بات تو ضرور ہو گی

آپ اپنی فہرست بنائیں پسندیدہ اور ناپسندیدہ صحافیوں کی جسے آپ نے چاہے اب ختم کر دیا ہو لیکن بہت شکریہ اس کے ذریعے آپ نے اپنے اندر موجود کچھ کرتا دھرتاؤں کی سوچ کی عکاسی کر دی ہے۔

دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ نائجیریا میں ایک شخص اسی قسم کی قانون سازی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان میں جیسے ہی سیاسی درجہ حرات بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طریقے سے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے بحث میں تیزی آ جاتی ہے بہرحال جس کو جو کہنا ہوتا ہے سب کہہ لیتے ہیں۔

یہاں یہ صورت حال نہیں ہے کہ کوئی آپ کی آواز بند کر دے۔ آواز بند نہیں ہوتی لیکن اسے بند کرنے کی ایک طرف چاہے کوشش ہو لیکن ماحول بن جاتا ہے کہ جہاں تہمت بازی، گالم گلوچ اور القابات سے نوازنا اور بے پر کی اڑانا جیسے ہتھ کنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جس سے ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ آپ اپنی رائے کا اظہار کرنے سے پہلے سوچیں۔ بہر حال یہ تو چلتا ہے۔

پچھلے ایک ہفتے میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے تین بڑی دلچسپ پیش رفت ہوئیں۔ ایک تو ہم نے دیکھا کہ کچھ دن پہلے وزیر اعظم عمران خان نے ایکسپریس ٹیلی ویژن کے منصور علی کو ایک انٹرویو دیا۔ جب میزبان نے آزادی اظہار رائے کے حوالے سے سوال اٹھایا اور کچھ اپنی ذات کے بارے میں کہا کہ میں یہ کہتا رہا تو کیا آپ کو برا لگا اس پر وزیر اعظم نے بہت سمجھ بوجھ کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے صحافی ہوتے ہیں کچھ میں زیادہ سمجھ ہوتی اور کچھ میں کم اور کوئی غیر ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن جو مخصوص بات انہوں نے کی وہ یہ کہ ایسے صحافی جو کہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں جو کہ محنت کرتے ہیں اور تجزیہ اچھا کر پاتے ہیں تو وہ ایک معاشرے کا یقینا اثاثہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ہوتے ہیں جو رائے عامہ بناتے ہیں جن کی رائے سے حکومت وقت کے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت کرنی چاہیے اور انسانی سوچ کی ارتقا ہے اس کا ایک بہت اہم جز تنقید ہے۔ لہذا تنقید تو لازمی ہونی چاہیے جو بہت ضروری ہے۔ یہ تو وزیر اعظم نے بڑی اچھی بات کی۔

اس کے کچھ دن بعد جو اس سے جڑی ہوئی بات نہیں لیکن ففتھ جنریشن وارفیئر جس کے بارے میں ہمارے ادارے بھی بات کرتے ہیں سے اس کا تعلق ہے۔ ففتھ جنریشن وارفیئر جس میں آپ میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنے حریف کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک پالیسی اور سوچ کا تعلق ہے تو پاکستان میں اونچے عہدوں پر موجود لوگ کی باتوں کی حد تک تو ایسا نہیں لگتا۔

کچھ دن قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے گلوبل سپیس ولیج میگزین کے چینل کی منیجنگ ڈائریکٹر نجمہ منہاس کو انٹرویو دیتے ہوئے ففتھ جنریشن وار کی بات کی اور کہا کہ بھارت اس کے زریعے پاکستان کی اقتصادیات اور خارجہ پالیسی اور پاکستان کی آرمی پر حملہ کرتا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بھارت فیٹف پر حملہ کرتا ہے، دنیا میں ہمارے خلاف عالمی قوانین کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، ہمارے ہاں جو مسئلے مسائل ہیں ان کو بہت زیادہ اچھالتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں پیش آنے والے آئی جی سندھ کے واقعے کا ذکر کیا کہ اس پر بھارتی میڈیا نے لکھ دیا تھا کہ سول وار ہوگئی۔

انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان میں جو لوگ تنقید کرتے ہیں وہ اس وجہ سے ففتھ جنریشن وار کا حصہ بنتے ہیں بلکہ انہوں نے خاص طور سے یہ کہا کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہاں سوشل میڈیا ایک چیلنج ہے۔ سوشل میڈیا پر سب کھل کر بات کرتے ہیں اس کو سنبھالنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس میں شفافیت ہو اور جو بھی مسئلہ ہو اس کے بارے میں جو درست معلومات اور حقائق ہیں وہ کھل کر بیان کیے جائیں۔ سوشل میڈیا پر چاہے جو بھی مسئلہ زیر بحث ہو یہ بہت اچھی سوچ ہے۔

اس سے آگے بڑھیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوشل میڈیا کے حوالے سے بنائے گئے نئے حکومتی قانون پر بات کی۔ اس موضوع پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اور یہ معاملہ پاکستان بار ایسوسی ایشن عدالت لے گئی۔

اس کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے تنقید بہت ضروری ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19 آپ کو اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی حق دیتا ہے۔ آپ تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل جمہوریت میں تنقید لازمی ہے اور عدالتوں کو بھی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی جس نے سوشل میڈیا کے یہ نئے رولز بنائے تنبیہ کی کہ نئے رولز آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی روح سے انحراف کرتے ہیں اور انہیں حکم دیا کہ ان کو درست کر کے لائیں۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ جب پی ٹی اے کے وکیل نے بھارت کے حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی کہ وہاں بھی یہ کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا ہندوستان جو بھی غلط کرے ہمیں یہ نہیں کرنا۔ ’مجھے آپ ہندوستان کی بات نہ بتائیں۔‘

قصہ مختصر یہ کہ پاکستان میں جو نظام ہے جس میں ایک طرف پی ٹی اے ہے جس نے ظاہر ہے حکومت اور اداروں کے کہنے پر سوشل میڈیا کے قوانین بنائے۔ انہوں نے جو بھی ان کو سمجھ آیا کہ جس سے ملک کا دفاع ہوسکتا ہے وہ کیا تاہم عدالت نے انہیں نہیں مانا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ نظام اس طریقے سے کام کر رہا ہے کہ ایک ادارے نے ایک چیز کی لیکن اگر وہ آئین کی روح سے انحراف کر رہا ہے تو عدالت نے اس پر سوال اٹھایا دیا۔ اس تک یہ بات بہت اچھی اور مثبت ہے۔ اسی زمرے میں اگر وزیر اعظم کی بات کی جائے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو بات کی کہ شفاف معلومات دی جائیں تاکہ ففتھ جنریشن وار سے کم از کم اس طرح کا ملک کے اندر نقصان نہ ہو کہ معاشرے میں لوگوں کو غلط خبر ملے۔

اب زرا سوشل میڈیا پر آتے ہیں۔ اگر ہم آج کوئی بات کریں یہاں تک کہ سوال اٹھائیں کہ مسئلہ آخر کیا ہے؟ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جہاں زیادہ معاملات پر بات چیت ہوتی ہے وہاں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اخبارات اور ٹیلی ویژن جہاں بھی مسائل پر بات ہوتی ہے ان کو بھی آخر میں سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹوئٹر پر لایا جاتا ہے جہاں اس پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی جو بھی رائے ہے اس پر ان کی ٹرولنگ کی جاتی ہے۔ کچھ اکاؤنٹس حکومت اور پی ٹی آئی کے ہیں یا جو اکاؤنٹس پی ٹی آئی کو فالو کر رہے ہیں ان کی حمایت کر رہے ہیں وہ ان لوگوں کی رائے کو پسند نہیں کرتے جو وزیر اعظم یا حکومت کی کسی بات پر تنقید کریں۔

ناصرف یہ کہ آپ حکومت کی کسی پالیسی پر تنقید کریں یا پھر اپوزیشن کو چور نہ کہیں اگر آپ اپوزیشن کو بےایمان نہ کہیں یا اپوزیشن کی کسی بات یا پوزیشن کی وضاحت کرنے لگ جائیں تو اس پر آپ کو لفافہ، چور، چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ وہ سوچ ہے کہ جس کو وہ آپ پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان جو اس ملک کا اثاثہ ہیں ان میں اس طرح کی سوچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ کیسے؟

وہ ایسے کہ جو ادارے احتساب کر رہے ہیں وہ اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اسے چلنے دیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ یہاں یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جس کو چور اور ڈاکو کہا اس میں جو آپ کا ساتھ نہ دے اس پر پیسے لینے کا الزام لگ جاتا ہے۔ ہمارے لیے یہ قابل قبول نہیں ہے اور ہم اس پر بات کرتے رہیں گے۔

آپ جو مرضی کہیں جتنے حملے کریں لیکن اس سوچ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ آپ اپنی مرضی دوسروں پر مسلط نہیں کرسکتے۔ آپ کسی کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے لیکن بالکل اسی طرح دوسرے بھی آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

آپ اپنی فہرست بنائیں پسندیدہ اور ناپسندیدہ صحافیوں کی جسے آپ نے چاہے اب ختم کر دیا ہو لیکن بہت شکریہ اس کے ذریعے آپ نے اپنے اندر موجود کچھ کرتا دھرتا لوگوں کی سوچ کی عکاسی کر دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ