کابل میں امن سے متعلق خواتین کی پینٹنگز کی نمائش

افغانستان کے کونے کونے سے لوگ مختلف ثقافتی، معاشی، سیاسی، سائنسی اور فنی پروگرام منعقد کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا پیغام دنیا تک پہنچائیں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اپنے ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔

(انڈپینڈنٹ فارسی)

افغان خواتین مصوروں نے کابل میں ’پینٹنگ فار پیس‘ کے نام سے ایک نمائش کا انعقاد کیا اور افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں جاری جنگ اور بدامنی کے خاتمے کے لیے جلد سے جلد کسی معاہدے پر پہنچیں۔

ان مصوروں نے کہا، ’ہم نے یہ نمائش افغان حکومت، طالبان اور عالمی برادری کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے رکھی تاکہ وہ دوحہ میں جاری امن عمل کو تیز کرنے اور مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کے لیے کام تیز کریں۔ اور اس میں سب کی مرضی میں شامل ہونے دیں تاکہ اس بدحالی اور اس کی پریشانی کی وجہ جو افغانستان میں کئی دہائیوں سے موجود ہے اسے ختم کیا جاسکے اور لوگ جنگ، تشدد اور دیگر بدحالیوں سے دور پرامن ماحول میں زندگی بسر کرسکیں۔‘

خواتین مصوروں نے امن مذاکرات میں افغان خواتین کے کردار کو افغانستان کے لیے اہم اور بااثر قرار دیا اور افغان حکومت اور طالبان سے کہا: ’افغان حکومت اور طالبان کو امن مذاکرات میں پیش قدمی کرتے ہوئے افغان خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں اور انہیں جاری جنگوں میں کسی بھی دوسرے طبقے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، لہذا وہ مذاکرات میں اپنے حقوق اور کامیابیوں کا دفاع کرسکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم ملک میں پائیدار امن اور استحکام چاہتے ہیں تاکہ جمہوریہ کے نظام اور ہماری کامیابیوں کو بچایا جاسکے نہ کہ اس کے بہانے امن، جو کچھ ہم نے بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے، برباد ہو جائے گا اور طالبان کی حکومت کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ ہم نے طالبان کے امارت اسلامیہ کا نظام تجربہ کیا ہے اور اس نظام سے ہماری خوشگوار یادیں وابستہ نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اس کے حق میں ہیں۔۔‘

امن کے لیے اپنی پینٹنگز کی نمائش کرنے والی خاتون سوریا نے کہا کہ ’ہم افغان خواتین، خاص طور پر خواتین پینٹر، اس خدشے سے دوچار ہیں کہ امن مذاکرات میں ہماری کئی سالہ کامیابیوں کا سودا اور تباہ ہوجائے گا۔ ہم امن اور استحکام چاہتے ہیں جس سے افغانستان کے تمام لوگ خصوصا خواتین پہلے سے کہیں زیادہ اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں۔ یہ ہمارا خواب ہے اور ہم نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے اور ہم اسے انجام دیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسینہ سادات ایک پینٹر ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن کا مطالبہ کرنے کے علاوہ وہ طالبان حکومت کی بحالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں نے رنگ لیا ہے اور میں امن کے لیے پینٹنگ کر رہی ہوں۔ ہم امن اور استحکام چاہتے ہیں جس سے تمام شہری مطمئن ہوں اور ان کے حقوق کو حاصل کریں ، لیکن ہمیں کیا فکر ہے کہ طالبان حکومت کو دوبارہ ہم پر مسلط نہ کیا جائے ، اور وہ تمام کارنامے اور کوششیں جو مختلف شعبوں میں کی گئیں ہیں برباد ہوجائیں۔ ہم نے ایک بار طالبان حکومت کا تجربہ کیا ہے اور ہم اس کا دوبارہ تجربہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس نمائش کی انچارج فاطمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ دوحہ امن عمل میں افغان اور طالبان کے مابین مذاکراتی وفود کے مابین تعطل ٹوٹ جائے گا اور امن عمل میں تیزی آئے گی۔ ہم دونوں فریقین سے بات چیت کرنے والی ٹیم سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ معاہدے پر ہونے والی دو دہائیوں کی افغان خواتین کی کامیابیوں کو محفوظ رکھیں۔ ورنہ کوئی معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔‘"

افغانستان میں برسوں سے جاری جنگ میں مرد، خواتین، بوڑھے، جوان اور یہاں تک کہ بچے تھک چکے ہیں۔ ملک کے کونے کونے کے لوگ مختلف ثقافتی، معاشی، سیاسی، سائنسی اور فنی پروگرام منعقد کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا پیغام دنیا تک پہنچائیں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اپنے ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔

اس وقت افغان وفد اور طالبان کے مابین جنگ کے خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے دوحہ میں بات چیت جاری ہے اور دونوں فریقین کی طرف سے کوششیں کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد کسی معاہدے کو پہنچا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین