ملتان جلسہ اور لانگ مارچ کی تیاریاں 

لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ کرنے میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ ماضی میں اس طرح کے لانگ مارچز میں پی پی پی اور ن لیگ اپنے مفاد کی ڈیل کر کے نکل گئیں اور قوم کے ہاتھ خالی رہ گئے۔

یہ  ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حزب اقتدار اور اختلاف دونوں سے عوام تنگ ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ نظام پر سے بھی ان کا اعتماد کم ہو چکا ہے(اے ایف پی) 

موجودہ حکومت اور ان کے حمایتیوں نے طے کر لیا ہے کے عقل و دانش کے قریب نہیں جانا۔ ملتان کے جلسے سے پہلے ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جس سے جلسے کی کامیابی یقینی ہو جائے۔ جلسے کے جواب میں کابینہ نے وہی پرانے بیانات دیے جنہیں سن سن کر لوگ تنگ آ چکے ہیں۔ 

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

ملتان میں پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے بیانات سے یہ بات واضع ہے کہ وہ جلسوں کے بعد لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کر چکے ہیں لیکن 2021 لانگ مارچ اور 2014 کے دھرنے میں ایک واضع فرق ہے۔ 2014 میں ایک سیاسی پارٹی اور ایک مذہبی تنظیم اسلام آباد کی طرف چلیں جبکہ تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہو کر پارلیمان کو بچانے میں مصروف تھیں۔

2021 میں ایک سیاسی پارٹی اور ان کے حمایتی انجینیئرز اقتدار میں ہیں جبکہ 11 سیاسی جماعتیں لانگ مارچ میں شامل ہو رہی ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حزب اقتدار اور اختلاف دونوں سے عوام تنگ ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ نظام پر سے بھی ان کا اعتماد کم ہو چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان پارٹیوں پر اس بات کا زور ڈال رہی ہے کہ اقتدار کے حصول میں اتنا آگے نہ جائیں کہ ملک کا نقصان ہو جائے بلکہ قومی سیاسی مذاکرات کے ذریعے نئے عمرانی معاہدے کی بنیاد رکھیں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اگرچہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے ملتان جلسے میں اس بات کا عندیہ دیا کہ لانگ مارچ یقینی ہے لیکن شہباز شریف ہماری اس تجویز پر قائل ہو چکے ہیں کہ قومی سیاسی مذاکرات میں فوج اور عدلیہ کا کوئی کام نہیں۔

یہ مذاکرات سیاسی پارٹیوں کی رہنمائی میں ہونے چاہییں۔ دوسری طرف غرور اور تکبر سے بھرپور حکومت اور ان کے حامی معاملات کو سدھارنے کی بجائے حزب اختلاف کو اس بات پر للکار رہے ہیں کہ وہ اسلام آباد لانگ مارچ لے کر ضرور آئیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ قومی سیاسی مذاکرات پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے پہلے ہوں گے یا بعد میں۔ 

ہم نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کیا ہم پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی حمایت کریں گے یا اس سے علیحدہ رہیں گے۔ اس پر انشا اللہ میں جلد اپنی ٹیم سے مشاورت شروع کروں گا۔ تاہم ہماری لانگ مارچ کی حمایت کا فیصلہ کرنے میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ ماضی میں اس طرح کے لانگ مارچ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں اپنے مفاد کی ڈیل کر کے نکل جاتی ہیں اور قوم کے ہاتھ خالی رہتے ہیں۔

2008 کے لانگ مارچ اور 2014 کے دھرنے میں بھی یہی ہوا۔ یہاں تک کہ 2019 کے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں بھی ڈیل کی کوشش کی گئی۔ اس وقت بھی پی ڈی ایم کے رہنما کنفیوز بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں فوج سے مذاکرات کر کے ڈیل طے کر لو۔

کچھ قومی سیاسی مذاکرات صرف اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ قوانین میں سطحی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ اگلا الیکشن ان کے نام ہو جائے۔ یہ باتیں بھی گردش کرتی رہتی ہیں کہ حکومت اور کچھ پارٹیوں کے لوگ رابطہ کر کے ڈیل طے کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے اپنے حمایتی یوٹیوبرز یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے تاثر یہ ہے کہ پی ڈی ایم بحیثیت ایک تحریک ابھی تک میثاق پاکستان پر متفق نظر نہیں آتی۔ شاید لاہور کے جلسے میں یہ تمام پارٹیاں میثاق پاکستان پر دستخط کر کے عہد کریں۔

جب تک ہمیں اس بات کا یقین نہ ہو کہ قوم کے موجودہ مسائل کو حل کرنے میں پی ڈی ایم کی پارٹیاں سنجیدہ ہیں اس وقت تک شاید ہم لانگ مارچ کی حمایت نہ کر سکیں۔ اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد میں پی ڈی ایم کی پارٹیوں کو اس بارے میں مطلع کروں گا۔ 

تمام تر کوشش کے باوجود ہم سٹیبلشمنٹ کو اس بات پر قائل نہ کر سکے کہ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ سٹیبلشمنٹ تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ میں پی ڈی ایم کی پارٹیوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہماری کئی تجاویز کو پزیرائی بخشی اگرچہ 20 ستمبر کے اعلان کے بعد ہم نے ان سے اتفاق نہ کیا۔

سیاست مفاہمت اور مکالمے کا نام ہے۔ سٹیبلشمنٹ ہمیشہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی ناکام اس لیے رہی کہ مکالمہ اور مفاہمت ان کے مزاج کا حصہ نہیں اور یہی رویہ ان کی لائی ہوئی حکومت کا بھی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ