افغانستان: خواتین کے ریڈیو کے نام عالمی ایوارڈ

قندھار میں خواتین کی دلچسپی پر مبنی مواد نشر کرنے والے 'میرمن' ریڈیو سٹیشن نے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت اظہار  رائے کی آزادی کے لیے انتھک کوششوں پر ایوارڈ حاصل کیا۔

میرمن ریڈیو کی بنیاد 2011 میں قندھار میں  خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن 27 سالہ مریم درانی نے رکھی تھی (تصویر: بشکریہ الیتا ملر ٹوئٹر اکاؤنٹ)

افغانستان کے صوبہ قندھار میں خواتین کی دلچسپی پر مبنی مواد نشر کرنے والے 'میرمن' (پشتو میں خاتون) نامی ریڈیو سٹیشن نے عالمی میڈیا کے نگران ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

اس ریڈیو چینل کو یہ ایوارڈ اظہار رائے کی آزادی کے لیے انتھک کوششوں اور معاشرے میں برابری کے حقوق کے لیے کام کرنے پر  دیا گیا ہے۔ اس ریڈیو کی نشریات  کا زیادہ تر حصہ خواتین کے حوالے سے پروگراموں پر مشتمل ہوتا ہے۔

میرمن ریڈیو کی بنیاد 2011 میں قندہار میں  خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم کارکن 27 سالہ مریم درانی نے رکھی تھی۔ مریم درانی خواتین کے حقوق اور برابری کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے   ٹائمز میگزین 2012  کی 100 با اثر خواتین کی لسٹ میں بھی شامل تھیں۔

ٹائمز میگزین کے مطابق مریم درانی نے امریکن یونیورسٹی آف افغانستان سے قانون اور  پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی اور 21 سال کی عمر میں 2005 میں قندہار کی صوبائی کونسل کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

میرمن ریڈیو افغانستان کا پہلا آزاد ریڈیو سٹیشن ہے، جسے خواتین چلا رہی ہیں۔ 

سٹیشن کی منیجر مریم درانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریڈیو کی نشریات 14 گھنٹوں پر محیط ہیں، جس میں زیادہ حصہ حواتین کے لیے مختص ہے۔ اس حصے میں خواتین کے مسائل اور اس پر بحث ومباحثے کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مریم نے جنہیں سال 2012 میں بہادری کا بین الاقوامی ایوارڈ بھی مل چکا ہے بتایا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ خواتین اپنے حقوق اور مسائل خود حل کریں اور اپنے لیے آواز اٹھا سکیں۔ 'ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کی آواز عوام، حکومت اور دنیا تک پہنچائیں۔ خواتین خود ہی اپنے مسائل پر بات کریں اور باقی  خواتین کے لیے بھی اٹھا سکیں۔'

مریم نے مزید بتایا کہ ان کے ریڈیو سٹیشن میں آٹھ خواتین رپورٹرز  کام کر رہی ہیں جبکہ تین مرد ہیں، اس کے علاوہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طلبہ تربیت کے لیے بھی یہاں آتے ہیں۔

بقول مریم: 'ریڈیو میں کام کرنے والے رپورٹرز میں سے زیادہ تر خواتین ہی ہیں لیکن کچھ مرد رپورٹرز بھی رکھے گئے ہیں کیونکہ بعض  ایونٹس ایسے ہوتے ہیں جہاں خواتین کا جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تو اس کے لیے ہم مرد رپورٹرز کو بھیجتے ہیں۔'

کام کرنے کے دوران مشکلات کے حوالے سے مریم نے بتایا کہ 'ہمارے معاشرے میں خواتین کا کسی ریڈیو سٹیشن میں کام کرنا مشکل ضرور ہے جس میں گھر کی طرف سے مشکلات سر فہرست ہیں جبکہ معاشرتی مشکلات کے ساتھ سکیورٹی کے مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنا کام گذشتہ 10 سال سے جاری رکھا ہوا  ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔'

مریم نے بتایا: 'ہم نے سٹیشن کے اندر خواتین او ر مردوں کے لیے الگ بیٹھنے کی جگہیں بنائی ہیں لیکن کچھ گھرانے اپنی خواتین کو مختلف وجوہات کی بنا پر اجازت نہیں دیتے جس میں سکیورٹی اور  معاشرتی مشکلات شامل ہیں۔'

ریڈیو کے اخراجات کے حوالے سے مریم نے بتایا کہ انہیں مختلف دفاتر، اداروں  اور کاروباری طبقے  کی طرف سے اشتہارات ملتے ہیں، جس طرح باقی میڈیا اداروں کو دیے جاتے ہیں اور اشتہارات کی اسی رقم سے ریڈیو کا خرچہ اٹھایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر