نہیں چاہتا کہ میرا کیریئر اس طرح ختم ہو: عامر خان

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی خواہش ہے کہ انھیں ناک آؤٹ کیا جائے۔ ٹیرنس کرافورڈ سے مقابلے میں انھیں جو مکّا لگا اس کی وجہ سے وہ زیادہ سوچ نہیں پائے۔

عامرخان کے مطابق  وہ اُن باکسرز میں سے ہیں جن کی خواہش ہے کہ انھیں ناک آؤٹ کیا جائے۔ تصویر: روئٹرز

گذشتہ ہفتے شکست سے دوچار ہوجانے والے پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ لڑیں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ایک باکسر کے طور پر دلیری سے بھرا ان کا کیریئر میدان چھوڑ جانے والے شخص کے الزامات کے ساتھ ختم ہو۔

امریکہ کے شہر نیو یارک میں ڈبلیو بی او ویلٹر ویٹ چیمپیئن شپ میں ایک مقابلے کے پانچویں راؤنڈ میں عامر خان کو ٹیرنس کرافورڈ کے ایک مکے کے بعد مقابلہ ختم کرنا پڑا تھا۔

یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس الزام کے بعد کیا ہوا جس میں بعض افراد نے کہا تھا کہ عامر خان نے مقابلہ ترک کردیا۔ کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ آخری فیصلہ کرنے والے باکسر عامر خان کے ٹرینر ورجل ہنٹر ہیں۔

کچھ بھی ہو عامر خان پر جلد ہی میدان چھوڑ جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ باکسنگ کی دنیا میں میدان چھوڑ  دینا ایک سیاہ لفظ ہے۔ مدمقابل باکسر ٹیرنس کرافورڈ نے بھی مقابلے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں عامر خان پر یہی الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ آپ ٹانگ پر پڑنے والی ضرب کی وجہ سے باکسنگ چھوڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب اتوار کو ایسٹرکے موقع پر صبح کے وقت کیمروں سے دور ایک پرسکون گوشے میں بیٹھے عامر خان کا کہنا تھا کہ وہ باکسنگ جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس طرح اپنا کیریئر ختم نہیں کریں گے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق عامرخان کا کہنا تھا کہ وہ اُن باکسرز میں سے ہیں جن کی خواہش ہے کہ انھیں ناک آؤٹ کیا جائے۔ ٹیرنس کرافورڈ سے مقابلے میں انھیں جو مکّا لگا اس کی وجہ سے وہ زیادہ سوچ نہیں پائے۔

عامرخان کو چوتھی مرتبہ مقابلہ ختم ہونے سے پہلے ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دیگر تین شکستیں ظالمانہ اور کچل کر رکھ دینے والی ناک آؤٹ تھیں جن میں سئول کنیلو الواریز(Saul 'Canelo' Alvarez) سے لاس ویگاس میں ہونے والا 2016 کا مقابلہ بھی شامل ہے، جس کے چھٹے راؤنڈ میں عامرخان کو عجیب حالات میں مقابلے سے روک دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’عامر خان کی جرات پر کوئی شک نہیں‘

گذشتہ ہفتے ہونے والا باکسنگ کا مقابلہ حیران کن اور بظاہر اُس سے مختلف تھا جس کے مظاہرے کے لیے عامر خان آئے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ لوگ انھیں میدان چھوڑ جانے والا کہہ رہے ہیں، کیا وہ اس سے پریشان ہیں؟ عامر خان کا جواب تھا کہ ’ہاں! لوگ مجھے میدان چھوڑنے والا کہیں گے تو اس سے مجھے پریشانی ہوگی کیونکہ میں زیادہ گہرائی میں جانتا ہوں اور میں کبھی میدان چھوڑنے والا نہیں رہا۔‘

عامر خان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں بیٹھنا، ویڈیو دیکھنا اور سوچنا ہے کہ اب کیا کرنا ہے؟ ’مجھے اب بھی باکسنگ سے محبت ہے۔ میں نے دنیا کے بہترین باکسرز میں سے ایک کا مقابلہ کیا ہے، میری خواہش ہے کہ برطانیہ واپس جاؤں اور پھر فیصلہ کروں کہ مجھے کیا کرنا ہے لیکن یہ یقینی ہے کہ آپ مجھے پھر باکسنگ کرتا ہوا دیکھیں گے۔‘

عامر خان کو بتایا گیا ہے کہ جس انداز میں ان کے تازہ مقابلے کا اختتام ہوا ہے، اس سے امریکہ میں ان کی ساکھ اتنی بری طرح متاثر ہوگی کہ مستقبل میں انھیں باکسنگ کے بڑے مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔

عامر خان کا کہنا تھا کہ وہ باکسنگ کے عالمی مقابلوں میں حصہ لیں گے اور انھیں عالمی اعزازات کے لیے مقابلے کا موقع ملے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، انھیں وہاں بھی مواقع ملیں گے کیونکہ وہ وہاں باکسنگ کی تربیت دیتے ہیں، لوگ چاہتے ہیں کہ وہ پھر ڈینی گارشیا، کیتھ تھرمین اور مینی پاکیاو جیسے باکسروں کے ساتھ مقابلہ کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل