اداروں میں یونیورسٹی، کالج، سکول، ٹیوشن سینٹرز شامل ہیں۔

اس موقع پر وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہمراہ مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں گیارہ جنوری سے سکول کھول دیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران دسمبر کے مہینے میں ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئِے ہیں۔

تاہم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اساتذہ کے حوالے سے فیصلہ تعلیمی اداروں کو خود ہی کرنا ہوگا کہ آیا ان کا آنا ضروری ہے یا نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیال رہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکام کی جانب سے پہلے پرہجوم مقامات پر جمع ہونے پر پابندی لگائی جا چکی ہے جبکہ عوام سے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرنے کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔

جہاں تک تعلیمی اداروں کی بات ہے تو اس حوالے سے گذشتہ دو ہفتوں سے بات چیت جاری تھی اور حکام کا کہنا تھا کہ بچوں کی تعلیم اور صحت دونوں ہی اہم ہیں اس لیے فیصلہ کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔

تعلمی ادارے بند کرنے کے اعلان سے قبل ہی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر شفقت محمود کے نام کا ٹرینڈ بھی دیکھا گیا جس میں بظاہر طلبہ مختلف انداز میں میمز بنا کر تعلیمی ادارے بند کرنے کے اعلان کے منتظر دکھائی دیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس