افغانستان کے لیے اگلے چار سالوں میں 12 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ مگر شرائط لاگو

غیر ملکی ڈونرز نے اگلے چار سالوں میں افغانستان کے لیے 12 ارب ڈالر تک کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم اس کو انسانی حقوق کے تحفظ اور امن مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط کیا ہے۔

جینیوا میں ڈونر کانفرنس میں  اٖفغان وزیر خارجہ  محمد حنیف اتمر فن لینڈ اور اقوام متحدہ کے نمائندوں سے ملتے ہوئے(اے ایف پی)

غیر ملکی ڈونرز نے اگلے چار سالوں میں افغانستان کے لیے 12 ارب ڈالر تک کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم اس کو انسانی حقوق کے تحفظ اور امن مذاکرات میں پیش رفت سے مشروط کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹز کے مطابق ایسا منگل کو ایک کانفرنس میں طے پایا جس میں فن لینڈ نے ڈیولمنٹ کوپریش اور بیرون ملک تجارت کے وزیر ویل سکیناری نے کہا کہ ڈونروں نے اگلے سال کے لیے تین ارب ڈالر کا وعدہ کیا ہے اور 2024 تک افغانستان کے لیے سالانہ رقوم بھی اسی کے آس پاس ہوں گی۔

یہ 12 ارب ڈالر کی فنڈنگ 2016 میں چار سالوں کے لیے اعلان کردہ 15.2 ارب ڈالر سے کم  ہے حالانکہ یہ ایسا وقت ہے جب افغانستان کی ضروریات بڑھتے تشدد کے واقعات اور کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث اور بڑھ گئی ہیں۔

بہت سے ڈونرز نے مستقبل میں مالی امداد کو جاری رکھنے کو سخت شرائط سے جوڑا جبکہ بہت نے صرف اگلے سال کے لیے ہی دینے کا فیصلہ کیا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے مالی امداد کو شرائط سے جوڑنا غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے سست روی کا شکار امن عمل کو تیزی کی طرف دھکیلنے کا ایک طریقہ ہے۔

امریکہ نے اگلے سال افغانستان کو 30 کروڑ ڈالر تک سولین امداد دینے کا وعدہ کیا لیکن کہا کہ اس کے بعد کے سال میں مزید 30 کروڑ امن مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر مبنی ہوں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے نائب سیکرٹری برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل نے جینیوا میں ہونی والی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’ہم افغانستان کی حمایت میں کھڑے ہیں اور 2021 میں ضروریات کے لیے امداد میں 60 کروڑ ڈالر مختص کر چکے ہیں۔ آج ہم 30 کروڑ دینے کا وعدہ کرتے ہیں اور باقی 30 کروڑ امن عمل کا مشاہدہ کر کے دیا جائے گا۔‘

امریکہ حالیہ برسوں میں سولین امداد میں ہر سال تقریباً 80 کروڑ ڈالر دے چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جرمنی نے 43 کروڑ یورو ( 55 کروڑ ڈالر) کا وعدہ کیا اور اس طرف اشارہ کیا کہ وہ 2024 تک امداد دیتا رہے گا مگر اس نے بھی 20 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت کرنے پر زور دیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور ستمبر میں شروع ہوا تھا مگر ضابطوں پر اختلافات کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہوتا آیا ہے۔

تاہم ہیل کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ’اہم پیش رفت‘ ہوئی ہے جس میں بنیادی اصولوں پر ممکنہ اتفاق شامل ہے جس سے مذاکرات کے اگلے قدم تک جانے میں مدد ملے گی۔

فغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر کہا مذاکرات کی ’قانونی بنیاد‘ ایک مسئلہ جس کا حل ابھی طے نہیں پایا مگر جلد ہو ہو جائے گا۔

افغان حکومت نے کانفرنس کے نتائج کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اسے کامیابی قرار دیا اور کہا کہ سخت شرائط امن مذاکرات پر فوکس کرنے میں مدد دیں گی۔

 

لیکن ماہرین معیشت اور کچھ سفارت کار اس حوالے سے تشویش کا شکار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایک بہترین صورت حال میں بھی یہ رقم اشد ضرورت کے کے دوران صرف بنیادی اخراجات پورے کر سکے گی۔

کابل میں موجود بیرونی انسٹی ٹیوٹ کے چیف اکنامسٹ عمر جویا کا کہنا تھا: ’امداد کو امن عمل سے مشروط کرنا اسے ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے جیسا ہے۔ ہم مشورہ دیتا ہے کہ ڈونرز اگلے چار سال تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ صحت اور تعلیم کی عوامی خدمات کو  اس اہم وقت میں بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔‘

انسانی اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال اور ان پر سمجھوتہ کرنے کے خدشات نے کئی ممالک کی جانب سے افغان انتظامیہ سے کیے جانے والے طویل المدتی معاہدوں کی راہ مسدود کر دی ہے۔

افغان حکومت کو اپنے 75 فیصد اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

یورپی یونین نے چار سال کے دوران افغانستان کے لیے ایک اعشاریہ دو ارب یوروز سے زائد کی امداد کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اس کے مطابق بھی یہ امداد مشروط ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کا کہنا ہے: ’افغانستان کے مستقبل میں جمہوری اور انسانی حقوق کے حوالے سے 2001 سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو محفوظ رکھا جائے۔ اسلامی امارات کو بحال کرنے کی کوئی بھی کوشش ہماری معاشی اور سیاسی تعلقات پر اثر انداز ہو گی۔‘

ان کا اشارہ طالبان کے سابقہ سخت گیر دور کے بارے میں تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا